اسائنمنٹس اور ہوم ورک کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا استعمال عام، مختلف سرویز میں طلبہ کی بڑی تعداد نے اے آئی سے مدد لینے کا اعتراف کردیا۔
امریکا میں طلبہ کی جانب سے تعلیمی سرگرمیوں، اسائنمنٹس اور ہوم ورک کی تکمیل کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
حالیہ سروے کے نتائج کے مطابق امریکا کے 54 فیصد نوجوانوں نے بتایا کہ وہ اسکول کے کام میں مدد حاصل کرنے کے لیے چیٹ بوٹس استعمال کرچکے ہیں، جبکہ تقریباً 10 فیصد طلبہ نے اعتراف کیا کہ وہ اپنا تمام یا زیادہ تر تعلیمی کام ان ٹولز کی مدد سے مکمل کرتے ہیں۔
ایک دوسرے سروے میں بھی طلبہ کے درمیان جنریٹو اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس سروے میں 73 فیصد طلبہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے دوران مصنوعی ذہانت سے مدد لی، جبکہ 31 فیصد نے تحریری اسائنمنٹس کے جوابات تیار کرنے کے لیے اے آئی استعمال کرنے کا ذکر کیا۔
تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان سے متعلق ایک اور سروے میں بھی نمایاں اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا سمیت پانچ ممالک میں سروے کیے گئے طلبہ اور اساتذہ میں مجموعی طور پر 95 فیصد سے زائد افراد نے تعلیمی اداروں میں اے آئی استعمال کرنے کی اطلاع دی۔
ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی میدان میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال تیزی سے عام ہورہا ہے اور طلبہ ہوم ورک، تحریری اسائنمنٹس اور دیگر تعلیمی امور میں ان سے مدد لے رہے ہیں۔







