ملتان (کرائم سیل) پاکستان اسلامی جمہوریہ ملک ہے اور اس کے قانون و آئین قران و سنت کے مطابق ہیں۔ دین انصاف کے بجائے عدل کی بات کرتا ہے اور ایک یتیم کے مقابلے میں دو بچوں کو یتیم اور ایک خاتون کو بیوہ کرنا انصاف ہے اور نہ ہی عدل۔ رائل آرچرڈ میں گاڑی تلے کچلے جانے والی یتیم بچے کی موت کسی بھی طور پر قتل عمد نہیں تھی بلکہ یہ قتل خطا یا قتل بالسبب کے زمرے میں آتی تھی لہٰذااس کیس میں کسی بھی طور پر قانون کی دفعہ 302 لگنا جائز نہ تھا بلکہ یہ دفعہ 322 کا کیس تھا اور 322 میں خون بہا ادا کیا جاتا ہے، اس کی سزا نہیں۔ ملزم توقیر نذیر کے ہاتھوں 14 سالہ معصوم بچے وسیم عباس کی موت ایک حادثاتی موت تھی جسے ایف آئی آر میں قتل عمد بنانے کی کوشش کی گئی مگر اس کوشش میں ملتان پولیس بری طرح ناکام اور حسب معمول نالائق ثابت ہوئی کیونکہ جس پولیس سب انسپکٹر لیاقت علی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا اس نے اپنے گھر کا ایڈریس بوہڑ گیٹ کا لکھا جو کہ کسی بھی طور پر جائے وقوعہ پر ان کی موجودگی ظاہر نہیں کرتا۔ یتیم بچے کی موت تو قتل بالسبب تھی اور پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے میں اگر اس کی یتیم بہنوں کو خون بہا مل جاتا تو یہی ہمارے دین کی تعلیمات ہیں اور یہی پاکستان کے قانون کی صحیح تشریح مگر یہاں خوف کا قانون گزشتہ کئی سال سے لاگو ہے جس کا نہ دین سے تعلق ہے اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین سے۔ یتیم 14 سالہ بچے کا قتل تو قتل خطا یا قتل بالسبب ہے البتہ غصے میں یا تکبر میں اس کے پیچھے گاڑی دوڑا کر اسے کچلنے والے توقیر نذیر کی موت 100 فیصد قتل عمد ہے اور دنیا میں اس سے کوئی بچ بھی جائے مگر آخرت میں اس کا حکم جاری کرنے والے اور اس پر عمل درآمد کرنے والے قتل عمد کے ملزم ہی قرار پائیں گے۔ روزنامہ قوم کی ٹیم نے جائے وقوعہ کو دیکھا تو جائے وقوعہ صاف بتا رہا تھا کہ گاڑی گیٹ کے باہر لگے پتھر پر سلپ ہوئی اور اس نے بچے کو بری طرح کچل دیا۔ صوبہ بھر کی تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے بائی لاز میں یہ بات شامل ہے کہ گھر کی چار دیواری اور گیٹ سے باہر سڑک تک کسی بھی طور پر کوئی ایسی ٹائل یا ایسا بلڈنگ میٹریل ڈھلوان پر نہیں لگایا جا سکتا جہاں سے انسان یا کوئی بھی موٹر گاڑی سلپ کر سکتی ہو اور اب پوش علاقوں میں 90 پرسنٹ کنسٹرکشن کی ذمہ داری عورتوں نے سنبھال رکھی ہے اور گیٹ سے باہر بھی ایسی ملائم ٹائلز لگائی جا رہی ہیں جہاں سے لوگ سلپ ہوتے ہیں اور ایک آرتھوپیڈک سرجن کے مطابق اس وجہ سے اکثر ڈھلتی عمر اور ضعیف العمر لوگ سلپ ہو کر اپنی ٹانگوں کی ہڈیاں یا کولہےکی ہڈی تڑوا بیٹھتے ہیں باقی ایماندار زندگی کے سانس چارپائی پر پورے کرتے ہیں کہ سراسر خلاف قانون ہے مگر ہمارے تعمیراتی ادارے بلڈرز اور ڈ ویلپرز کی اس طرف کسی بھی قسم کی کوئی توجہ نہیں۔ جائے وقوعہ پر گاڑی کے ٹائروں کے سلپ ہونے کے آثار موجود تھے جنہیں بعد ازاں صاف کر دیا گیا۔ پنجاب کی تاریخ میں پولیس کے اسی قسم کے عجلت میں کیے گئے فیصلے ہزاروں جانوں کا خراج لے چکے ہیں۔ ہزاروں بچوں کو یتیم اور عورتوں کے سہاگ لوٹ چکے ہیں۔ اس مرتبہ یہ سب سلسلہ اس لیے بھی تکلیف دہ ہے کہ پنجاب میں ایک عورت کی حکمرانی ہے۔ اس صورتحال کے حوالے سے روزنامہ قوم نے جب معروف قانون دان اور سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ شیخ محمد فہیم سے رائے لی تو انہوں نے یہی بتایا کہ ایف آئی آر سراسر غلط دی گئی ہے۔ اگر یہ کیس ٹرائل میں جاتا اور کسی عدالت میں سنا جاتا تو جا ںبحق ہونے والے یتیم بچے کی بہنوں کو اتنا خون بہا ضرور مل جاتا کہ ان کی آ ئندہ زندگی آسانی سے گزر جاتی اور ان کے سر پر یتیمی کی چادر ان کی اگلی زندگی میں بہت سی سہولت لے آتی کیونکہ جانے والا تو واپس نہیں آسکتا تھا۔ایڈووکیٹ شیخ محمد فہیم کا موقف تھا کہ ایف آئی آر پولیس کی مدعیت میں درج کی گئی اور ایف آئی آر میں یہ گنجائش موجود تھی کہ ٹرائل کے دوران 302 دفعہ ٹوٹ جاتی اور اسے 322 میں تبدیل کرکے خون بہا کی ادائیگی کروا دی جاتی جو کہ ایک ٹھیکے دار کی فیملی کے لیے کسی طور پر بھی مشکل نہ تھی مگر پولیس کے اس عجلت میں کیے گئے کمزور فیصلے نے دو بچوں کو یتیم اور ایک خاتون کو بیوہ کر دیا۔’’ قوم‘‘ کی معلومات کے مطابق ملتان پولیس کے سربراہ اختر فاروق نے کسی حد تک روشن ضمیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم توقیر نذیر کو موت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ملزم پر 322 دفعہ لگا کر خون بہا اس کی دو یا تین بہنوں کو دلوایا جائے مگر’’حکم حاکم مرگ مفاجات‘‘ ملتان کے اس ظالم شہری کی موت بہاولپور میں لکھی گئی تھی لہٰذا اسے بہاولپور پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا اور پھر یہ کریڈٹ بہاولپور کی سی سی ڈی نے اپنے ذمے لے لیا جو اس سے قبل بھی بہاولپور کے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو جڑانوالہ سمیت مختلف علاقوں میں لے جا کر موت کے گھاٹ اتار چکی ہے اور کسی بھی قسم کی کارروائی سے محفوظ رہنے کی وجہ سے ان کی جھجک اتر چکی تھی لہٰذا یہ ذمہ داری بھی انہیں سونپ دی گئی جسے انہوں نے منٹوں میں پورا کر دیا۔ دین میں یہ واضح حکم ہے کہ خلیفہ یا امیر یا حکمران کوئی ایسا حکم دے جو کہ قانون اور اخلاقیات کے منافی ہو تو اس پر عمل نہ کرنا قران و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق ہے مگر اس پر عمل کر کے سی سی ڈی بہاولپور دنیا میں تو شاید عزت پا گئی مگر آخرت میں روز محشر کے جہاں کا ترازو کبھی ڈنڈی نہیں مارتا اور جہاں صرف اور صرف انصاف ہوتا ہے اور جہاں کی کرنسی نیکی یا بدی ہے، وہاں انہیں کون بچا پائے گا مگر شیخ سعدی کے بقول طاقت عقل کو کھا جاتی ہے۔







