ملتان( عوامی رپورٹر) شجاع آباد گورنمنٹ گریجوایٹ کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر اردو محمد بلال کے خلاف اخلاقی نوعیت کی شکایات پر انکوائری پراسس کے مکمل ہونے کے بعد انکوائری رپورٹ کو دبا دیا گیا۔ فیصلہ التوا کا شکار ہو گیا اور ڈائریکٹر کالجز ملتان اپنی ریٹائرمنٹ کے آخری دنوں میں فیصلے کرنے سے گریزاں ہیں۔ 23 ستمبر کو ڈائریکٹر کالجز ملتان ڈویژن کی جانب سے مذکورہ اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف تحقیقات کیلئے تین رکنی کمیٹی بنائی گئی جس میں گریجویٹ کالج کہروڑ پکا کے پروفیسر شکیل احمد خان کو کنوینر جبکہ گورنمنٹ گرلز گریجویٹ کالج جلالپور پیر والا کی گلناز طاہرہ، گورنمنٹ بوائز کالج جلال پور پیروالا کے پرنسپل اسلم فاروقی کو بطور ممبر انکوائری کمیٹی نامزد کیا گیا جبکہ ڈائریکٹر کالجز نے تین دن کے اندر انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی تاکید کی گئی۔ تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے 26 ستمبر کو گورنمنٹ گریجویٹ بوائز کالج شجاع آباد پہنچ کر پرنسپل اور سٹاف ممبران سے علیحدہ علیحدہ بیانات قلمبند کئے اور اس موقع پر مذکورہ اسسٹنٹ پروفیسر بلال کی جانب سے اپنے ذاتی موبائل اکاؤنٹ واٹس ایپ سٹیٹس پر لگی نازیبا تصویر کا سکرین شاٹ بھی بطور ثبوت پیش کیا۔ گورنمنٹ گریجویٹ کالج شجاع آباد کے اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف قائم کردہ انکوائری کمیٹی کا پراسس مکمل کیے جانے کے باوجود حتمی رپورٹ مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود تاخیر کا شکار ہے۔ اس دوران کیس میں اہم موڑ سامنے آیا ہے جس میں ایک شہری نے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر مزید سنگین ثبوت اور تفصیلی بیان جمع کروا دیا ہےتاہم دوسری جانب ڈائریکٹر کالجز ملتان ڈویژن کی ریٹائرمنٹ کے باعث حتمی فیصلہ التوا کا شکار ہونے سے شہریوں اور طالبات کے والدین میں شدید تشویش ہے۔ دورانِ انکوائری ایک شہری نے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اسسٹنٹ پروفیسر بلال بھٹی کے خلاف مزید ثبوت فراہم کیےجن میں موصوف کے ذاتی واٹس ایپ اسٹیٹس پر لگائی گئی عریاں تصاویر کے شواہد شامل ہیں۔ شہری نے انکوائری کمیٹی کو ایک تفصیلی تحریری بیان بھی جمع کرایا، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اسسٹنٹ پروفیسر کا موبائل فون قبضے میں لے کر اس کا فوری فرانزک معائنہ کروایا جائے۔ شہری کا کہنا تھا کہ فرانزک سے مزید نازیبا ویڈیوز اور مواد برآمد ہونے کا قوی امکان ہے، جس سے دیگر طالبات کو بلیک میلنگ سے بچایا جا سکے گا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹر کالجز ملتان کی ریٹائرمنٹ 14 اکتوبر کو ہے جس کی وجہ سے اس سنگین نوعیت کی انکوائری مکمل ہو چکی ہے جسے دبا دیا گیا ہے جس کا کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلا جس سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب وزیر تعلیم سے فوری طورپر مذکورہ اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔







