تہران/واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک): ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے بعد ایران نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اپنے حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب تین مال بردار بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں کی گئی، جس کا مقصد بین الاقوامی بحری راستوں پر جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
ادھر ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان حملوں کے نقصانات یا نتائج کے بارے میں آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔
کویت کی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ملکی فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے متحرک ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر قطر نے بھی ہائی سیکیورٹی الرٹ نافذ کر دیا ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا تھا، کیونکہ حالیہ دنوں میں بحری جہازوں پر حملوں سے عالمی سمندری تجارت کو خطرات لاحق ہوئے تھے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائی بحری جہازوں پر حملوں کا جواب تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں ایسے حملے دوبارہ ہوئے تو امریکا اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دے گا۔







