جلالپور: جواری گینگ کے مزید متاثرین، طالبعلم فیس ہار بیٹھا، مصالحہ بیوپاری کو 3 کروڑ کا چونا

ملتان (عوامی رپورٹر) تحصیل جلال پور پیر والا کے انتہائی ظالم جواری گینگ کے بارے میں مزید انکشافات سامنےآئے ہیں کہ ایک طالب علم اپنی فیس کے 80 ہزار روپیہ جوئے میں لگانے کے بعد تعلیم سے ہاتھ دھو بیٹھا جب کہ جلال پور پیر والا ہی میں مصالحہ جات کے کاروبار سے منسلک ایک شخص سوا تین کروڑ روپیہ ان بدنام جواریوں کے ایجنٹوں کے ذریعے جوئے میں گنوا چکا ہے۔ روزنامہ قوم کے کرائم سیل کو بتایا گیا کہ اس گروہ میں ذوالفقار عاربی، رضوان عاربی، اشفاق موہانہ، صمد عاربی، ذیشان سمیجہ، فرحان عاربی اور عثمان شامل ہیں جبکہ ان کے لیے کمیشن پر کام کرکے سادہ لوح شہریوں اور نوجوانوں کو راتوں رات امیر بننے کا جھانسہ دے کر جوئے کے ذریعے لوٹنے والے ان سب ایجنٹوں کی تعداد 100 سے زائد بتائی جا رہی ہے جو سکندر آباد، احمد پور شرقیہ، اوچ شریف، ترنڈہ محمد پناہ ،علی پور، سیت پور، شجاع آباد، چنی گوٹھ، گیلے وال، لودھراں، سوئی والا، حاصل والا اور شہر سلطان سمیت درجنوں علاقوں کے سینکڑوں نوجوانوں کو بیٹ پرو جوئے کی آڑ میں برباد کر چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ گیلے وال سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان محض ڈیڑھ ماہ میں 25 لاکھ روپیہ ان کے ذریعے جوئے میں ہار چکا ہے۔ صمد عاربی کے بارے میں بتایا گیا ہے اس نے بعض لڑکیاں بھی جوا نیٹ ورک میں اپنی سب ایجنٹ بنا رکھی ہیں جن کے ذریعے وہ صاحب جائیداد خواتین کو جوئے کی لت میں لگا کر انہیں ان کی جائیداد سے محروم کرتے ہیں اور ان کا خاص ٹارگٹ ایسی بیوہ عورتیں ہوتی ہیں جن کے نام پر کوئی نہ کوئی پراپرٹی ہوتی ہے۔ اس گینگ کے ایک رکن محمد رضوان عاربی نے میزان بینک میں اپنا اکاؤنٹ جس کا نمبر 12980107898393 ہے، آن لائن جوئے کے لیے مختص کر رکھا ہے اور رضوان واٹس ایپ پر لوگوں کو یہی نمبر بھیج کر پیسے منگواتا ہے۔ ایک اور نوجوان نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اس گروہ کے ہاتھوں جوئے کی لت میں مبتلا ہو کر 93 لاکھ روپیہ گنوا چکا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پرائمری پاس صمد عاربی جوئے سے حاصل کردہ کروڑوں روپے سے اب الیکشن لڑ رہا ہے اور اس مقصد کے لیے جلال پور پیر والا میں اپنی یونین کونسل میں نہ صرف پیسے بانٹ رہا ہے بلکہ بعض لوگوں کو ذاتی اخراجات کے لیے مختلف اشیاء اور گلیوں میں سولنگ کا کام بھی کروا رہا ہے۔ روزنامہ قوم کے کرائم سیل کو بتایا گیا ہے کہ حساس اداروں نے اس جواری نیٹ ورک کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں اور پولیس سے بھی معلومات لی جا رہی ہیں جس کے بعد جلالپور پولیس میں موجود ان کے مخبر اور بعض نچلے درجے کے عدالتی اہلکاروں نے انہیں چند دن کے لیے خاموش رہنے اور واٹر سیب ریکارڈ سے بینک اکاؤنٹ کا نمبر ہٹانے کا مشورہ دیا ہے جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایف آئی اے ملتان کا ایک نچلے درجے کا اہل کار اس گینگ سے گزشتہ تین سال سے مسلسل نہ صرف رابطے میں ہے بلکہ سہولت کاری کے عوض بھاری معاوضہ لے رہا ہے۔ روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل پر جواریوں کے اس نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹے میں درجنوں لوگوں نے متعدد ثبوت بھجوائے ہیں اور اس گینگ کے مظالم کے بارے میں آگاہ کیا ہے کہ یہ کس طرح لوگوں کو جوئے کی لت میں مبتلا کرنے کے بعد کنگال ہونے کی صورت میں انہیں جلالپور پیر والا ہی کے بعض منشیات فروشوں کے سب ایجنٹ بنا دیتے ہیں جبکہ ایک مقامی وکیل ان منشیات فروشوں کی قانونی معاونت کرتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں