بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ملتان ریلوے ڈویژن میں منتقل شدہ ریلوے اراضی کے تحفظ پر سوالات 144 کنال 18 مرلہ اراضی وفاقی حکومت بذریعہ پاکستان ریلوے کے نام منتقل، مختلف مقامات پر مبینہ قبضوں اور تجاوزات کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہونے کی شکایات ملتان ریلوے ڈویژن میں ریلوے اراضی کی منتقلی، ملکیتی ریکارڈ کی تکمیل، موقع پر حدبندی اور سرکاری رقبے پر مبینہ قبضوں و تجاوزات کے خلاف کارروائی کے حوالے سے اہم سوالات سامنے آ گئے ہیں دستیاب ریکارڈ کے مطابق انتقال نمبر 1596 تبدیلی ، حقوقِ ملکیت، کھاتہ نمبر 47، کھتونی نمبر 53 تا 84 کے تحت مجموعی طور پر 144 کنال 18 مرلہ اراضی وفاقی حکومت بذریعہ پاکستان ریلوے کے نام منتقل ہو چکی ہے، تاہم بعض مقامات پر ریلوے کی ملکیتی اراضی کے مبینہ غیر مجاز استعمال اور قبضوں کے خلاف مؤثر عملی اقدامات نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں ذرائع کے مطابق مذکورہ اراضی کی منتقلی ریلوے کی ملکیتی زمین کو سرکاری ریکارڈ میں محفوظ بنانے کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے تاہم ماہرین کے مطابق محض انتقال درج ہو جانا کافی نہیں بلکہ اس کے بعد موقع پر قبضہ، حدبندی، پیمائش، نشاندہی، سائٹ پلان اور ریلوے کے لینڈ ریکارڈ کو باہم ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، تاکہ سرکاری اراضی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے دستیاب معلومات کے مطابق انسپکٹر آف ورکس محمد عابد کا تبادلہ ہو چکا ہے، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ مبینہ طور پر تاحال سمہ سٹہ سیکشن میں فرائض انجام دے رہے ہیں دوسری جانب ریلوے ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری تبادلہ احکامات میں متعلقہ افسران کو نئی تعیناتی کی جگہ پر فوری طور پر ڈیوٹی سنبھالنے کی ہدایات دی گئی تھیں ذرائع کے مطابق دیگر متعلقہ افسران کی جانب سے تبادلہ احکامات پر عملدرآمد کیا گیا، تاہم محمد عابد کی موجودہ تعیناتی کے حوالے سے صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اس امر کی حتمی تصدیق ریلوے انتظامیہ کے سرکاری ریکارڈ سے ہی ممکن ہے کہ آیا مذکورہ افسر کو موجودہ جگہ پر کام جاری رکھنے کے لیے کوئی الگ انتظامی حکم، توسیع یا مجاز اتھارٹی کی منظوری حاصل ہے یا نہیں ذرائع کے مطابق روئی سینما/ریلوے اسٹیشن بہاولپور کے قریب تقریباً چار کنال کمرشل ریلوے اراضی بھی توجہ طلب معاملہ بن چکی ہے، جہاں مبینہ قبضے یا غیر مجاز استعمال کی شکایات سامنے آئی ہیں اسی طرح واپڈا دفتر کے قریب ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف واقع اراضی کے حوالے سے بھی مبینہ تجاوزات کی نشاندہی کی گئی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ اراضی تجارتی اعتبار سے کروڑوں روپے مالیت کی حامل ہو سکتی ہے، تاہم اس کی حتمی مالیت کا تعین متعلقہ ریلوے و ریونیو ریکارڈ، موقع کی پیمائش اور موجودہ سرکاری کمرشل ویلیو کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مذکورہ رقبہ ریلوے کے ملکیتی ریکارڈ میں شامل ہے تو اس کی موقع پر حدبندی، ڈیمارکیشن، قبضہ واگزاری اور قانونی حیثیت کے تعین کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باقاعدہ رپورٹ تیار کی گئی یا نہیں دوسری جانب موزہ غنی پور میں 77 کنال ایک مرلہ کمرشل ریلوے اراضی کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ رقبے پر ایک رائس مل قائم ہے جبکہ تقریباً دو کنال اراضی پر مبینہ طور پر نجی افراد کے قبضے کی نشاندہی کی گئی ہے اگر ریونیو ریکارڈ اور ریلوے کے ملکیتی ریکارڈ سے مذکورہ اراضی کی ملکیت پاکستان ریلوے کے نام ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ حکام کے لیے ضروری ہوگا کہ موقع پر موجود رقبے کی پیمائش، حدبندی اور استعمال کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے اور اس حوالے سے باقاعدہ رپورٹ مجاز اتھارٹی کو ارسال کی جائے ریلوے اراضی کے معاملات میں صرف ملکیتی انتقال کا اندراج ہی کافی نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ فیلڈ بک، سائٹ پلان، ریونیو ریکارڈ، ریلوے لینڈ ریکارڈ، حدبندی اور موقع پر موجود فزیکل قبضے کا باہمی مطابقت رکھنا بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے سرکاری اراضی پر کسی نجی شخص یا ادارے کے مبینہ قبضے یا تجارتی استعمال کی صورت میں متعلقہ فیلڈ حکام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ موقع کا معائنہ، پیمائش اور نشاندہی کرکے حقائق پر مبنی رپورٹ تیار کریں اور معاملہ مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کریں، تاکہ قانونی حیثیت واضح ہونے کے بعد قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے اس تناظر میں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ جن مقامات کی نشاندہی کی جا رہی ہے وہاں متعلقہ AEN، انسپکٹر آف ورکس اور دیگر لینڈ و انجینئرنگ حکام نے کب کب موقع کا معائنہ کیا، آیا باقاعدہ پیمائش اور ڈیمارکیشن کی گئی، کسی شخص یا ادارے کو نوٹس جاری کیے گئے یا نہیں اور اگر تجاوزات ثابت ہوئیں تو قبضہ واگزاری کے لیے کوئی کیس مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کیا گیا یا نہیں ریلوے ذرائع کے مطابق کسی سرکاری اراضی کی ملکیت وفاقی حکومت بذریعہ پاکستان ریلوے کے نام منتقل ہونے کے بعد انتظامیہ کی ذمہ داری مزید اہم ہو جاتی ہے کہ ملکیتی ریکارڈ کو موقع پر موجود صورتحال سے ہم آہنگ رکھا جائے، اراضی کی باقاعدہ حدبندی مکمل کی جائے اور کسی بھی غیر مجاز قبضے یا استعمال کی صورت میں قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے موجودہ صورتحال میں انتقال نمبر 96 کے تحت 144 کنال 18 مرلہ اراضی سمیت دیگر ریلوے رقبے کے تحفظ، موقع پر فزیکل قبضے کی تصدیق، ڈیمارکیشن اور مبینہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے ملتان ریلوے ڈویژن کی عملی پیش رفت پر سوالات اٹھ رہے ہیں اگر متعلقہ حکام کی جانب سے مذکورہ معاملات پر پہلے ہی کارروائی کی جا چکی ہے تو موقع رپورٹس، ڈیمارکیشن رپورٹس، جاری کردہ نوٹسز، قبضہ واگزاری کی کارروائی اور متعلقہ ریکارڈ سامنے آنے سے صورتحال واضح ہو سکتی ہے ریلوے انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ محمد عابد کی موجودہ تعیناتی اور تبادلہ احکامات پر عملدرآمد، بہاولپور کے قریب چار کنال کمرشل رقبے، واپڈا دفتر کے قریب ریلوے اراضی اور غنی پور کے 77 کنال ایک مرلہ رقبے کا ریونیو و ریلوے ریکارڈ کی روشنی میں مشترکہ فیلڈ آڈٹ کرایا جائے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ریلوے کی ملکیتی اراضی میں سے کتنا رقبہ موقع پر محکمہ کے قبضے میں ہے، کہاں نجی یا دیگر اداروں کا استعمال موجود ہے اور کن مقامات پر حدبندی یا قبضہ واگزاری کی ضرورت ہے متعلقہ ریلوے حکام کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔







