مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز

تازہ ترین

معصوم خوابوں پر گرتی ہوئی چھتیں

​جب کسی قوم کے بچے اپنے ہاتھوں میں قلم، بستہ اور کتابیں تھام کر مسکراتے ہوئے اسکول کی دہلیز پار کریں اور چند گھنٹوں بعد ان ہی معصوم پھولوں کے لاشے ملبے سے نکالے جائیں، تو یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ پوری ریاست، معاشرے اور نظامِ انصاف کے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ ہوتا ہے۔ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی تین منزلہ عمارت کا زمین بوس ہونا اور اس کے نتیجے میں 34 معصوم نونہالوں سمیت استاد کا جان کی بازی ہار جانا کوئی ناگہانی آفت نہیں، بلکہ مجرمانہ غفلت، بے حسی اور حرص و ہوس کا شاخسانہ ہے۔تصور کیجیے ان ماؤں کا، جنہوں نے صبح اپنے لختِ جگروں کو تیار کر کے، ان کے ماتھے چوم کر رخصت کیا تھا۔ کسی کا بچہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھ رہا تھا تو کوئی انجینئر یا استاد بن کر اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بننے کی تمنا دل میں سجائے بیٹھا تھا۔ لیکن تعلیمی درسگاہ کی چھت ان معصوموں کی قبر بن گئی۔ جب اسپتالوں کی راہداریوں سے سسکیاں، چیخیں اور بین گونجے، تو پتھر دل بھی پگھل گئے۔ جن کاندھوں پر ان پھولوں کے بستے ہونے چاہیے تھے، آج ان پر سفید کفن میں لپٹے ننھے تابوت تھے۔ یہ منظر اس قدر دلدوز ہے کہ کوئی بھی باضمیر انسان اشکبار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ہماری ستم ظریفی دیکھیے کہ جیسے ہی کوئی ایسا المناک سانحہ رونما ہوتا ہے، روایتی سرکاری مشینری فوراً حرکت میں آ جاتی ہے۔ مذمتی بیانات کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے، اعلٰی سطحی تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل پا جاتی ہیں، چند ماتحت اہلکاروں کو معطل کر دیا جاتا ہے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی معاوضے کا اعلان کر کے فائلیں داخلِ دفتر کر دی جاتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ماں کی گود کا اجڑنا چند لاکھ روپوں کا محتاج ہے؟ کیا کسی باپ کے بڑھاپے کا سہارا چھن جانے کا مداوا محض تسلی بخش بیانات سے ممکن ہے؟ ہر سانحے کے بعد تحقیقات کا حکم” دیا جانا دراصل اپنی غفلت پر پردہ ڈالنے کا ایک روایتی حربہ بن چکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس سانحے کی جڑیں ہمارے اس نظام میں پیوست ہیں جہاں تعلیم اب خدمت یا مشن نہیں رہی بلکہ ایک منافع بخش اور بے لگام کاروبار بن چکی ہے۔ گلی محلوں میں تنگ و تاریک، پرانی اور غیر معیاری عمارتوں میں اسکول کھول لیے جاتے ہیں۔ نہ وہاں ایمرجنسی راستے ہوتے ہیں، نہ آگ بجھانے کے انتظامات اور نہ ہی بلڈنگ سیفٹی کوڈز کا دور دور تک کوئی نام و نشان ملتا ہے۔ ایک چھوٹی سی رہائشی عمارت پر بنا کسی تکنیکی جائزے کے تیسری اور چوتھی منزلیں تعمیر کر دی جاتی ہیں، اور معصوم بچوں کو کمروں میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیا جاتا ہے۔ عمارت کی دیواریں اور ستون اس غیر قانونی بوجھ کو سہارنے سے قاصر ہوتے ہیں، اور بالآخر نتیجہ وہی نکلتا ہے جو پشاور کے اس اسکول میں دیکھنے کو ملا۔یہاں سب سے بڑا سوالیہ نشان پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی” (PSRA)، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔ یہ ادارے کیا صرف سالانہ فیسیں وصول کرنے، رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے یا دفاتر میں بیٹھ کر فائلوں پر مہریں لگانے کے لیے بنائے گئے ہیں؟ جب یہ عمارت رجسٹرڈ ہو رہی تھی تو کس انجینئر نے اس کے اسٹرکچر کو محفوظ قرار دیا تھا؟ کس انسپکٹر نے معائنہ کر کے اجازت نامہ جاری کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن، اقربا پروری اور چشم پوشی کے گٹھ جوڑ نے انسانی جانوں کو کوڑیوں کے مول کر دیا ہے۔ کاغذات پر سب ٹھیک دکھا دیا جاتا ہے اور زمینی حقیقت پر تب نظر پڑتی ہے جب درجنوں معصوم لاشیں ملبے سے برآمد ہوتی ہیں۔اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ مستقبل میں کسی اور ماں کی گود نہ اجڑے، تو روایتی بیانات سے نکل کر انقلابی اور بے لچک اقدامات اٹھانا ہوں گے۔اس سانحے میں صرف اسکول کے مالک کو گرفتار کر کے کھاناپوری نہ کی جائے، بلکہ ان تمام سرکاری افسران، انسپکٹرز اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذمہ داران کو بھی نامزد کر کے عبرتناک سزائیں دی جائیں جنہوں نے نذرانے لے کر یا غفلت برتتے ہوئے اس خستہ حال اور غیر معیاری عمارت کی منظوری دی۔ جب تک کرپٹ بیوروکریسی اور نااہل عملے کو کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا، سدھار ممکن نہیں۔پورے ملک اور بالخصوص گنجان آباد علاقوں میں موجود تمام نجی و سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا فوری اور غیر جانبدارانہ “اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ” کرایا جائے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل اور آزاد ماہرین پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔ جو عمارتیں رہائشی نقشوں پر بنائی گئی ہیں یا بلڈنگ کوڈز پر پورا نہیں اترتیں، انہیں فی الفور سربمہر کیا جائے اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ریگولیٹری اداروں کے طریقہ کار کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور عوامی بنایا جائے۔ ہر تعلیمی ادارے کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ اپنی بلڈنگ کا فٹنس سرٹیفکیٹ اسکول کے مرکزی دروازے پر آویزاں کرے تاکہ والدین کو علم ہو کہ ان کے لختِ جگر جہاں علم حاصل کر رہے ہیں، وہ جگہ ان کی جان کے لیے محفوظ بھی ہے یا نہیں۔​پشاور کا یہ سانحہ محض عمارت کی چھت گرنے کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے انتظامی وقار، اجتماعی ضمیر اور حکومتی رٹ کے زمین بوس ہونے کا نوحہ ہے۔ اگر اب بھی ریاست خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئی اور مجرموں کو کڑی سزا دے کر ایک سخت اور شفاف نظام وضع نہ کیا گیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ معصوم بچوں کے خون کا قرض تب ہی اترے گا جب ہمارا تعلیمی نظام بچوں کے لیے موت کا جال بننے کے بجائے واقعی امن، تحفظ اور روشنی کا گہوارہ بنے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں