مکہ معاہدہ سعودیہ کا دفاع کریں گے، فوجی ترجمان

راولپنڈی،اسلام آباد،ریاض (بیورورپو ر ٹ ، نیو ز ا یجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےکہاہےکہ مکہ معاہدےکا مقصد سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے اور دفاع کیا جائے گا۔سعودی حکام نے تصدیق کی ہےکہ ریاض ایئرپورٹ حملے میں پائلٹ سمیت3 افراد جاں بحق ہوگئے۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہےکہ پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔پاکستانی دفترخارجہ نے کہاہےکہ یمن میںکارروائی کی بات غلط ہے۔تفصیل کےمطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کی ضمانت قرار دیدیا۔امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں، پاکستانی افواج مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اچانک وجود میں آنے والا اتحاد نہیں ہے، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےکا نفاذ، اس کے تمام اثرات دفاعی نوعیت کے ہوں گے، یہ کس طرح ہوگا، کون سا دستہ وہاں جائے گا، فیصلہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے، معاہدے کو کس انداز میں استعمال کیا جائےگا، اس کا فیصلہ بھی آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کو خطے کے استحکام کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی عناصر مذموم مقاصد کو عملی جامع پہنانے سے پہلےکئی بار سوچیں گے، اس کا مقصد کسی کو دشمن یا دوست قرار دینا نہیں ہے، مکہ معاہدےکا مقصد سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے اور دفاع کیا جائے گا۔ایران امریکا جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ایران امریکا جنگ کے خاتمے اور معاہدے کی کوششیں کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، چاہتے ہیں اختلافات کم ہوں، مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل نکلے، تنازع مزیدنہ پھیلے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان نے غیرجانبداری سے امریکا ایران جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا، ہمارا مفاد علاقائی امن اور استحکام میں ہے، جنگ کو مزید پھیلانے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ادھروزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودیہ کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں ریاض اور ابہا کے ائیر پورٹس کو نشانہ بنانے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے حملوں میں شہریوں کی اموات اور زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔شہباز شریف نے سعودی افواج اور اتحادی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مستعدی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی افواج اور اتحادی فورسز نے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ سعودی عرب کے اپنے عوام، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے حق کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے، حوثی ملیشیا فوری طور پر سعودی عرب پر حملے بند کرے، پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب میں صرف دفاعی مقاصد کے لیے موجود ہیں تاہم یمن پر پاک فضائیہ کی کارروائی یا کسی اسٹرائیک کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب اسٹریٹجک پارٹنر ہے مکہ معاہدے سے متعلق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے مکمل مشاورت کی، سیاسی قیادت اس سارے معاہدے میں مشاورت میں شامل تھی، ترکی کی جانب سے گراؤنڈ فورسز کا فیصلہ کرنا ان کا اپنا معاملہ ہے ترکی مکہ معاہدے کا حصہ ہے اور دفاع کی ذمہ داری تمام رکن ممالک پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ہوا، پاکستان کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور فیلڈ مارشل نے شرکت کی، کمیٹی نے دفاعی کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ ادھرسعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ریاض ایئرپورٹ پر دو حملوں کے نتیجے میں سعودیہ ایئرلائنز کے پائلٹ سمیت 3 افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی۔سعودیہ ایئرلائنز نے اپنے بیان میں پائلٹ کیپٹن حمود علی الکلثمی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جمعرات کو ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں جان سے گئے۔عرب نیوز کے مطابق پہلے حملے میں ایئرپورٹ کی تنصیبات جبکہ دوسرے حملے میں سعودیہ ایئرلائنز کے ایک طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔سعودی سول ایوی ایشن کی جنرل اتھارٹی کے مطابق حملوں کے فوراً بعد ہنگامی امدادی ٹیموں اور متعلقہ حکام نے کارروائی شروع کردی۔ حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایئرپورٹ کی تمام آپریشنل سرگرمیاں بحال کردی گئی ہیں اور فضائی آمدورفت معمول پر آگئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں