

xحتی کہ اظہار رائے کی آزادی اور شہری حقوق کے خلاف محض خطرے کا تصور بھی جمہوریت کو کمزور کر دیتا ہے، قانون نافذ کرنے کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے اور ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے فقدان کو جنم دیتا ہے۔ ایچ آر

نیتن یاہو کی شرمناک تقریربدھ کے روز اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ایک شرمناک منظر تھا۔ یہاں ایک شخص، جس پر غزہ میں 39,000 سے زائد فلسطینیوں کے قتل کی نگرانی کا الزام ہے، کی تقریر پر امریکی

یہ اس وقت کی امریکی سیاست کی ایک علامت ہے کہ موجودہ صدر کی جسمانی اور دماغی صحت ان کے مخالف سے زیادہ تشویش کا باعث ہے، یہاں تک کہ ان کا حریف قاتلانہ حملے سے بچنے کے بعد بھی بھی چاک و چوبند اور چست

یہ ایک مایوس کن قدم ہے جو پورے نظام کو گرا سکتا ہے۔ ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کا منصوبہ حکومت کا سب سے غیر دانشمندانہ اور خود تباہ کن اقدام ہے۔ یہ کچھ بھی نہیں بلکہ سیاسی خودکشی ہے۔ چاہے

افغانستان کی تاریخ ایک مسلسل جدوجہد اور بحرانوں سے بھرپور ہے۔ خاص طور پر سوویت یونین کی مداخلت کے بعد سے، یہ ملک کبھی بھی مکمل امن اور استحکام حاصل نہیں کر سکا۔ ۱۹۷۹ء میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد، افغانستان ایک طویل اور خونی

پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک دیرینہ اور سنگین مسئلہ ہے۔ چاہے وہ بلوچ ہوں یا دیگر نسلی، مذہبی گروہوں کے افراد، یا سیاسی جماعتوں کے کارکن جو حکومت کی نظر میں ناپسندیدہ ہوں، ریاست ہمیشہ ایک ہی پرانی کہانی پر قائم

پاکستان کی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ، جس میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کے لیے اہل قرار دیا گیا، ایک اہم فیصلہ ہے جس کے دور رس سیاسی اثرات ہوں گے۔ یہ فیصلہ

کیا پاکستان اپنی عوام کے ہاتھوں خطرے میں ہے جیسا کہ وزارت داخلہ نے دعویٰ کررہی ہے۔ حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ کے سامنے وزارت داخلہ نے بیان دیا کہ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی برقرار رکھی جائے

اسرائیل نے حال ہی میں مغربی کنارے میں تین دہائیوں کی سب سے بڑی زمین ضبطی کی منظوری دی ہے۔ یہ اقدام فلسطینیوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے بارے میں اس کے اصل ارادے کو واضح کرتا ہے۔دو ریاستی حل کی ناکامی کا یہ ایک

پاکستان کی معیشت کی بحالی کا سوال اب ‘زندگی اور موت کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اب ہر طرف سے ایک ہی آواز آر رہی ہے کہ پاکستان کو ڈوبنے سے بچانا ہے تو معشیت کے باب میں جرآت مندانہ اقدام اٹھانے پڑیں گے۔ لیکن

ایک بار پھر زرعی شعبے کے ماہرین نے زور زور سے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں باغبانی اور فصلوں کی پیداوار پر اتنا بھاری اثر ڈال رہی ہیں کہ اگر صدیوں پرانے بوائی اور آبپاشی کے طریقوں کو ترک کرکے تکنیکی طور پر جدید طریقے

اسلام میں محرم الحرام ان مہینوں میں شمار ہوتا ہے جنھیں امن کے مہینے کہا جاتا ہے۔ اس مہینے کو جب سے واقعہ کربلاء رونما ہوا تب سے شہدائے کربلاء کی یاد میں نہایت عزت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ لیکن شرپسند عناصر نے ہمیشہ

جولائی 2، 2024 کو پاکستان جوڈیشل کمیشن نے جسٹس شفی صدیقی اور جسٹس عالیہ نیلم کو سندھ اور لاہور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کے طور پر نامزد کیا۔ جسٹس صدیقی کی تعیناتی کو سندھ میں سراہا گیا، جبکہ جسٹس نیلم، جو لاہور ہائی کورٹ کی

اس ملک کی حکمران اشرافیہ نے ایک کام بنا کسی تعطل کے ہمیشہ جاری رکھا ہے اور وہ ہے اپنے مفادات کی ہر قیمت پر حفاظت کرنا اور اپنی نا اہلی، مجرمانہ غفلت، بدعنوانی ، لوٹ کھسوٹ،اقربا پروری کے سبب جو معشیت بدحال ہوئی اس کا

