ملتان (قوم نیوز) ملتان میں شہریوں کو خوف زدہ کرکے رقم بٹورنے کے لیے نیا طریقۂ واردات استعمال کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ نامعلوم کالرز والدین
اور اہل خانہ کو فون کرکے ان کے نوجوان بچوں کو کسی جرم میں پکڑے جانے کی اطلاع دیتے ہیں اور بعدازاں بچے کی رہائی کے نام پر رقم منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شکایات کے مطابق اس طریقے میں والدین کی اپنے بچوں سے وابستہ فطری تشویش اور اچانک پیدا ہونے والی پریشانی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسی کال موصول ہونے پر وہ فوری طور پر گھبرا جاتے ہیں اور بعض اوقات صورت حال کی تصدیق کیے بغیر کال کرنے والے کی باتوں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔مبینہ نوسربازی کے اس طریقۂ واردات کے مطابق کالر سب سے پہلے شہری کو یہ اطلاع دیتا ہے کہ اس کا نوجوان بیٹا یا کوئی قریبی عزیز کسی جرم میں پکڑا گیا ہے۔ اس اطلاع کے ساتھ ہی شہری کو ریکارڈ شدہ روتی ہوئی آواز سنوائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچے سے بات کرلے۔ دوسری جانب سے مدد کے لیے پکارنے جیسی آواز سنائی دیتی ہے، تاہم مبینہ طور پر آواز واضح نہیں ہوتی اور شہری کو یہ سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے کہ حقیقت میں کون بات کررہا ہے اور اس کے ساتھ کیا صورت حال پیش آئی ہے۔ اچانک ملنے والی اس اطلاع اور رونے کی آواز کے باعث والدین شدید ذہنی دباؤ میں آجاتے ہیں اور اپنے بچے کی خیریت کے بارے میں فکرمند ہوکر فوری طور پر کوئی قدم اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔شکایات کے مطابق کال کرنے والا شخص اس موقع پر گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے شہری سے پوچھتا ہے کہ اب کیا کرنا ہے، بچے کو تھانے یا حوالات بھیج دیا جائے یا کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا جائے۔ اس طرح شہری کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے بچے کی گرفتاری اور رہائی کا معاملہ کالر کے اختیار میں ہے۔ والدین جب پریشانی کے عالم میں منت سماجت کرتے اور بچے کو چھوڑنے کی درخواست کرتے ہیں تو مبینہ طور پر کالر رقم کی منتقلی کا راستہ بتاتا ہے۔ شہری کو موبائل ایپ کے ذریعے رقم بھیجنے کے لیے کہا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ رقم موصول ہونے کے بعد بچے کو رہا کردیا جائے گا۔ اس مرحلے پر پریشان حال شہری اپنے بچے کو فوری مشکل سے نکالنے کی امید میں رقم منتقل کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔
شہریوں کی شکایات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ رقم موبائل ایپ کے ذریعے منتقل ہونے کے بعد کال کرنے والا شخص اپنا موبائل نمبر بند کردیتا ہے یا رابطے سے گریز کرتا ہے۔ اس کے بعد متاثرہ شہری کے لیے کالر سے دوبارہ رابطہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ رقم وصول کرنے والے شخص تک رسائی ممکن نہیں رہی۔ اس صورت حال میں شہری کو مالی نقصان کے ساتھ ذہنی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔شہریوں نے اس بات کابھی انکشاف کیاکہ وہ بچےکانام بالکل ٹھیک پکارتے ہیں۔انہیں یہ معلومات کیسے حاصل ہوتی ہیں؟کیانادراریکارڈانکے پاس ہوتاہےیاکوئی اورطریقہ کاراختیارکیاجاتاہے؟ملتان میں بھی اس نوعیت کی مبینہ جعلی کالز کے حوالے سے شکایات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ شکایت کنندگان نے موبائل نمبر 03256980525 کی نشاندہی کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس نمبر سے شہریوں کو فون کرکے ڈرایا دھمکایا جاتا اور بھاری رقم منتقل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق اس نوعیت کی متعدد شکایات سامنے آچکی ہیںجس کے باعث معاملے کی باقاعدہ تحقیقات اور کالز کے پس منظر کا تعین ضروری ہے۔شہریوں نے سائبر کرائم ایجنسی، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور ملتان پولیس کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوعیت کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ نوسربازی کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں۔ شکایات میں سامنے آنے والے موبائل نمبرز، کالز کی تفصیلات اور رقم منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اکاؤنٹس یا ذرائع کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے تاکہ ذمہ دار افراد کی شناخت ممکن ہوسکے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی گروہ کی جانب سے دھوکا دہی اور شہریوں سے رقم بٹورنے کے شواہد سامنے آئیں تو ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔عوامی حلقوں کے مطابق ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس اور سائبر کرائم سے متعلق اداروں کی کارروائی کے ساتھ شہریوں میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کی گرفتاری یا کسی ہنگامی صورت حال کی اطلاع ملنے پر پہلے بچے کے معلوم شدہ نمبر پر رابطہ کریں، اہل خانہ یا متعلقہ شخص کے ذریعے تصدیق کریں اور کسی نامعلوم کالر کے دباؤ میں آکر رقم منتقل نہ کریں۔ اگر کوئی شخص رہائی کے نام پر رقم مانگے تو کال کی تفصیلات، نمبر، پیغامات اور رقم کی منتقلی سے متعلق دستیاب شواہد محفوظ کرکے متعلقہ ادارے کو شکایت دی جائے۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بروقت تحقیقات، مؤثر کارروائی اور عوامی آگاہی کے ذریعے اس نوعیت کی مبینہ نوسربازی کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے گی۔







