اسلام آباد،واشنگٹن،تہران (بیورورپورٹ ،نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہےکہ مذاکرات کادوسرادورکل جمعہ کوپاکستان میں ہوسکتاہے۔امریکی میڈیانےکہا ہےکہ جنگ بندی 3 سے 5 دن کی ہے۔ٹرمپ ڈیل جلد فائنل کرناچاہتےہیں۔ آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں پر ایرانی فوج کی فائرنگ سے کشیدگی بڑھ گئی،وزیراعظم سے ایرانی سفیر نےملاقات کی، علاقائی استحکام پر اتفاق کیاگیا۔تفصیل کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور کل جمعہ کو پاکستان میںہوسکتا ہے۔امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا۔انہوں نے اس پیش رفت کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر جمعہ کو ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف کے مشیر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔اپنے بیان میں مشیر سپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ ہارنے والا فریق شرائط کا حکم نہیں دے سکتا، ناکہ بندی کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں اور اس کا جواب فوجی ردعمل کے ساتھ ہونا چاہیے۔ادھرامریکی میڈیا نے وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی غیرمعینہ مدت کیلئے نہیں صرف 3 سے 5 دن کےلیے کی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا ایران کو تجویز پیش کرنے کے لیے محدود وقت دینے کا منصوبہ ہے۔ٹرمپ ڈیل کو جلد سے جلد فائنل کرنا چاہتےہیں۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ڈیڈ لائن کا پریشر ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کرے گا۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی انتظامیہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کے حق میں نہیں، امریکا ایران کو مذاکرات میں مزید تاخیر کا موقع نہیں دینا چاہتا۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جنگ میں توسیع معاملے کو سفارتی سطح پر حل کرنے کوظاہرکرتی ہے، امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران پر دباؤ برقرار رکھےگی۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ طویل ناکہ بندی عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن مقرر نہیں کی۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ امور اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال اور امن کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق وزیراعظم اور ایرانی سفیر نے علاقائی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ادھرخلیج میں کشیدگی کے باعث سمندری سکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے جہاں آبنائے ہرمز کے قریب دو مختلف بحری جہازوں پر فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔میری ٹائم ذرائع کے مطابق ایک جہاز نے اطلاع دی کہ اس پر ایران کے ساحل سے تقریباً 8 ناٹیکل میل (15 کلومیٹر) مغرب میں فائرنگ کی گئی، تاہم خوش قسمتی سے تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اس سے چند گھنٹے قبل ایک اور کارگو جہاز پر عمان کے قریب 15 ناٹیکل میل (28 کلومیٹر) شمال مشرق میں فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (برج/کنٹرول روم) کو شدید نقصان پہنچا۔ذرائع کے مطابق متاثرہ جہاز ایم ایس سی فرانسسکا، دمام سے سنگاپور جا رہا تھا۔ایران کی سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ کارروائی ’سمندری قوانین کے نفاذ‘ کے تحت کی گئی کیونکہ متعلقہ جہاز نے جاری کردہ وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔دوسری جانب خلیجی ممالک نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خلیجی ریاستیں مسلسل جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر زور دے رہی ہیں۔ادھرایران کے صدارتی دفتر کے نائب ترجمان نے ایرانی قیادت کے اندر اختلافات کی خبروں کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ایکس پر جاری بیان میں سید مہدی طباطبائی کا کہنا تھا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اختلاف اور تقسیم کی باتیں بے بنیاد ہیں۔علاوہ ازیںایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی اپیل سے متعلق سوال پر اسماعیل بقائی نے پاکستان کی مثبت کوششوں اور خطے میں امن کے لیے ثالثی کردار کو سراہا۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ موجودہ تنازع ایران نے شروع نہیں کیا اورایران کے اقدامات مکمل طور پر اس کے فطری حقِ دفاع کے دائرے میں ہیں۔







