ملتان ( قوم ریسرچ سیل)بجلی چوری کیسز میں قانونی تقاضے نظرانداز، میپکو اور پولیس میں اختلافات، متعدد مقدمات کی کارروائی متاثر ہونے کا انکشاف،ذرائع کے مطابق میپکو کی جانب سے مبینہ بجلی چوری کے کیسز میں قانونی و ضابطہ کار کے تقاضے مکمل کیے بغیر پولیس کو ایف آئی آر کے لیے استغاثے بھجوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث میپکو اور پولیس افسران کے درمیان اختلافات پیدا ہونے جبکہ متعدد کیسز میں ایف آئی آر کے اندراج کی کارروائی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بجلی چوری کی چیکنگ، کیس کی تیاری، صارف کو نوٹس،ایکسین کی طرف سے مؤقف سننے اور اس کے بعد قانونی کارروائی کے حوالے سے مقررہ طریقہ کار پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کی کارروائی کے دوران موقع پر صارف یا اس کے مجاز نمائندے کی موجودگی، موقع کی کارروائی کے لیے گواہوں کی موجودگی اور دیگر ضروری قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں، تاہم بیشتر کیسز میں یہ تقاضے مکمل نہ ہونے کے باوجود کارروائی آگے بڑھائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی چوری کا کیس سامنے آنے کے بعد صارف کو مبینہ خلاف ورزی سے آگاہ کرتے ہوئے مقررہ طریقہ کار کے تحت نوٹس جاری کیا جانا چاہیے تاکہ اسے ایکسین کے روبرو اپنا مؤقف پیش کرنے اور ایکسین کوجواب دینے کا موقع مل سکے، جبکہ صارف کے جواب اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی متعلقہ مجاز افسر کی جانب سے مزید کارروائی کی جانی چاہیے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعدد کیسز میں نہ صارف یا اس کا نمائندہ موقع پر موجود ہوتا ہے، نہ مطلوبہ 2 نجی گواہوں کی موجودگی یقینی بنائی جاتی ہے، جبکہ بیشتر معاملات میں صارف کو نوٹس جاری کرنے، جواب حاصل کرنے اورایکسین کے روبرو مؤقف کی باقاعدہ سماعت کے تقاضے بھی مکمل نہیں کیے جاتے۔ ذرائع کے مطابق ایسے کیسز میں جب میپکو کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس کو استغاثہ بھجوایا جاتا ہے تو پولیس حکام کی جانب سے قانونی دستاویزات اور کارروائی کے مکمل ہونے پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ ایف آئی آر کے لیے استغاثہ مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کارروائی اور مطلوبہ شواہد کے ساتھ بھجوایا جائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق محض بجلی چوری کی رپورٹ یا نامکمل دستاویزات کی بنیاد پر کارروائی کے بجائے کیس کے قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے تاکہ بعد ازاں مقدمہ عدالت میں بھی قانونی طور پر برقرار رہ سکے۔ اسی معاملے پر مختلف مقامات پر میپکو اور پولیس افسران کے درمیان اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے بجلی چوری کے خلاف جاری مہم کے قانونی پہلوؤں پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب میپکو حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام متعلقہ افسران، بالخصوص ایس ڈی اوز اور ایکسینز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ بجلی چوری کے کیسز مقررہ قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق تیار کیے جائیں اور ایف آئی آر کے لیے استغاثہ بھیجنے سمیت جرمانے کی کارروائی بھی قانونی طریقہ کار کے تحت عمل میں لائی جائے۔ میپکو حکام کے مطابق صارفین کو بھی اپنے حق کے تحفظ کے لیے قانونی و محکمانہ فورم سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اگر کسی صارف کو یہ شکایت ہو کہ اس کے خلاف بجلی چوری کی کارروائی ناانصافی یا غلط طریقے سے کی گئی ہے تو وہ متعلقہ میپکو افسران کو درخواست دے سکتا ہے، متعلقہ ایس ای سے رجوع کر سکتا ہے اور میپکو چیف آفس کے کمپلینٹ سینٹر میں بھی اپنی شکایت درج کرا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائی کا مقصد چوری کی روک تھام اور قومی خزانے کو نقصان سے بچانا ہے، تاہم ہر کارروائی میں صارف کے قانونی حقوق، مقررہ ضابطہ کار، شواہد کی مکمل دستاویز بندی اور شفاف طریقہ کار کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ بجلی چوری کے حقیقی کیسز کے خلاف کارروائی مضبوط اور عدالت میں قابلِ دفاع رہے۔