جون 20 کو سکھر بیراج کے گیٹ نمبر 47 کے اچانک گرنے سے سندھ کے آبپاشی نظام میں بحران پیدا ہوگیا۔ سات نہروں میں پانی کی تقسیم روکنی پڑی جبکہ صوبے میں خریف کی فصلوں کے لئے آبپاشی کی طلب عروج پر تھی۔ اس واقعے کے

ایران میں گزشتہ ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد اصلاح پسند امیدوار مسعود پزشکین اور سخت گیر رہنما سعید جلیلی کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ تاہم، دونوں امیدوار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے نتیجے میں آئندہ ہفتے دوبارہ انتخابات ہوں گے۔

امریکہ میں 5 نومبر 2024 کو صدارتی انتخابات ہوں گے جن میں نئے صدر کا چناؤ کیا جائے گا- پاکستان جہاں پر اس وقت داخلی سیاسی و معاشی بحرانوں پر بات زیادہ ہو رہی ہے اور عام تاثر یہ ہے کہ شاید پاکستان ہی وہ واحد

وزیر اعظم کی جانب سے تحریک انصاف کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی شاید دیر سے کی جانے والی کوشش کو پی ٹی آئی نے قبل از وقت ختم کر دیا، یہ کوئی نیک شگون نہیں ہے۔تحریک انصاف حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار

پاکستان اور بھارت کو قائم ہوئے 77 سال کا عرصہ ہونے کو آیا ہے اور 16 دسمبر 1971ء سے اب برصغیر ہند تین ممالک کا خطہ بن چکا ہے۔ لیکن شومئی قسمت کے برصغیر ہند میں اب تک تینوں ممالک کے درمیان کھلے تعلقات اور تینوں

پاکستان میں دو ہفتے قبل ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس میں ایک زمین دار نے غصے میں ایک اونٹنی کی ٹانگ کاٹ دی۔ یہ اونٹنی صرف آٹھ ماہ کی تھی۔ مالک نے زمین دار کو قصوروار ٹھہرایا، لیکن پولیس نے زمین دار

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو 32 سیٹوں کی شکست، اور پچھلے نتائج کے مقابلے میں 63 بی جے پی ایم پیز کی کمی نے ان کے خودغرضی کے سفر کو فی الحال روک دیا ہے۔ انہوں نے ایک نئے اور غیر آزمودہ اتحاد کی

کیا وجہ ہے کہ جتھوں کی شکل میں لوگ متشدد کارروائی کرتے ہیں اور بار بارریاست کمزور اور خطرے سے دوچار کسی خاص مذہبی یا نسلی شناخت کے فرد یا گروہ کو اس تشدد اور لاقانونیت سے بچانے میں ناکام ہوجاتی ہے؟اس مہینے دو واقعات ایسے

اور اب آپریشن استحکام پاکستاناپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ملک سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم استحکام کے خاتمے کے لیے نیا آپریشن ‘عزم استحکام آپریشن’ کے نام سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اپیکس کمیٹی

عوام پاکستان: ایک نئی سیاسی جماعتعوام پاکستان کا قیام، جس کی قیادت سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کر رہے ہیں، ہمارے سیاسی منظر نامے میں ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔پاکستان کی سیاست طویل عرصے سے خاندانی جماعتوں کے زیر

وقوعہ سوات: قانون کی بالا دستی کے لیے کیا کیا جائے؟خیبر پختون خوا کے علاقے مدین میں مشتعل ہجوم نے جمعرات کو توہینِ قرآن کا الزام میں پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے سیاح کو زبردستی تھانے سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنانے

اس سال حج کے دوران گرمی کی شدت سے مرنے والوں کی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں سے نصف سے زیادہ غیر رجسٹرڈ عازمین ہیں جنہوں نے سعودی عرب کی شدید گرمی میں یہ فریضہ انجام دیا۔جمعرات کو نئی رپورٹ کردہ اموات

پاکستان کی تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ کا ماورائے آئین کردار کا آغاز 1954 میں ہوا، جب گورنر جنرل غلام محمد نے مرکزی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ اس وقت کے فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس منیر نے اس فیصلے کو قانونی قرار دیا، یہ فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کے

بچوں کی تعلیم پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تعلیم نہ صرف بچوں کو بہتر مستقبل کی راہ دکھاتی ہے بلکہ معاشرتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نسل ملک کی معیشت کو مضبوط کرتی ہے اور

فوری جنگ بندی کی اپیلغزہ میں نو ماہ کی تباہ کن جنگ کے بعد، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بالآخر جنگ بندی کا منصوبہ منظور کر لیا ہے جس سے اس مقبوضہ علاقے میں جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔امریکہ کے زیرِ سرپرستی

اہم معاشی اشاریے پچھلے سال کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ جی ڈی پی کی شرح نمو اس سال 2.38 فیصد رہی جبکہ پچھلے سال یہ منفی 0.21 فیصد تھی (جس کی وجہ “تباہ کن سیلاب، عالمی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی اور ملکی مالیاتی سختی





























