ملتان میں گینگسٹرز، منشیات، بھتہ خوری، سیاسی مداخلت، ٹاؤٹ مافیا نئے سی پی او کیلئے چیلنج

ملتان(اعجازمرتضیٰ سے) ملتان میں گینگسٹرز ،قتل،اغوا، ڈکیتیوں، سٹریٹ کرائمز،منشیات فروشی،بھتہ خوری، سیاسی مداخلت،ٹائوٹ مافیا سمیت سنگین جرائم نئے سی پی اوا ختر فاروق کیلئے چیلنج ! ذرائع کے مطابق ستارۂ امتیاز سے نوازے گئے پی ایس پی آفیسر اختر فاروق کا شمار محکمے کے انتہائی سخت گیر اور آپریشنل افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے بطور ڈی پی او میانوالی کے پی کے کی سرحد سے ملحقہ حساس ترین خطے میں خوارج اور دہشت گردوں کے متعدد خونریز حملوں کو ناکام بناتے ہوئے فرنٹ لائن پر خود کمانڈ کی اور10 سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے امن و امان کی فضا قائم کی، ملتان میں تعیناتی کے فوراً بعد نئے سی پی او نے تمام ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز کو دو ٹوک پیغام جاری کر دیا ہے کہ فرائض میں غفلت، تھانہ کلچر، رشوت ستانی اور سائلین کے ساتھ بدتمیزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، ان کا ورکنگ سٹائل واضح طور پر بتاتا ہے کہ وہ اے سی کمروں میں بیٹھ کر کاغذات پر دستخط کرنے کے بجائے خود فیلڈ میں نکل کر گشت اور آپریشنز کی نگرانی کرنے کے عادی ہیں، ذرائع کے مطابق سی پی او اختر فاروق نے واضح ہدایات دی ہیں کہ تھانوں کے دروازے عام اور مظلوم شہریوں کی داد رسی کے لیے چوبیس گھنٹے کھلے رہیں گے اور کسی بھی شہری کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر یا جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج پر متعلقہ افسران کے خلاف فوری معطلی اور سخت محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اس کے ساتھ ساتھ شہر کو سٹریٹ کرائم، ڈکیتی اور گینگسٹرز سے پاک کرنے کے لیے جدید سیف سٹی کیمروں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو تیز کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ وہ اپنے دعوئوں میں کس قدرکامیاب ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ اخترفاروق ایس ایس پی رینک کے ہیں جبکہ ان کے پیشروصادق علی ڈوگرڈی آئی جی رینک کے ہیں۔

Multan Police, CPO Akhtar Farooq

شیئر کریں

:مزید خبریں