اسلام آباد: وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت کو عوام کو درپیش مشکلات کا احساس ہے، پیٹرول کی قیمت جس حساب سے بنتی ہے اس کی تفصیلات عوام کے سامنے شفاف انداز میں پیش کی جاتی ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی کو مشکلات کا سامنا ہے، جس سے پیٹرول، ڈیزل اور خام تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں اور حکومت اس بات سے آگاہ ہے کہ عوام کو اس صورتحال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اجلاس میں نوید قمر نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی نان ٹیکس ریونیو کا حصہ ہے اور اس پر پارلیمنٹیرینز کا براہ راست ووٹ نہیں ہوتا، جبکہ لیوی سے متعلق اختیار انتظامیہ کے پاس ہے۔
اس پر وزیر پیٹرولیم نے وضاحت کی کہ پیٹرولیم لیوی کے اہداف بجٹ میں پہلے سے مقرر کیے جاتے ہیں اور ان میں تبدیلی بھی کثیرالجہتی شراکت داروں کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھا گیا، تمام تفصیلات اوگرا کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی عائد ہے اور اس کی رقم تقریباً 80، 80 روپے ہے۔
اجلاس کے دوران معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ عوام بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں، اس لیے تیل کی قیمتوں پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔
وزیر پیٹرولیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کی مشکلات کو محسوس کرتی ہے، وہ خود بھی اپنے حلقے میں جاتے ہیں اور لوگوں سے ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت جس حساب سے بنتی ہے، وہ اس کی تفصیلات عوام کو واضح اور شفاف انداز میں بتاتے ہیں۔







