ملتان (قوم ریسرچ سیل)ملتان منشیات کے نرغے میں، آئس، ہیروئن اور چرس کا دھندا پھیل گیا، پولیس گشت، ڈولفن فورس، محافظ سکواڈ، ناکوں، چیک پوسٹوں اور ایکسائز سمیت متعدد اداروں کی موجودگی کے باوجود منشیات کی سپلائی لائن برقرار، بڑے سمگلر سے ہول سیلر اور پھر پرچون فروش تک نیٹ ورک کام کر رہا ہے، شہریوں نے بڑے سپلائرز اور مبینہ سرپرستوں تک پہنچنے کا مطالبہ کردیا۔ذرائع کے مطابق ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں منشیات کا دھندا اب چند گلی محلوں کے پرچون فروشوں تک محدود دکھائی نہیں دیتا بلکہ شہر کے متعدد علاقوں سے آئس، ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات کی برآمدگی کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں، شہر میں دن رات پولیس گشت، ڈولفن فورس، محافظ سکواڈ، پٹرولنگ ٹیمیں، پولیس ناکے، چیک پوسٹیں اور داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی کا نظام موجود ہے، ایکسائز نارکوٹکس سمیت دیگر متعلقہ ادارے بھی کارروائیاں کررہے ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ منشیات بڑے سمگلروں سے نکل کر ہول سیل سطح کے ڈیلروں، مقامی تقسیم کاروں اور آخرکار گلی محلوں کے پرچون فروشوں تک بھی تواترسے پہنچ رہی ہے، ذرائع کے مطابق ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب نے ملتان اور گردونواح میں آئس اور چرس کی مبینہ سرعام فروخت، سہولت کاروں اور پشت پناہی کے الزامات پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران شاہ شمس، لوہاری گیٹ،دہلی گیٹ، چہلیک، قطب پور، الپہ،ممتازآباد، سیتل ماڑی، گلگشت، بی زیڈ، نیو ملتان، حرم گیٹ، پاک گیٹ، کوتوالی، کینٹ، مظفرآباد، مخدوم رشید، جلیل آباد،کپ، بستی ملوک اور صدر شجاع آباد سمیت متعدد علاقوں میں شدید منشیات فروشی کی اطلاعات ہیں، خاص طور پر لوہاری گیٹ کا نام مختلف رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔ریکارڈ یافتہ منشیات ڈیلرز میں فیصل، شہباز، زنیر، عامر، جاوید، حنیف، فاروق، عثمان، عدنان، سلیمان، رضوان، فریاد، آصف، عمر، رمضان، مشتاق، شہزاد، طلحہ، عرفان، وقاص، رفیق، قربان، غلام علی، کاشف، صابر، اکرام، اکبر، محمد علی، جمیل اور سعادت سمیت متعدد افراد کے نام سامنے آئے ہیں ۔یہ امر تشویش کاباعث ہے کہ اگر ایک طرف پولیس کے ناکے اور چیک پوسٹیں موجود ہیں، دوسری طرف رات بھر گشت کرنے والی نفری، ڈولفن فورس، محافظ اسکواڈ اور دیگر پٹرولنگ ٹیمیں موجود ہیں، ایکسائز اور نارکوٹکس ادارے بھی موجود ہیں ۔اس کے باوجود سپلائی چین نکل رہی ہے، منشیات فروش گروہ نگرانی کے باوجود شہر تک پہنچ رہے ہیں اور بڑے سپلائر سے ہول سیلر اور پھر پرچون فروش تک منشیات کی ترسیل روزانہ ریگولربنیادپر ہورہی ہے، پولیس تحقیقات میں مختلف کیسز میں بین الاضلاعی سپلائی نیٹ ورک، ڈیجیٹل رابطوں اور خواتین سمیت مختلف افراد کو مبینہ طور پر ترسیل کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، اندرون شہرملتان کے ہنو کا چھجہ کے بارے میں بھی مقامی سطح پر منشیات فروشی کی شکایات اور دعوے زیر گردش ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی صرف پرچون فروشوں کی گرفتاری تک کیوں محدود ہے، ہر بڑے مقدمے میں یہ معلوم کیوں نہ ہوتا کہ منشیات کہاں سے آئی، کس نے فراہم کی، شہر میں کس نے وصول کی، ہول سیل سطح پر کس نے تقسیم کی، رقم کس کے ذریعے گردش ہوئی اور گرفتار ہونے والے شخص سے اوپر موجود کڑیوں تک تفتیش کہاں تک پہنچی، یہ صورتحال افسوسناک ہے کہ بڑے سمگلر سے نکلنے والی منشیات آخر کس مقام پر سکیورٹی اداروں کی نگرانی سے گزر کر ہول سیلر، پرچون فروش اور پھر نوجوانوں تک پہنچ جاتی ہے؟ سوال ناکوں کی تعداد کا نہیں، سوال ان ناکوں کی مؤثریت کا ہے، اگر قانون کی آنکھ ہر سڑک پر موجود ہے تو پھر منشیات کا راستہ کس جگہ سے کھلتا ہے، کون سی کڑی بار بار بچ نکلتی ہے اور اصل نیٹ ورک تک تفتیش کیوں نہیں پہنچ پاتی؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں منشیات کے بڑھتے ہوئے دھندے کی اصل تصویر سامنے لاسکتا ہے۔عوامی حلقوں نے آئی جی پنجاب، ڈی جی اینٹی نارکوٹکس سمیت متعلقہ اداروں کے حکام سے مطالبہ کیاہے کہ منشیات فروشی کی مین سپلائی چین پربھی ہاتھ ڈالاجائے۔منشیات فروشی کیخلاف حقیقی معنوں میں کریک ڈائون کیاجائے۔







