رحیم یارخان: 1299نجی تعلیمی اداروں میں مستحق بچوں کا 10 فیصد کوٹہ بھی فروخت

رحیم یارخان(بشیر احمد چوہدری سے )1299 پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں 10 فیصد مفت بچوں کی تعلیم کا حکومتی حکم نامہ “علم فروش”مافیا نے ہوا میں اڑا دیا،ضلع رحیم یارخان میں 900 رجسٹرڈ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ 399 نجی تعلیمی ادارے غیر رجسٹرڈ ہونے کے انکشاف نے محکمہ ایجوکیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کردئیے،1974ء کے آرڈیننس کی کھلم کھلا خلاف ورزی،محکمہ تعلیم نے نجی سکولوں کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا،ایک فیصد بچوں کو بھی مفت تعلیم نہ دینے کا انکشاف حکومتی احکامات پر نجی تعلیمی اداروں کا جامع آڈٹ شروع،خلاف ورزی ثابت ہونے پر لائسنس منسوخی اور مالکان کے خلاف کارروائی ہوگی،چیف ایگزیکٹو آفیسر رانا اعظم ۔تفصیل کے مطابق پنجاب بھر کے نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں میں سے 10 فیصد مستحق بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے حکومتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کا تہلکہ خیز انکشاف ہوا ہے،ضلع رحیم یارخان میں قائم 1299 نجی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم کے مقررہ کوٹے پر عملدرآمد نہ کرنے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد محکمہ تعلیم نے نجی تعلیمی اداروں کا ریکارڈ مرتب کرنے اور مکمل جانچ پڑتال کا عمل شروع کردیا ہے۔ایجوکیشن ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں 900 نجی تعلیمی ادارے رجسٹرڈ جبکہ 399 ادارے تاحال غیر رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،جبکہ مبینہ طور پر متعدد نجی تعلیمی ادارے متعلقہ قوانین اور سرکاری احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں میں 10 فیصد بچوں کو مفت تعلیم دینے کی پابندی عائد ہونے کے باوجود ایک فیصد بچوں کو بھی مکمل طور پر مفت تعلیم فراہم نہیں کی جارہی،جس کے باعث مستحق اور غریب خاندانوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہورہے ہیں۔ذرائع کے مطابق درجنوں نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے مفت تعلیم کے نام پر ایسے بچوں کا ریکارڈ ظاہر کیا جاتا ہے جو حقیقت میں مفت تعلیم حاصل نہیں کررہے،جبکہ کئی اداروں میں مستحق بچوں کے داخلے اور فیس معافی سے متعلق ریکارڈ بھی مبینہ طور پر نامکمل پایا گیا ہے۔محکمہ تعلیم نے ان اطلاعات کا نوٹس لیتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں کے داخلہ ریکارڈ،طلبہ کی تعداد،فیس اسٹرکچر،مفت تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تفصیلات اور رجسٹریشن کی مکمل جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔1974ء کے آرڈیننس پر عملدرآمد سوالیہ نشان تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا اور سرکاری احکامات کی پابندی ہر ادارے پر لازم ہے،مگر ضلع رحیم یارخان میں بعض نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر متعلقہ قوانین اور 1974ء کے آرڈیننس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہ کرنے سے صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم کی جانب سے مرتب کیے جانے والے نئے ریکارڈ میں ہر نجی تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن کی حیثیت،طلبہ کی مجموعی تعداد،مفت تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد اور ادارے کی فیس وصولی کی تفصیلات شامل کی جارہی ہیں تاکہ حقائق سامنے لائے جاسکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع میں 399 غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کا سامنے آنا بھی محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،کیونکہ بغیر رجسٹریشن تعلیمی ادارے چلانے سے نہ صرف طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں بلکہ حکومتی قوانین اور نگرانی کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔والدین اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ اداروں کی فوری نشاندہی کرکے انہیں قانونی دائرے میں لایا جائے اور جو ادارے مقررہ شرائط پوری نہیں کرتے ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔نجی تعلیمی اداروں کا جامع آڈٹ،محکمہ تعلیم حرکت میں آگیاچیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی رحیم یارخان رانا محمد اعظم نے کہا ہے کہ حکومتی احکامات کی روشنی میں ضلع بھر کے نجی تعلیمی اداروں کا ریکارڈ مرتب کیا جارہا ہے اور اداروں کے آڈٹ کا عمل شروع کیا جارہا ہے۔تمام نجی تعلیمی اداروں کو قانون اور حکومتی پالیسی کے مطابق کام کرنا ہوگا،10 فیصد مستحق بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے سمیت دیگر قانونی تقاضوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد،فیس ریکارڈ اور مفت تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔اگر کسی ادارے کی جانب سے حکومتی احکامات اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر ادارے کی رجسٹریشن یا لائسنس منسوخ کرنے کے ساتھ مالکان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر فوری ایکشن لیں،والدین اور شہریوں کا مطالبہ دوسری جانب شہریوں اور والدین نے ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع میں 1299 نجی تعلیمی اداروں کی موجودگی اور ان میں 399 غیر رجسٹرڈ اداروں کے انکشاف کے معاملے پر فوری اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے،تمام نجی تعلیمی اداروں کا ریکارڈ طلب کرکے خصوصی آڈٹ کرایا جائے اور 10 فیصد مفت تعلیم کے حکومتی حکم پر عملدرآمد کی حقیقت جانچنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔اہم سوالات جن کا جواب ضروری ہیں: محکمہ تعلیم کی جانب سے مرتب کیے جانے والے ریکارڈ کے بعد کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں کہ ضلع کے 399 غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی ادارے کتنے عرصے سے کام کررہے ہیں؟ان اداروں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد کتنی ہے؟10 فیصد مفت تعلیم کے کوٹے کے تحت کتنے مستحق بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں؟کیا تمام رجسٹرڈ ادارے قانونی تقاضے پورے کررہے ہیں؟اور کیا غیر رجسٹرڈ اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے تعلیمی مستقبل اور فیسوں کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود ہے؟ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام 1299 نجی تعلیمی اداروں کا ریکارڈ شفاف انداز میں سامنے لایا جائے تو مفت تعلیم کے حکومتی حکم پر عملدرآمد اور غیر رجسٹرڈ اداروں کی حقیقت واضح ہوسکتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم اس معاملے میں کس حد تک عملی کارروائی کرتے ہیں اور کیا غریب و مستحق بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت حقیقتاً فراہم کی جاسکے گی یا یہ حکومتی حکم بھی فائلوں اور سرکاری ریکارڈ تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں