صادق آباد: ماں کے روپ میں جلاد، معصوم بیٹے پر وحشیانہ تشدد، ویڈیو بناتی رہی، ملزمہ کراچی فرار

صادق آباد (تحصیل رپورٹر) صادق آبادمیںممتا کو شرمسار کر دینے والا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہےجہاں ایک سنگدل جلادماں نے اپنے ہی چار سالہ لختِ جگر کو بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر لہولہان کر دیا۔ ملزمہ نے خود ویڈیو بنائی اور اپنی ہی والدہ کو واٹس ایپ پر بھیجتے ہوئے دھمکی دی کہ ’’اگر بچے کو زندہ دیکھنا چاہتی ہو تو فوری لے جاؤ، ورنہ جان سے مار دوں گی۔‘‘نور کالونی صادق آباد کی رہائشی نیلم ریاض نے اپنے 4 سالہ معصوم بیٹے محمد سبحان پر شدید تشدد کیا۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ نے بچے کے بال نوچے، مشین سے بال کاٹ ڈالے اور مار مار کر اسے لہولہان کر دیا۔ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ اے ایس پی صادق آباد آغا انعام اللہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی جس پر ایس ایچ او تھانہ سٹی جام آفتاب احمد نے پولیس ٹیم کے ہمراہ بروقت کارروائی کر کے بچے کو بحفاظت تحویل میں لے لیا۔ ایس ایچ او جام آفتاب احمد نے بتایا کہ بچے کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اسے طبی امداد دی گئی۔ ان کے مطابق بچہ اب ٹھیک اور تسلی بخش حالت میں ہےجسے عدالتی حکم پر نانی کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ بچے کی نانی جمیلہ بی بی زوجہ ریاض احمدسکنہ چک نمبر 150 پی کی مدعیت میں تھانہ سٹی صادق آباد میں مقدمہ نمبر 1229/26 درج کیا گیا۔ مقدمہ دفعہ 324 (اقدامِ قتل) اور 328-A (بچے پر ظلم) کے تحت ہے۔ درخواست 17 اکتوبر کی رات 8:35 بجے موصول ہوئی۔ ایف آئی آر کے مطابق نیلم ریاض کی 5 سال قبل زاہد علی ولد غفارسکنہ حال کراچی سے شادی ہوئی تھی۔ ایک سال قبل گھریلو ناچاقی پر طلاق ہو گئی جس کے بعد وہ نور کالونی میں رہائش پذیر ہوئی اور بس ہوسٹس کا کام شروع کر دیا۔ مدعیہ کا کہنا ہے کہ ملزمہ اکثر بچے کو مارتی پیٹتی تھی۔ مدعیہ کے مطابق 15 اکتوبر کو شام پانچ بجے کے قریب وہ بیٹی اور نواسے سے ملنے نور کالونی پہنچی تو ملزمہ بچے پر تشدد کر رہی تھی۔ اس نے بال کاٹنے والی مشین سے بچے کے بال کاٹ دیئے اور سوئی سے سر اور گال پر وار کیے جس سے خون بہنے لگا۔ مدعیہ کے بقول ملزمہ نے بچے کو زمین پر لٹا کر جان سے مارنے کی نیت سے ایک پاؤں اس کی گردن اور دوسرا پیٹ پر رکھ دیاجس سے بچے کی سانس پھولنے لگی۔ شور سن کر گواہان محمد آصف(سکنہ بستی میاں صاحب) اور محمد آصف (سکنہ چک نمبر 150 پی) پہنچ گئے اور منت سماجت کر کے بچے کی جان بخشی کروائی۔ بچے کو علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔ ایس ایچ او کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمہ طلاق یافتہ ہے اور بچے کو اپنے اوپر بوجھ سمجھتی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے بچے کو نانی کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر تشدد کیا اور ویڈیو خود بنا کر بھیجی۔ ملزمہ مسافر کوچ پر ملازمت کرتی ہے اور واقعے کے بعد کراچی فرار ہو چکی ہے۔ اے ایس پی آغا انعام اللہ کی نگرانی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ مقدمے کی تفتیش ایس آئی محمد اکمل فاروق کر رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں