ریلوے نظام بوسیدہ، پانچ سال میں 448 حادثات، 169 اموات، مسافر اللہ کے حوالے

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)پاکستان ریلوے میں ٹرینوں کے انجن، پاور وین، بوگیوں اور ریلوے ٹریک کی فنی خرابیوں کے باعث پیش آنے والے واقعات نے مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ ضلع جھنگ میں موضع مدوکی کے قریب پیش آیا جہاں ملتان سے سرگودھا جانے والی ساندل ایکسپریس کی پاور وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ واقعہ کے بعد ٹرین کو روک دیا گیا جبکہ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔ ریلوے عملہ متاثرہ انجن کی مرمت میں مصروف رہا اور مسافروں کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑا۔ دستیاب تازہ رپورٹ کے مطابق واقعے میں پاور وین کی آگ بجھا دی گئی اور ٹرین کی روانگی مرمتی کام مکمل ہونے سے مشروط رہی۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ریلوے میں حادثات اور پٹری سے اترنے کے واقعات کا سلسلہ مسلسل تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2021 سے 2025 کے پانچ سالہ عرصے میں ریلوے نیٹ ورک پر مجموعی طور پر 448 حادثات ہوئے جن میں 164 بڑے حادثات شامل تھےجبکہ 169 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان 164 بڑے حادثات میں مسافر ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 132 واقعات، لیول کراسنگ پر 16 تصادم، ٹرینوں میں آگ لگنے کے 10 واقعات، مسافر ٹرین اور مال گاڑی کے درمیان 2 تصادم، مال گاڑیوں کے 3 تصادم اور مسافر ٹرینوں کے ایک تصادم کا ریکارڈ موجود ہے۔2026 میں بھی صورتحال اطمینان بخش دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان ریلوے سے متعلق قومی اسمبلی کی کمیٹی کو جولائی 2026 میں بتایا گیا کہ ایک سالہ عرصے کے دوران ملک بھر میں 135 ٹرین حادثات ریکارڈ ہوئے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق ان میں 34 حادثات ٹریک کی خرابی، 32 اسٹاف کی غفلت، 30 رولنگ سٹاک کی خرابی اور 10 تخریب کاری کے باعث ہوئے، جبکہ باقی حادثات قدرتی یا دیگر وجوہات سے متعلق تھے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی حادثات میں تقریباً 35 فیصد واقعات بغیر محافظ ریلوے کراسنگز پر ہوئے۔سال 2026 کے نمایاں واقعات میں مارچ میں ناوشہرو فیروز کے لاڑھا روڈ اسٹیشن پر شالیمار ایکسپریس اور مال گاڑی کے تصادم کا واقعہ بھی شامل ہے جس میں ایک ریلوے ملازم جاں بحق اور 13 مسافر زخمی ہوئے۔ بعد ازاں ریلوے کے معائنے میں شالیمار ایکسپریس کی 18 کوچز میں سے 9 کے بریک سسٹم غیر فعال ہونے کا انکشاف بھی رپورٹ ہوا۔اسی سال تیزگام ایکسپریس کی سات بوگیاں آدم واہن کے قریب پٹری سے اتر گئیں اور پانچ الٹ گئیں، جس کے نتیجے میں 26 مسافر زخمی ہوئے۔ ریلوے کی ابتدائی تحقیقات میں ڈائننگ کار کے فرنٹ ٹرالی میں خرابی/لوز کپلنگ کو حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا، جبکہ تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن نے ڈرائیور کی ممکنہ غفلت کو بھی خارج نہ کیا۔مارچ ہی میں گرین لائن ایکسپریس کے ایک کوچ میں بفر اور بریک ڈسک کے مسئلے کی اطلاع سامنے آئی، جس کے باعث لاہور، راولپنڈی سیکشن پر ریلوے ٹریفک متاثر ہوئی۔دوسری جانب جون 2026 میں صادق آباد اسٹیشن پر ہزارہ ایکسپریس کی پاور وین نمبر 4737 میں آگ لگنے کے واقعے کی پاکستان ریلوے نے اعلیٰ سطحی انکوائری کا فیصلہ کیا اور وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلوے کو تحقیقات سونپی گئیں۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 5 جولائی سے 5 اگست 2026 کے صرف 30 دن میں 10 ٹرین حادثات اور پٹری سے اترنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے اس صورتحال پر آپریشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ستمبر کے اختتام اور اکتوبر کے آغاز میں بھی معاملہ ختم نہیں ہوا۔ حالیہ دنوں میں شالیمار ایکسپریس، پاکستان ایکسپریس اور جعفر ایکسپریس سے متعلق پٹری سے اترنے یا تکنیکی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ شالیمار ایکسپریس کا بریکنگ سسٹم کام نہ کرنے کے باعث لوپ لائن کے سینڈ ہَمپ سے ٹکرانا اور انجن و بعض کوچز کا پٹری سے اترنا بھی رپورٹ ہوا، جبکہ پاکستان ایکسپریس کی پاور وین بھی کھاریاں کے قریب پٹری سے اتری۔ تینوں واقعات میں بڑے جانی نقصان سے بچاؤ خوش قسمتی قرار دیا گیا۔ریلوے کے اپنے حکام بھی پرانے انفراسٹرکچر اور مینٹیننس کے مسائل کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ جنوری 2026 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے کے 63 فیصد سے زیادہ لوکوموٹیوز 20 سال سے زائد پرانے ہیں اور پرانا انجن فلیٹ آپریشنل رکاوٹوں اور تاخیر میں کردار ادا کر رہا ہے۔مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ستمبر 2026 کے آخر میں وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلوے نے ریلوے حکام کے اجلاس میں ٹریک، رولنگ اسٹاک، یارڈز، سگنلنگ سسٹم اور دیگر انفراسٹرکچر کی حالت کو مسافروں، عملے اور ریلوے اثاثوں کی حفاظت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔اعداد و شمار ریلوے انتظامیہ کے لیے ریڈ الرٹ ہیں۔ پانچ سال میں 448 حادثات، 164 بڑے حادثات اور 169 انسانی جانوں کا ضیاع، ایک سال میں 135 حادثات، صرف ایک ماہ میں 10 حادثات، جبکہ 2026 میں شالیمار ایکسپریس تصادم، تیزگام derailment، گرین لائن کا تکنیکی واقعہ، ہزارہ ایکسپریس کی پاور وین میں آگ اور اب ساندل ایکسپریس کی پاور وین میں آتشزدگی جیسے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ محض اسٹیشنوں کی تزئین، پلیٹ فارم کی تعمیر یا ریسٹ ہاؤسز کی بہتری کے بجائے انجن، پاور وین، بوگیوں، بریک سسٹم، کپلنگ، ٹریک، سگنلنگ اور مینٹیننس کے پورے حفاظتی نظام کا آزادانہ اور جامع آڈٹ کرایا جائے۔ریلوے حکام کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ بار بار انجن اور پاور وین میں آگ لگنے، بریک فیل ہونے، کپلنگ ٹوٹنے اور ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات میں ذمہ داری کس سطح پر عائد ہوتی ہے، حفاظتی معائنہ کس افسر کی ذمہ داری ہے، کتنے پرانے انجن اب بھی مسافر ٹرینوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور حادثات کی تحقیقات کے بعد ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کتنے معاملات میں عملی کارروائی کی گئی۔ساندل ایکسپریس کا تازہ واقعہ محض ایک انجن میں آگ لگنے کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان ریلوے کے مجموعی سیفٹی اور مینٹیننس نظام کے لیے ایک اور بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے۔نوٹ: میں نے دانستہ طور پر 135 کو پورے 2026 کے حادثات نہیں لکھا، کیونکہ دستیاب سرکاری بیان اسے ایک سالہ مدت کا عدد قرار دیتا ہے۔ اسی طرح 2026 کی اموات کا کوئی مکمل سالانہ سرکاری مجموعہ دستیاب ریکارڈ میں نہیں ملا۔مارچ کے شالیمار تصادم میں ایک ریلوے ملازم کی ہلاکت الگ سے تصدیق شدہ ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں