ملتان (قوم ریسرچ سیل) بجلی کنکشن لوڈمیں اضافے اورتبدیلی ملکیت کے کیسزکئی کئی ماہ التواکاشکار،صارفین مختلف میپکودفاتر کے درمیان شٹل کاک بن گئے۔ذرائع کے مطابق گھریلو، کمرشل، صنعتی اور دیگر کیٹیگریز کے صارفین کی جانب سے تمام مطلوبہ کارروائی مکمل کرنے اور ڈیمانڈ نوٹس جمع کرانے کے باوجود لوڈ میں اضافے کو بجلی کے بلوں میں شامل نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مبینہ طور پر رشوت کے حصول کے لیے صارفین کو مختلف دفاتر کے درمیان شٹل کاک بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ مختلف کیسز کئی کئی ماہ سے زیر التوا ہیں اور متعلقہ عملے کی مبینہ لیت و لعل کے باعث صارفین دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، جبکہ رشوت کے بغیر جائز کام کرانا بھی محال ہوگیا ہے۔میپکو ریجن کے مختلف سب ڈویژنوں اور ڈویژنل دفاتر میں صارفین نے اپنے بجلی کے کنکشنز کا منظور شدہ لوڈ بڑھانے، لوڈ میں تبدیلی اور ملکیت کی تبدیلی کے لیے درخواستیں جمع کرا رکھی ہیں، تاہم ان درخواستوں پر مقررہ طریقہ کار کے مطابق بروقت کارروائی نہیں کی جا رہی۔ صارفین کو کبھی سب ڈویژن، کبھی ڈویژن اور کبھی دیگر متعلقہ دفاتر سے رجوع کرنے کا کہا جاتا ہے، جس کے باعث معمولی نوعیت کی کارروائی بھی طویل اور پیچیدہ مراحل میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مختلف مقامات پر مبینہ طور پر رشوت کے حصول کے لیے فائلوں کو دانستہ طور پر روکا جاتا ہے اور ہر مرحلے پر صارفین سے ناجائز مطالبات کیے جاتے ہیں۔ صارفین کی شکایات کے مطابق تمام قانونی اور دفتری تقاضے پورے کرنے اور ڈیمانڈ نوٹس کی رقم جمع کرانے کے بعد بھی مطلوبہ لوڈ کو میپکو کے ریکارڈ اور بجلی کے بلوں میں بروقت شامل نہیں کیا جاتا۔صارفین کا کہنا ہے کہ ڈیمانڈ نوٹس کی ادائیگی کے بعد بھی انہیں کئی کئی ماہ تک متعلقہ دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ کبھی فائل سب ڈویژن میں زیر التوا ہونے کا عذر پیش کیا جاتا ہے تو کبھی ڈویژنل دفتر سے کارروائی مکمل نہ ہونے کا جواز دے کر صارفین کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض صارفین کو مبینہ طور پر رشوت کی ادائیگی کے بعد ہی ان کے زیر التوا کیسز کی کارروائی مکمل ہونے کی امید دلائی جاتی ہے، جس سے میپکو کے دفتری نظام میں شفافیت اور میرٹ کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔متاثرہ صارفین نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر میپکو انجینئر جام گل محمد زاہد سے مطالبہ کیا ہے کہ میپکو ریجن کے تمام سب ڈویژنوں اور ڈویژنل دفاتر میں لوڈ میں اضافے، لوڈ کی تبدیلی اور تبدیلیٔ ملکیت کے زیر التوا کیسز کا فوری نوٹس لیا جائے، تمام درخواستوں کی تفصیلات طلب کرکے ان کی جانچ پڑتال کرائی جائے اور ڈیمانڈ نوٹس کی ادائیگی سمیت دیگر تقاضے پورے کرنے والے صارفین کے کیسز کی کارروائی مکمل کرکے مطلوبہ لوڈ کو فوری طور پر بلوں میں شامل کرایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر رشوت طلب کرنے اور بلاجواز تاخیر کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف بھی شفاف انکوائری کرکے محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ صارفین کو غیر ضروری دفتری چکروں اور مبینہ ناجائز مطالبات سے نجات مل اس حوالے سے رابطہ کرنے پر میپکو حکام نے بتایا کہ معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس بات کی جانچ کی جائے گی کہ آیا لوڈ میں اضافے اور دیگر تبدیلیوں کے کیسز واقعی غیر ضروری طور پر زیر التوا ہیں۔ حکام کے مطابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر میپکو کی ہدایت ہے کہ صارفین کے جائز کام فوری طور پر کیے جائیں اور اگر کوئی اہلکار بلاجواز تاخیر یا لیت و لعل سے کام لے رہا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔







