10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

سندھ اور پنجاب میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ، 800 آئل ٹینکرز پھنس گئے

کراچی: سندھ اور پنجاب میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں رکاوٹ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، جس کی وجہ وفاقی حکومت کے متنازع کینال منصوبے کے خلاف سندھ میں جاری احتجاج اور سڑکوں کی بندش بتائی جا رہی ہے۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کے مطابق لاڑکانہ اور سکھر کے علاقوں میں احتجاجی دھرنوں کے سبب تقریباً 800 آئل ٹینکرز پھنس گئے ہیں، جس سے اندرون سندھ اور پنجاب میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی قلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
او سی اے سی نے چیف سیکریٹری سندھ کو ارسال کردہ خط میں اپیل کی ہے کہ متعلقہ ادارے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور آئل سپلائی کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
ادھر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن اس دوران عوام کی سہولت کا بھی خیال رکھا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں