ایران سے براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں، امریکی صدر ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، تاہم ان کے خیال میں اماراتی طیارے کے واقعے کا ذمہ دار ایران ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ ایئربیس سے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص خطرے کے پیش نظر امریکی بمبار طیاروں کو واپس بلانا پڑا۔
امریکی صدر نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اپنے سیاسی مخالفین اور روس یوکرین جنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق اب ایران کے خلاف جنگ سے نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ آبنائے ہرمز نہیں بلکہ ریفائنریز ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کی ریفائنریوں کو یوکرین کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ امریکا میں کیلیفورنیا جیسی ڈیموکریٹک ریاستوں میں بھی ریفائنریز بند کی جا رہی ہیں، جس کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں