جنسی سکینڈل، ڈاکٹر احسن اظہر نے بچاؤ کیلئے ہائی کورٹ اپیل کر دی، نشہ نہ ملنے پر حالت غیر

ملتان (کورٹ رپورٹر) درجنوں لڑکیوں کے ساتھ فحش ویڈیوز بنانے اور مختلف خواتین کو بھیجنے کے الزام میں ملزم سے پولیس ریکارڈ کے مطابق مجرم قرار پانے والے ملتان کے بدکردار ماہر مراض جلد ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی ضمانت بعد از گرفتاری ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت سے مسترد ہونے کے بعد ملزم کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں ضمانت کی درخواست پر گزشتہ روز جسٹس طارق سلیم شیخ نے وکیل صفائی رانا آصف سعید کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا۔ ملتان پولیس کی تفتیشی ٹیم کو ملزم کے موبائل سے جو ڈیٹا برآمد ہوا ہے اس کے مطابق ملزم کے اپنے ماموں ایڈیشنل سیشن جج محمود غنی کے ساہیوال میں مقیم مرحوم بھائی ڈاکٹر ریاض غنی جن کا مشکوک حالات میں انتقال ہوا تھا اور ساہیوال کے ذرائع کے مطابق وہ بھی مبینہ طور پر سکون آور ادویات کا استعمال کرتے تھے، کی بیٹی سے بھی قابل اعتراض چیٹنگ برآمد ہوئی ہے۔ اس طرح ملزم اپنے مرحوم ماموں کی بیٹی کے بار بار منع کرنے اور ڈانٹنے کے باوجود بھی ورغلاتا رہا کہ اپنے خاوند سے طلاق لے کر میرے ساتھ شادی کر لو جس کی ریکارڈنگ موجود ہے۔ اس امر سے ملزم کی انتہا کی شدت پر مبنی جنسی اذیت پسندی ظاہر ہوتی ہے، بتایا گیا ہے کہ محمود غنی کے بیٹے جس نے ابھی ابتدائی مرحلے کی وکالت شروع کی ہے، نے سوا کروڑ روپے کی گاڑی اپنے استعمال کے لیے رکھی ہوئی ہے۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی سابقہ اہلیہ نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور ڈائریکٹر جنرل ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے نام محمود غنی کے خلاف تحریری طور پر درخواستیں دائر کر دی ہیں اور بہت سے ثبوت بھی لف کر دیئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جیل حکام نے ڈاکٹر احسن اظہر منیر کو جیل کے ہسپتال میں خصوصی نگرانی میں رکھا ہوا ہے اور منشیات کا عادی ہونے کی وجہ سے اس پر مسلسل نگرانی کے لیے ایک کانسٹیبل کو مقرر کیا گیا ہے کیونکہ جیل کے ڈاکٹر کے مطابق اس قسم کے انتہا پسند نشئی نشہ نہ ملنے پر اپنی زندگی کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا سکتے ہیں اور جیل میں بھی وہ عملے کی منتیں کر رہا ہے کہ کسی طریقے سے مجھے انجکشن لگوا دیں اور وہ اپنے دانتوں سے اپنے بازوؤں اور ہاتھوں کو بھی کسی وقت کاٹنے لگ جاتا ہے اس کی وجہ سے اسے بے ہوشی کی ادویات مسلسل دی جا رہی ہیں۔ ملزم کے خلاف مقدمے کی تفتیش میں پولیس نے اعلانیہ طور پر لکھا ہے کہ وہ گناہگار ہے اور اپنی تفتیشی رپورٹ کے ساتھ 40 انتہائی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز بھی لف کرکے عدالت کے ذریعے مقدمے کی فائل کا حصہ بنا دی گئی ہیں۔ پولیس کی طرف سے عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی تھی کہ اس مقدمے میں پولیس کی طرف سے فراہم کردہ ریکارڈ محفوظ رکھا جائے کیونکہ اس کے چوری ہونے کا خدشہ ہے۔ عدالت میں ملزم کی دوسری اہلیہ آمنہ حفیظ جس نے ڈاکٹر احسن اظہر منیر کے منشیات کے استعمال اور اذیت پسندانہ رویے پر عدالت کے ذریعے خلع لے لی تھی، کی خلع کی رپورٹ کو بھی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جو کہ ملزم کی پہلی اہلیہ فاطمہ کے تمام تر بیان اور الزامات کی تصدیق کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم ڈاکٹر احسن کا والد ڈاکٹر اظہر منیر ایک مقامی سیاسی شخصیت کے پاس سفارش کے لیے گیا کہ اس کے بیٹے کی اس مقدمے میں مدد کروائی جائے جس پر مذکورہ سیاستدان نے متعدد افراد کی موجودگی میں ڈاکٹر اظہر منیر کی شدید ڈانٹ ڈپٹ کی کہا کہ مجھے تو اس بات کا افسوس ہے کہ میرے حلقے کے لوگوں کے بچے بھی اس بدکردار کے پاس جاتے تھے پتہ نہیں ان کا آپ کے بد کردار نے کیا حال کیا ہو گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں