نئی اکائیاں، شفاف احتساب

کسی بھی فلاحی اور پروقار ریاست کا اصل حسن اس کے نظامِ احتساب، کھلی شفافیت اور عوامی اعتماد کی پختگی میں جھلکتا ہے۔ ایک بااصول معاشرے کا تقاضا ہے کہ عوامی خزانے کی پائی پائی کا حساب صاف اور کھلی کتاب کی طرح عیاں ہو تاکہ عوام کا اپنی ریاست پر غیر متزلزل ایمان قائم رہے۔ لیکن جب انتظامی ڈھانچہ اتنا بے ہنگم، وسیع اور فاصلوں پر مبنی ہو جائے کہ فیصلے کرنے والے ایوان عام آدمی کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں، تو شفافیت کا دائرہ خودبخود سکڑنے لگتا ہے۔ دارالحکومت کی دور دراز عمارتوں میں بیٹھے اربابِ اختیار تک نہ تو عام شہری کی آواز بروقت پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی ترقیاتی فنڈز کی اصل حقیقت کو پرکھنا آسان رہتا ہے۔ اقتدار کو عوام کی آنکھوں کے سامنے لانا ہی دراصل شفافیت کا نقطۂ آغاز ہے۔نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل عوامی فنڈز کے تحفظ اور شفاف نگرانی کا سب سے موثر اور پائیدار حل بن کر ابھرتی ہے۔ جب اکائیاں مختصر، چست اور متوازن ہوں گی تو حکومتی مشینری کا ہر پرزہ مقامی آبادی کی براہِ راست نگرانی میں آ جائے گا۔ ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے، سڑکوں کی تعمیر، اسپتالوں کی ادویات کی خریداری اور تعلیمی بجٹ کا استعمال کسی دور افتادہ دفتر کی صوابدید پر نہیں رہے گا، بلکہ اس کی تفصیلات مقامی پریس، شہری حلقوں اور نمائندوں کے سامنے ہوں گی۔ جب محکموں کے اعلیٰ افسران شہریوں کی روزمرہ دسترس میں ہوں گے تو غفلت اور کاغذی کارروائیوں کا خاتمہ خودبخود یقینی بنے گا اور ریاستی دولت حقیقی معنوں میں عوامی فلاح کے آنگن کو سیراب کرے گی۔اس انتظامی قربت کا سب سے شاندار ثمر عام شہری کے اندر مدفون احساسِ ملکیت کا جاگ اٹھنا ہے۔ جب ایک کاشتکار، تاجر، استاد اور محنت کش یہ دیکھے گا کہ اس کے خطے کی تعمیر کے فیصلے اس کے اپنے ہی قصبے یا قریبی مرکز میں ہو رہے ہیں اور اس کے مشورے کو عزت دی جا رہی ہے، تو وہ نظام کا محض خاموش تماشائی بننے کے بجائے اس کا سب سے بڑا محافظ اور نگہبان بن جائے گا۔ چھوٹی اکائیوں میں کارکردگی کو ناپنا بے حد آسان ہوتا ہے؛ اچھے کام کی ستائش فوری طور پر سامنے آتی ہے اور کوتاہی چھپائے نہیں چھپتی۔ اس کھلے پن سے اداروں کے اندر خدمت کا نیا جذبہ اور دیانت کا نیا چلن پروان چڑھتا ہے۔ریاست کی اخلاقی ساکھ اور استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا نظم و نسق سائل کے کتنا قریب اور سچائی پر کتنا کاربند ہے۔ نئی انتظامی اکائیاں حکومت اور شہری کے درمیان حائل عدم اعتمادی کے دبیز پردے کو گرا کر دونوں کو ایک ہی میز پر لا کھڑا کرتی ہیں۔ جب عوامی فنڈز کی امانت مقامی دیانت کے ساتھ خرچ ہوگی، تو ہر بستی میں پائیدار ترقی کے چراغ جل اٹھیں گے اور بدگمانیوں کی جگہ باہمی فخر کا سویرا طلوع ہوگا۔ یہی شفاف ادارے، بیدار شہری اور چاق و چوبند صوبائی نظام دراصل ایک باوقار، خوددار اور تابناک پاکستان کی سب سے معتبر اور درخشاں بنیاد ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں