جلالپور میں بیٹ پرو جوا نیٹ ورک، پولیس سیاسی سرپرستی، نوجوان کی خودکشی، کئی خواتین بے آبرو

ملتان (سٹاف رپورٹر) جلال پور پیر والا میں آن لائن جوئے کے ایک بہت بڑے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جسے مقامی پولیس اور مقامی سیاست دانوں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ آن لائن جوا بیٹ پرو سے منسلک یہ گروہ اتنا ظالم ہے کہ ان کے ہاتھوں ایک نوجوان خودکشی کر چکا ہے اور کئی خواتین اپنی عزت گنوا چکی ہیں۔ اس آن لائن جوا کھلانے والے گروہ کا سرغنہ محمد عمران ہے جبکہ اس کے دیگر ممبران میں رضوان، صمد، ذوالفقار، شہباز عرف شاکا، ڈڈو اور آصف سمیت 10 سے زائد جواری شامل ہیں۔ یہ گروہ اتنا ظالم ہے کہ جب کسی کو جوا کھلا کھلا کر کنگال کر دیتا ہے تو پھر اسے سود پر رقم لے کر دیتا ہے اور اس سے پراپرٹی کے کاغذات لکھوا لیتا ہے یا پھر اس کی زرعی زمین لکھوا لیتا ہے اور پھر اس گروہ میں شامل بعض بد کردارلوگ متاثرہ خاندانوں کی عزت پر ہاتھ ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ان میں سے کچھ لوگ عاربی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ،کچھ محلہ پیپل والا کے رہائشی ہیں اور کچھ جانباز پورہ کے رہائشی ہیں۔ خودکشی کرنے والے اشفاق نے جو کہ چھ بچوں کا باپ تھا، خود کشی کرنے سے پہلے اپنی بیگم اور بچوں کے نام طویل خط لکھا جو من وعن شائع کیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہےکہ وہ چائے کا ہوٹل چلاتا تھا۔گینگ نے اسے جوئے پر لگا دیا اور پھر وہ اپنی کل کمائی 48 لاکھ روپیہ ہار گیا اور جب انہوں نے اس پر پیسوں کی وصولی کے لیے دباؤ ڈالا تو اسے سود لے کر دیا اور سود کی رقم بھی جوئے میں لگوا دی کیونکہ یہ اس سے زبردستی اپنے ڈیرے پر لے جا کر حبس بے جا میں رکھ کر اسٹامپ فروش کو وہیں طلب کرکے تحریر لکھوا چکے تھے۔ اس پر اشفاق چائے والا اپنی بیوی کا زیور اور گھر کا سامان فروخت کرکے بھی جب ان کے پیسے پورے نہ کر سکا اور سود کی رقم ادا نہ کر سکا تو اس نے اپنی فیملی کے نام انتہائی دردناک خط لکھا کہ موبائل فون بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا، اس کے بعد اس نے اپنے بچوں کو اردگرد لٹا کر آخری تصویر بنائی اور خودکشی کر لی۔ اسی طرح عدنان نامی ایک شخص جس کا والد دبئی میں تھا، نے اپنے بیٹے کو زرعی زمین کے علاوہ بیوریج کا کاروبار کروا کر دیا جسے رضوان نام جواری نے شیشے میں اتارا اور چند ماہ کے اندر اندر اس سے ایک کروڑ 27 لاکھ روپے کا جوا کھلا دیا۔ پھر اس سے بھی اسٹامپ کروا لیے اور والد کی طرف سے بھیجے گئے زیورات بھی جوئے کی مد میں لے لیے پھر سود کی رقم ادا کرنے کے لیے اس کی کولڈ ڈرنکس کی ایجنسی بھی ختم ہو گئی پھر اسے دباؤ ڈال کر دو لاکھ سود پر لے دیا تاکہ وہ مزید جوا کھیل سکے جس کے بعد اس سے زبردستی زمین بھی ہتھیا لی۔ اسی طرح ملتان سکھر موٹروے کی انٹری پر واقع زمین تین کنال کمرشل اراضی ایک نوجوان سے اپنے نام منتقل کروا لی اور زبردستی قبضہ لے لیا۔ اسی طرح عثمان غوری نامی ایک لڑکا جو کہ کپڑے کی دکان کرتا تھا کو بھی ٹریپ کر کے جوئے کی لت میں ڈال کر 70 لاکھ روپے کی دکان سے محروم کر دیا، بعد میں اس پر مقدمات بھی درج کروا دیئے اور اسے جیل بھجوا دیا کیونکہ مزید جوا کھلانے کے لیے اسے تین لاکھ روپیہ دے کر 2500 روپےکے اسٹامپ پر چھ لاکھ روپیہ لکھوا لیا اور جب تک یہ چھ لاکھ روپیہ نہ دیا جائے تین ہزار روپیہ روزانہ کا دیا جانا بھی اس پر ڈال دیا۔ اسی طرح ایک شخص کو جوئے کی لت ڈال کر اس کا مکان فروخت کروا کر اسے بے گھر کرا دیا۔ اس گروہ کا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ مختلف ٹارگٹس کو فوکس کر کے اس کے پاس ایسے لوگوں کو بھیجنا شروع کرتے ہیں جو انہیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے بیٹ پرو پر جوا کھیلا ۔ 50 ہزار روپیہ خرچ کے تین مہینے میں چار لاکھ کی بچت ہوئی اور اس طرح ان کے بھیجے گئے ٹاؤٹ جو کہ انہوں نے 20 فیصد کمیشن پر رکھے ہوئے ہیں، مختلف سادہ لوح لوگوں کو شیشے میں اتارتے ہیں اور اسے لوٹ لیتے ہیں اسی طرح جھنبٹ قوم کے ایک نوجوان کو جوئے پر لگایا اور پھر اس کے کمرشل زمین اپنے نام لگوا لی۔ تمام صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آن لائن جوا کرنے والا یہ گروہ کھلے عام یہ اعلان کرتا ہے کہ ہم نے جلال پور کے دونوں تھانوں کا آدھے سے زائد خرچہ اٹھایا ہوا ہے البتہ چند سال قبل ایک سابق ڈی ایس پی کے دور میں اس گروہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ چند ماہ کے لیے زیر زمین چلے گئے مگر دوبارہ سے انہوں نے جوئے کا دھندہ پہلے سے بھی زیادہ زور و شور سے شروع کر دیا۔ خودکشی کرنے والے اشفاق کاآخری خط بھی سامنے آگیاہےجس میں اس نے لکھاہےکہ’’
میرے پیارے امی، ابو جان اور میرے پیارے بہن بھائی اور میرے پیارے بچوں، بیوی اور میرے پیارے ماموں جان اور تمام دوست احباب سے معافی کا طلبگار ہوں،آپ کا اپنا، جس نے ایک غلیظ اور غلط کام کی وجہ سے اپنی دنیا اور آخرت خراب کر لی ہے۔ بار بار کوشش کرنے کے باوجود یہ غلیظ اور غلط کام مجھ سے چھوڑا نہیں جا رہا حالانکہ میرے ابو، میرے ماموں اور میرے تمام گھر والوں نے میری بھرپور سپورٹ کی مگر میں بدبخت انسان اب زندگی سے تنگ آگیا۔کیونکہ میں اب گھر والوں پر بوجھ بن چکا ہوں ذہنی مریض، میرے گھر والوں سے میری امی اور ابو اور میری بیوی سے میں شرمندہ ہوں اور میں جینا تو چاہتا ہوں مگر میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنے تمام جینے کے دروازے بند کر چکا ہوں اپنے گھر والوں سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں سے موبائل دور رکھیں اور اس برائی سے دور رکھیں خاص کر شگفتہ میں تم سے مخاطب ہوں، میرے مرنے کے بعد بچوں کو موبائل جیسی بیماری سے دور رکھنا ۔میں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کا سوچ لیا ہے اور کوشش بھی کی ہے مگر اللہ تعالی کو مجھ سے خاص ناراضگی ہے کہ موت بھی نہیں آرہی۔ میرے پیارے ابو جان اور میری پیاری امی جان، میرے پیارے مامو ںمحمود اور میرے ماموں محمد علی اور میرے پیارے ماموں ایوب اور میرے پیارے مامو ںعثمان معاف کر دینا، خاص کر اماں جان معاف کر دینا، میری پیاری مامی جان معاف کر دینا، شگفتہ بیگم مجھے معاف کر دینا کیونکہ میں بزدل نکلا۔‘‘

شیئر کریں

:مزید خبریں