مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز

تازہ ترین

ایف بی آر کی سکیم کی ناکامی اور عوام پر نئے بوجھ کا خدشہ

پاکستان میں ٹیکس نظام کی اصلاح، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور قومی خزانے کی آمدن بڑھانے کے دعوے ایک عرصے سے کیے جا رہے ہیں، لیکن عملی نتائج اب بھی کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ریٹیلرز کے لیے متعارف کرائی گئی آسان ٹیکس سکیم کے تحت اب تک صرف 1571 گوشواروں کا جمع ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔ دوسری طرف مجموعی طور پر 37 لاکھ دکانداروں کے ٹیکس نیٹ سے باہر ہونے کی اطلاعات ٹیکس نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک میں لاکھوں کاروباری افراد معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تو ان کی بڑی تعداد کو ٹیکس نظام کا حصہ بنانے میں مشکلات کیوں پیش آ رہی ہیں؟ کیا مسئلہ صرف دکانداروں کی عدم تعمیل ہے یا حکومتی پالیسی، رجسٹریشن کے طریقۂ کار اور ٹیکس نظام پر اعتماد کی کمی بھی اس میں کردار ادا کر رہی ہے؟ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر سے بڑھا کر 31 اکتوبر 2026 کر دی ہے۔ ادارے کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 69 لاکھ گوشوارے موصول ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ 72 ارب روپے ٹیکس ادا کیا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 52 لاکھ گوشوارے جمع ہوئے تھے، تاہم اس وقت ادا کیے گئے ٹیکس کی رقم زیادہ تھی۔ یہ فرق محض گوشواروں کی تعداد سے ٹیکس نظام کی کامیابی یا ناکامی کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں، لیکن اس بات کا تقاضا ضرور کرتا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے رجحانات، ٹیکس دہندگان کی آمدن اور وصول شدہ رقم کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ اگر گوشواروں کی تعداد بڑھنے کے باوجود ٹیکس وصولی میں متوقع اضافہ نہیں ہو رہا تو اس کی وجوہات جاننا ضروری ہے۔ حکومت کو اعدادوشمار کی بنیاد پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ نئے گوشواروں سے کتنی اضافی آمدن حاصل ہوئی اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے اقدامات کس حد تک مؤثر ثابت ہوئے۔
ریٹیلرز کی آسان ٹیکس اسکیم کی صورت حال زیادہ توجہ طلب ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس اسکیم کے تحت صرف 1,571 گوشوارے جمع ہوئے، جبکہ ٹیکس کی مجموعی رقم تقریباً 14 کروڑ روپے ہے۔ ایف بی آر بڑے شہروں میں ان علاقوں اور مارکیٹوں کی نشاندہی بھی کر چکا ہے جہاں کے دکانداروں کو اسکیم میں شامل ہونا ہے۔ اس کے باوجود کم تعداد میں گوشوارے جمع ہونا پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ محض اسکیم متعارف کرانا کافی نہیں؛ اس کے لیے آسان رجسٹریشن، واضح شرائط، مؤثر آگاہی اور ایسا نظام بھی درکار ہے جس میں چھوٹے کاروباری افراد اپنی ٹیکس ذمہ داریوں کو سمجھ سکیں اور انہیں پورا کرنے میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔حکومت کی جانب سے 31 اکتوبر کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد نادہندگان کے خلاف کارروائی کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے میں پہلے مہینے 10 ہزار، دوسرے مہینے 25 ہزار اور تیسرے مہینے 50 ہزار روپے جرمانے عائد کرنے، جبکہ دوسرے مرحلے میں دکانیں اور کاروباری مقامات سیل کرنے کی تجویز ہے۔ یہ کارروائی دو لاکھ سے پانچ لاکھ تک ریٹیلرز کے خلاف متوقع بتائی گئی ہے۔ قانون پر عمل درآمد اور ٹیکس چوری کی روک تھام ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اس عمل میں شفافیت، یکساں معیار اور قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔ کاروبار بند کرنے جیسے سخت اقدامات سے پہلے ہر معاملے میں متعلقہ ٹیکس دہندہ کو نوٹس، وضاحت کا موقع اور قانونی چارہ جوئی کے دستیاب طریقے فراہم کیے جانے چاہییں۔ کارروائی کا مقصد صرف جرمانے وصول کرنا نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ٹیکس تعمیل کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے حکومت کو دکانداروں اور تاجروں کے تحفظات بھی سنجیدگی سے سننے ہوں گے۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس قوانین کی پیچیدگی، حساب کتاب رکھنے کی مشکلات اور مختلف سرکاری تقاضوں کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔ اگر آسان ٹیکس اسکیم واقعی چھوٹے ریٹیلرز کو سہولت دینے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے تو اس کی شرائط سادہ، قابلِ فہم اور قابلِ عمل ہونی چاہییں۔ ایف بی آر کو مارکیٹوں میں آگاہی مراکز، آن لائن رہنمائی اور فوری معاونت کا نظام قائم کرنا چاہیے تاکہ دکانداروں کو رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کے لیے غیر ضروری طور پر ایجنٹوں یا پیچیدہ طریقۂ کار پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ ٹیکس ادائیگی کے لیے اعتماد پیدا کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا قانون کا نفاذ۔
اسی دوران انکم ٹیکس رولز 2002 میں متبادل تنازعاتی حل کی کمیٹیوں سے متعلق ترامیم بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ سیکشن 134 اے کے تحت ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے درخواست، نامزد نمائندے کی تفصیلات، شناختی دستاویزات، رابطے کی معلومات اور حلف نامے سمیت مختلف تقاضے مقرر کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان کے معاوضے بھی متنازع ٹیکس واجبات کی رقم کے مطابق طے کیے گئے ہیں۔ پانچ کروڑ روپے تک کے تنازعے میں چیئرمین کے لیے تین لاکھ اور ہر رکن کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے، جبکہ پانچ کروڑ روپے سے زائد کے تنازعے میں چیئرمین کے لیے پانچ لاکھ اور ہر رکن کے لیے ڈھائی لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں، تاہم متعلقہ قواعد کے مطابق بعض سرکاری افسران اس معاوضے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ کمیٹی کے غیر فعال یا تحلیل ہونے اور کسی رکن کے ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہونے کی صورت میں رقم کی واپسی سے متعلق شرائط بھی اہم ہیں۔متبادل تنازعاتی حل کا بنیادی مقصد طویل قانونی کارروائیوں کے بجائے ٹیکس اختلافات کو نسبتاً مؤثر انداز میں حل کرنا ہونا چاہیے۔ تاہم درخواستوں کی پیچیدگی، غیر ضروری تاخیر یا کمیٹیوں کی غیر فعالیت اس مقصد کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نئی ترامیم پر عمل درآمد شفاف ہو، مقررہ مدتوں کی پابندی کی جائے اور ٹیکس دہندگان کو اپنے مقدمات کی پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔ معاوضے اور فیس کا نظام بھی اس انداز میں چلنا چاہیے کہ غیر جانب داری، جواب دہی اور سرکاری وسائل کے درست استعمال پر کوئی سوال نہ اٹھے۔پاکستان کو پائیدار معاشی استحکام کے لیے وسیع اور منصفانہ ٹیکس نظام درکار ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر زیادہ بوجھ ڈالنا یا نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرنا کافی نہیں۔ حکومت کو ٹیکس نیٹ سے باہر کاروباری طبقے کو نظام میں لانے، ٹیکس قوانین آسان بنانے، وصولیوں میں شفافیت پیدا کرنے اور تنازعات کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ایف بی آر کی کامیابی کا پیمانہ صرف جرمانوں، نوٹسوں اور بند کی گئی دکانوں کی تعداد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنے نئے کاروبار مستقل ٹیکس دہندگان بنے، ٹیکس وصولیوں میں کتنا پائیدار اضافہ ہوا اور نظام پر عوام کا اعتماد کس حد تک بہتر ہوا۔ ٹیکس اصلاحات اسی وقت کامیاب ہوں گی جب قانون کی عمل داری کے ساتھ سہولت، انصاف اور شفافیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں