کوٹ ادو: نجی سکول میں پرنسپل کی خواتین ٹیچرزوطالبات سے مبینہ زیادتی، ویڈیوز تیار

کوٹ ادو (نامہ نگار) درندہ صفت نجی سکول کا پرنسپل خواتین ٹیچر اور طالبات کو جنسی ہوس کا نشانہ بناتا رہا، سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے فیمیل ٹیچر اور طالبات کو بلیک میل کرتا اور اپنی خواہشات پوری کرتا۔ عرصہ دراز سے جاری یہ شیطانی کھیل سکول کی چار دیواری میں ہوتا رہا۔ متاثرہ ٹیچر کے سوشل میڈیا پر وائرل جاری بیان کے بعد درجنوں دیگر متاثرہ خواتین نے درندہ صفت بھیڑیا نما انسان کے خلاف ثبوت ایک وکیل کو فراہم کر دیئے، جس نے واٹس ایپ پر غیر اخلاقی میسجز کے سکرین شاٹس پولیس کو پیش کر کے مقدمہ درج کروا دیا۔اس سلسلے میں تفصیل کے مطابق کوٹ ادو میں قائم محمڈن ایجوکیشنل کمپلیکس سکول کا پرنسپل غلام عباس اعوان بے روزگاری اور غربت سے مجبور فیمیل ٹیچر کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا چلا آ رہا تھا۔ مجبور، غریب گھر کی پڑھی لکھی بچیاں گھر چلانے، ماں باپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے پرائیوٹ سکول میں محدود تنخواہ پر نوکری کر لیتی ہیںمگر سکول میں موجود درندہ صفت انسان کی شکل میں موجود بھیڑیے ان کی تنخواہیں روک کر یا ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر انھیں مجبور کر دیتے ہیں۔اس طرح کا ایک واقعہ گزشتہ روز ایک نجی سکول کے سامنے آیا۔ پرنسپل غلام عباس اعوان مجبور، لاچار، غربت سے تنگ خواتین سٹاف کو اپنی جنسی درندگی کا نشانہ بناتا چلا آ رہا تھا۔ شریف گھرانے کی مجبور لڑکیاں بدنامی کے خوف سے چپ رہتی تھیں جس سے اس بھیڑیا نما انسان کا حوصلہ مزید بڑھتا رہا۔مبینہ طور پر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ بھیڑیا نما انسان ٹیچرز کی ویڈیو بنا کر انھیں بلیک میل کرتا اور بات نہ ماننے پر تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالنے کی دھمکی دیتا اور زیر تعلیم طالبات کو لا کر مبینہ طور پر اپنی ہوس کا نشانہ بناتا تھا۔ یہ شیطانی کھیل عرصہ دراز سے سکول کی چار دیواری کے اندر ہوتا رہا۔ شریف گھرانوں کی بچیاں ذلت اور بدنامی کے خوف سے والدین کو نہ بتا سکیں۔گزشتہ روز ایک متاثرہ ٹیچر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پرنسپل محمڈن ایجوکیشنل کمپلیکس کا پرنسپل غلام عباس اعوان مجھ سے زبردستی فحش کرتا، پھر سی سی ٹی وی کیمروں سے تصاویر بنا کر اور ویڈیو دکھا کر بلیک میل کرنے لگا کہ اگر میرے ساتھ غلط مراسم نہیں رکھو گی تو میں یہ تمہارے گھر والوں کو بھیج دوں گا اور سوشل میڈیا پر ڈال دوں گا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دیگر متاثرہ لڑکیوں نے پرنسپل کی طرف سے ان کے واٹس ایپ پر کیے گئے غیر اخلاقی اور نازیبا میسجز اپنے محلے کے ایک وکیل کو دے دیئے۔ بدنامی اور خوف کے باعث وہ خود سامنے نہیں آئیں۔ وکیل مدعی عمر فاروق کی طرف سے میسجز کے سکرین شارٹس پولیس کو فراہم کیے گئے، پولیس نے 29-D کے تحت پرنسپل غلام عباس اعوان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ ایف آئی آر درج ہونےکےبعد روزنامہ قوم نے سکول پرنسپل سے اسکے نمبر 03443944243 پر موقف لینے کیلئے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ہر بار نمبر بند ملا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں