اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی جائزے کے حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا، جس میں فیول سپورٹ اسکیم کو محدود کرنے اور وسیع پیمانے پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے بعد ملک کو مزید 1.21 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے، جبکہ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اس رقم کی منظوری دے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے نمایاں کوششیں کیں، آئی ایم ایف پروگرام کے نتیجے میں ملک میں معاشی استحکام آیا جبکہ اصلاحات کے عمل میں بھی تیزی پیدا ہوئی۔
آئی ایم ایف کے مطابق جولائی سے مارچ 2026 کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو 4 فیصد رہی، تاہم مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث یہ شرح 3.6 فیصد تک متاثر ہوئی۔ مئی 2026 میں مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ ترسیلات زر نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اعلامیے میں پیٹرول سبسڈی اسکیم کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سبسڈی میں مزید توسیع نہ کی جائے بلکہ اسے صرف مستحق افراد تک محدود رکھا جائے۔ آئی ایم ایف نے مہنگی اور وسیع پیمانے پر جاری فیول اسکیم کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو فیول سپورٹ کو محدود، ہدفی اور مخصوص مدت کے لیے رکھا جائے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ واجبات کی وصولی بہتر بنانے اور پیداواری لاگت کم کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ گیس سیکٹر میں ریکوری بڑھانے اور نقصانات میں کمی لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کو مشورہ دیا کہ مہنگائی کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے محتاط اور سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھی جائے۔ پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا ہوگا جبکہ توانائی کے شعبے میں بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور اخراجات کم کرنے والی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔







