ملتان(کورٹ رپورٹر) برائی کیخلاف روزنامہ قوم کاجہادکامیاب ہوگیا۔پانچ مختلف عدالتوں میں ڈاکٹر احسن اظہر منیر کیس کا مقدمہ ان کے سگے ماموں سابق ایڈیشنل سیشن جج محمود غنی جو کہ ملتان میں تعینات تھے اور حال ہی میں ان کا تبادلہ لیاقت پورہوا ہے کی تمام تر کوششوں اور منتوں کے باوجود ایڈیشنل سیشن حج ملتان محمد الیاس ریحان نے بدکاری اور آبرو ریزی کے ملزم کی ضمانت خارج کر دی۔ قبل ازیں ملتان میں تعینات تین ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز میں اس مقدمے کو سننے سے انکار کر دیا تھا جس پر مقدمے کی فائل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھجوا دی گئی تو وکلا صفائی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے استفسار کیا کہ وہ برائے مہربانی اس مقدمے کو ایڈیشنل سیشن جج رانا عبدالحکیم کے پاس واپس بھجوا دیں۔ سیشن جج نے مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج محمد الیاس ریحان کو مارک کر دیا جہاں گزشتہ صبح 10 بجے دو نوںپارٹیوں کی باری باری جرح ہوئی تو معززجج فائل لے کر اپنے چیمبر میں چلے گئے اور انہوں نے چار گھنٹے تک فائل کا مکمل معائنہ کیا اور ساڑھے تین بجے ڈاکٹر احسن کی ضمانت کی درخواست خارج کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ وکیل استغاثہ ضیاء الرحمان رندھاوا نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل میں بتایا کہ ملزم ڈاکٹر احسن اظہر منیر نے 19 اگست 2026 کو ایک اسٹام پیپر جاری کروایا جس پر طلاق نامہ لکھوایا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو 10 جنوری 2025 کو طلاق دے دی تھی اور اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ اس کی اہلیہ 19 اگست 2026 تک اسی کے گھر میں بچوں سمیت رہی ۔وکیل استغاثہ نےیہ موقف اختیار کیا کہ اس طرح طلاق دینے کے ڈیڑھ سال بعد اپنے گھر رکھنے پر ملزم کے خلاف ایک اور مقدمہ بنتا ہے کہ اتنا عرصہ وہ حرام کاری کرتا رہا ۔اگر اس نے 10 جنوری 2025 کو اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی تو پھر یہ طلاق نامہ 19 اگست 2026 کو تحریر کیوں ہوا۔ عدالت میں ایک لڑکی آمنہ کا خلع نامہ بھی پیش کیا گیا جس نے اپنے خلع نامہ میں الزام عائد کیا تھاکہ اس کا شوہر ڈاکٹر احسن اظہر منیر بد کردار ہے اور اس کے بہت سی لڑکیوں کے ساتھ نہ صرف ناجائز تعلقات ہیں بلکہ گندی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ ناوا عظیم ڈی ایس پی ارشد قیوم نے بھی عدالت میں جمع کروائی گئی اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملزم پولیس کی تفتیش میں گناہگار پایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں عدالت میں وکیل استغاثہ کی طرف سے یہ ثبوت بھی پیش کیے گئے کہ ملزم چونکہ نشے کا عادی ہے لہٰذاتین ماہ تک لاہور میں منشیات کی علاج گاہ ولنگ ویز میں داخل رہا ہے۔ جس وقت فیصلہ سنایا گیاعدالت میں ملزم کے والد، ماموں اور ایڈیشنل سیشن جج محمود غنی کا وکیل بیٹا بھی موجود تھے ۔واضح رہےکہ عدالت میں سماعت کے موقع پردونوں طرف کے وکلائےاستغاثہ اوروکلائےصفائی کی جانب سے ریکارڈمیں روزنامہ قوم کی کاپیاں لف کرکے پیش کی گئیں۔







