سائبر کرائم ایجنسی میں تفتیشی کم، 77 ہزار شکایات، 8ہزار انکوائریز زیر التوا، متاثرین دربدر

ملتان(قوم ریسرچ سیل)این سی سی آئی اے میں سٹاف کی شدید کمی، سائبر شکایات کا ’’سیلاب‘‘ تفتیشی افسران کم، ہزاروں درخواستیں انکوائری کے مرحلے میں،متاثرین شدید پریشان ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے) کے قیام کے باوجود ادارہ بڑھتی ہوئی سائبر شکایات کے مقابلے میں تفتیشی افسران اور تربیت یافتہ اسٹاف کی شدید کمی کا سامنا کر رہا ہے، دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2025 میں این سی سی آئی اے کو 157,465 شکایات موصول ہوئیں، 30,214 انکوائریز ہوئیں جبکہ صرف2256 کیسز درج کیے گئے، جبکہ 2026 کے دستیاب اعدادوشمار میں اب تک 77023 شکایات، 8,048 انکوائریز اور 457 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے حکام حکومت کوواضح کرچکے ہیں کہ تربیت یافتہ عملے، تفتیشی افسران خصوصاً خواتین افسران اور پراسیکیوٹرز کی شدید کمی ہے، جبکہ دسمبر 2025 میں بتایا گیا تھا کہ 22500 شکایات کے مقابلے میں 620 کیسز رجسٹر ہوئے اور اوسطاً ایک افسر کے ذمے تقریباً 565 شکایات تھیں۔بتایاگیاہے کہ مئی 2026 میں حکومت کو این سی سی آئی اے کی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 154,000 شکایات موصول ہونے سے بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ کمیٹی نے رجسٹرڈ، نمٹائے گئے اور زیرِ التوا کیسز کی تفصیلی رپورٹ طلب کی۔این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق سائبر فراڈ، آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، جعلی اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے قائم ادارے میں شکایات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، مگر تفتیشی افسران کی محدود تعداد کے باعث ہر درخواست کی بروقت جانچ، ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ، انکوائری، مقدمہ اور چالان مکمل کرنا بڑا انتظامی چیلنج بن گیا ہے۔ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی بھی جولائی 2026 میں این سی سی آئی اے میں شکایات نمٹانے میں تاخیر اور آن لائن پورٹل کے تکنیکی مسائل پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔تحقیقی سوال یہ ہے کہ 77 ہزار سے زائد نئی شکایات اور ہزاروں انکوائریز کے مقابلے میں این سی سی آئی اے کے پاس عملی طور پر کتنے تفتیشی افسران موجود ہیں، ہر افسر کے ذمے کتنے کیسز ہیں اور 8048 انکوائریز میں سے کتنی آج بھی زیرِ التوا ہیں؟ اس حوالے سے حکام کاکہناہے کہ این سی سی آئی اے فرائض کی ادائیگی،متاثرین کو انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے۔حکومت کوتفتیشی افسران کی کمی سے آگاہ کردیاگیاہے۔تفتیشی افسران کی کمی کامسئلہ بھی جلدہی حل ہوجائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں