ملتان(نمائندہ خصوصی) ملتان میں سودی لین دین اور جائیدادوں پر مبینہ ناجائز قبضوں کی شکایات میں اضافہ، صرافہ بازار سمیت مختلف علاقوں میں سودی کاروبار مبینہ طور پر جاری ہے جبکہ اندرون شہر میں سرگرم بعض قبضہ و سود خور گروہوں کو بااثر شخصیات کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں، بعض سیاسی شخصیات اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے مبینہ طور پر ملوث یا چشم پوشی اختیار کرنے کے الزامات بھی سامنے آ گئے، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔ذرائع کے مطابق ملتان کے صرافہ بازار اور دیگر علاقوں میں بعض افراد کی جانب سے مالی مشکلات کے شکار شہریوں کو قرض فراہم کرکے بھاری اضافی رقم کی وصولی کی شکایات سامنے آ رہی ہیںجس کے باعث قرض لینے والے افراد مسلسل مالی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض معاملات میں قرض کی رقم کئی گنا بڑھ جانے سے متاثرہ خاندانوں کی جمع پونجی اور کاروبار بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سودی لین دین سے متعلق بعض شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث اس کاروبار سے وابستہ عناصر کے حوصلے بلند ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب ملتان شہر اور گردونواح میں زمینوں، مکانات اور دیگر قیمتی جائیدادوں پر مبینہ قبضوں کے حوالے سے بھی شہریوں کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض گروہ مبینہ طور پر جعلی دستاویزات، دباؤ، دھونس اور دیگر ذرائع استعمال کرکے جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بعض متاثرین کا مؤقف ہے کہ بااثر افراد کی مداخلت کے باعث انہیں اپنی ملکیتی جائیداد کے حصول کے لیے قانونی کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض شکایات میں سیاسی شخصیات سمیت بااثر افراد کے نام بھی لیے گئے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے اور کسی بھی شخص کے خلاف محض الزام کی بنیاد پر حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ ذرائع کے مطابق بعض معاملات میں متعلقہ پولیس اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت، سہولت کاری یا شکایات پر کارروائی نہ کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی پولیس اہلکار کی جانب سے قبضہ گروہوں یا سودی کاروبار میں ملوث عناصر کو مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنا ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ صرافہ بازار سمیت ان مقامات کی بھی نگرانی کی جائے جہاں سودی لین دین کی شکایات موجود ہیں اور جائیدادوں پر قبضوں کے معاملات میں پولیس و ریونیو ریکارڈ کی مشترکہ جانچ کا مؤثر نظام بنایا جائے۔







