بجلی کمپنیوں کے غیر قانونی جرمانے، میپکو، لیسکو کے صارفین کو بڑے جھٹکے، ایک لاکھ شکایات

ملتان(قوم ریسرچ سیل) غیرقانونی جرمانوں کیخلاف 1 لاکھ سے زائد بجلی صارفین کی الیکٹرک انسپکٹرفورم کودرخواستیں،70فیصد فیصلے متاثرہ صارفین کے حق میں ہونے کاانکشاف، میپکو سمیت بجلی کمپنیوں کی من مانیوں، غلط ڈٹیکشن بلز، غیر قانونی جرمانوں اور اوور بلنگ کے خلاف عوامی احتجاج شدت اختیارکرگیا، ملتان سمیت پنجاب بھر میں متاثرہ صارفین کی جانب سے محکمہ توانائی کے الیکٹرک انسپکٹرز کے فورم سے رجوع کرنے کی شرح میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران میپکو، لیسکو، فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کے دائرہ کار میں آنے والے ایک لاکھ سے زائد متاثرہ صارفین نے بجلی کمپنیوں کے ناجائزجرمانوں و چارجز کے خلاف الیکٹرک انسپکٹرز کے دفاتر میں اپیلیں دائر کر دیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر سال اوسطاً 30 سے 40 ہزار سے زائد صارفین اپنے بلوں میں ڈالے گئے لاکھوں روپے کے ڈٹیکشن چارجز /جرمانوں کی منسوخی کے لیے اس قانونی فورم کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں، سب سے زیادہ شکایات میپکواور لیسکو کے علاقوں سے سامنے آئیں جہاں صارفین نے موقف اختیار کیا کہ بجلی کمپنیاں نیپرا قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے یکطرفہ ڈٹیکشن بل شامل کر دیتی ہیں،چیکنگ وکارروائی صارف یااس کے نمائندہ کی موجودگی میں نہیں کی جاتی۔نہ ہی موقع کے 2 پرائیویٹ گواہ ہوتے ہیں۔نہ ہی صارف کو پیشگی نوٹس دیاجاتاہے اورنہ ہی متعلقہ ایکسین کے پاس شنوائی کاکوئی موقع دیاجاتاہے۔ الیکٹرک انسپکٹرز کے فورم پر کیسز کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 70 فیصد کے قریب فیصلے صارفین کے حق میں آئے ہیں جس کی وجہ سے میپکوسمیت ڈسٹری بیوشن بجلی کمپنیوں کو کروڑوں روپے کے من گھڑت جرمانے و چارجز واپس لینے پڑے، قانونی ماہرین کے مطابق نیپرا کی جانب سے اوور بلنگ کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد عوام میں اپنے حقوق کا شعور بیدار ہوا ہے اور لوگ وکیل کے بغیر ہی الیکٹرسٹی ایکٹ کے تحت قائم اس بااختیار فورم سے ریلیف حاصل کر رہے ہیں جہاں التوا کا شکار کیسز کو تیزی سے نمٹانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ محکمہ توانائی کے حکام نے بھی تمام الیکٹرک انسپکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے غیر قانونی یکطرفہ اقدام سے متاثرہ شہریوں کو بلا تاخیر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں