ملتان (کرائم سیل رپورٹ) جلال پور پیر والا میں روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل میں کروڑوں روپے کے جوئے اور متعلقہ اداروں کے نچلے عملے کی سرپرستی سے گزشتہ کئی سال سے بیٹ پرو کی آڑ میں نیٹ کے ذریعے چلایا جانے والے جنوبی پنجاب کے جوئے کے سب سے بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کیے جانے کے بعد اس گروہ کے تمام ممبران زیر زمین چلے گئے ہیں اور انہوں نے اپنے ڈیرے کو بھی بند کر دیا ہے اور انٹر نیٹ سے تمام تر ریکارڈ بھی ہٹا کر موبائل نمبر ہی بند کر دیے گئے ہیں۔ رضوان جو کہ آج سے سات سال قبل کھوئے والی قلفیوں کی ر یڑھی لگاتا تھا اور انٹرنیٹ پر جوئے کے ذریعے کروڑوں میں کھیلنے لگ چکا ہےشہر سے مکمل طور پر غائب ہے جبکہ صمد عاربی جو کہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہا تھا، اس لئے شہر میں وضاحتیں دیتا پھر رہا ہے کہ میرا جوئے کے اس نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں اور اس نے بہت سے لوگوں سے دباؤ ڈلوا کر ان کے ہاتھوں 48لاکھ لٹوا کر کوڑی کوڑی کا محتاج ہونے کے بعد مقروض ہوکر خودکشی کرنے والے چھ بچوں کے باپ اشفاق کے والد رفیق پر سخت دباؤ ڈال کر اس سے زبردستی بیان ریکارڈ کروا کر ڈیجیٹل میڈیا پر چلوایا ہے اور اس کی بیوہ کو خاموش رہنے کے عوض معاوضہ دینے کا بھی جھانسہ دیا ہے مگر ابھی تک اسے دیا کچھ بھی نہیں گیا۔اشفاق چائے والا کا لین دین رضوان سے تھا۔ شہر کے مختلف لوگ جو ان کے ڈیرے پر بیٹھتے اور گپ شپ لگایا کرتے تھے ان کے ڈیرے پر آنا مکمل طور پر چھوڑ چکے ہیں اور جہاں ہر وقت لوگوں کا رش رہتا تھا اور وہاں الو بولتے ہیں۔ جلال پور کے معززین نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ خبر میں عثمان کانام اور طارق عزیز کی تصویر غلط طور پر سازش کے تحت شامل کرو ائی گئی حالانکہ وہ ان سے دوستی ضرور رکھتے ہیں مگر ان کے دھندے کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ طارق عزیز کریانہ سٹور چلاتا ہے مگر چونکہ ان کا ہمسایہ ہے اس لیے اس کا ان کے پاس فارغ وقت میں بیٹھنا اٹھنا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام بھی ان کی صحبت کے چکر میں ان لوگوں کے ساتھ لگ گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس آٹھ رکنی جواری گینگ نے اپنے 12 سے زائد مین ایجنٹس کو بھی کہہ دیا ہے کہ چند دنوں کے لیے خاموشی اختیار کریں اور انہیں کہا ہے کہ اپنے سب ایجنٹوں سے کہیں فی الحال کسی قسم کی کوئی بکنگ نہ کریں۔ سب ایجنٹوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ جتنے بھی لوگ ان کے ذریعے اس نیٹ ورک سے منسلک ہیں اور جوا کھیل رہے ہیں۔ ان تمام سے فی الحال رابطے ختم کر دیں اور انہیں تسلی دیں کہ ان کی رقم محفوظ ہے تاکہ وہ کسی کے ہاتھوں میں استعمال ہو کر شکایت کندہ نہ بن جائیں اور تحریری درخواستیں دینا شروع نہ کر دیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صمد اور رضوان پر اس سے قبل بھی مقدمات درج ہیں جن میں جوا اور زیر دفعہ 406 بھی درج ہےمگر چونکہ مقامی تھانے ہمیشہ سے ان کے کنٹرول میں ہوتے رہے ہیں اور یہ کھلے عام دعوے بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے بہت سے پولیس اہلکاروں کا خرچہ اٹھا رکھا ہے اس لیے تھانے میں کارروائی تو درکنار انہیں پروٹوکول ملتا ہے۔







