تازہ ترین

ایکسین واسا رانا اکرام کا “جادو”، بیک وقت ملتان ڈیوٹی، رحیم یار خان تعلیم، 82 فیصد حاضری، نیا پنڈور کھل گیا

ملتان ( قوم انویسٹی گیشن سیل ) واسا ملتان میں دو اہم ترین عہدوں پر تعینات ایکسین گلگشت نارتھ و ڈپٹی ڈائریکٹر ڈسپوزل ڈویژن رانا محمد اکرام کی بیک وقت سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے ریگولر پروگرام کے تحت اعلیٰ تعلیم کی انجینئرنگ ڈگری حاصل کرنے کے بارے میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں ، رانا محمد اکرام نے ملازمت کیساتھ بغیر سٹڈی لیو شہر سے 250 کلومیٹر دور رحیم یار خان کے پرائیویٹ کالج سے بی ایس سی انجینئرنگ کی تعلیم بھی حاصل کرلی، واسا حکام تنخواہوں اور مراعات کی مد میں قومی خزانے کے ضیاع پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ روزنامہ قوم کی تحقیقات کے مطابق رانا محمد اکرام نے رول نمبر 2022- -50 UET-SCET-RYK-CIVIL سال 2022 تا 2026 چار سالہ ریگولر پروگرام کے تحت رحیم یارخان میں سویڈش کالج آف ٹیکنالوجی نامی ایک پرائیویٹ ادارے میں بی ایس سی انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کی جس کا ڈگری پروگرام 30 جون 2026 کو اختتام پذیر ہوا ہے، حاضری شیٹ پر مذکورہ بیج کے 80 طلباء کا ریکارڈ موجود ہے جن میں محمد اکرام کے نام کے آگے آٹھویں سمسٹر کی ٹوٹل حاضری 82 فیصد درج ہے۔حیران کن امر یہ ہے رانا محمد اکرام نے دو سرکاری عہدوں پر رہتے ہوئے اڑھائی سو کلو میٹر دور کالج میں 82 فیصد باقاعدہ حاضری کس طرح پوری کی جبکہ اسی دوران وہ واسا ملتان میں دو عہدوں پر سرکاری ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے تھے اور پی ڈی پی پروگرام سمیت اربوں روپے کے مختلف ترقیاتی کام بھی کروا رہے ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رانا محمد اکرام نے بی ایس سی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے منیجنگ ڈائریکٹر واسا ملتان کو 8 فروری 2022 کو درخواست دیکر لیٹر نمبر 42 کے تحت 16 فروری 2022 کو بی ایس سی سول انجینئرنگ کا اجازت نامہ ( این او سی) حاصل کیا ۔ یہاں توجہ طلب امر یہ ہے رانا محمد اکرام ایک طرف واسا میں ایکسین گلگشت نارتھ اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈسپوزل ڈویژن کے دو اہم ترین عہدوں پر 24/7 کی سرکاری ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور دوسری طرف رحیم یار خان میں ریگولر مارننگ پروگرام میں بی ایس ایس سی سول انجینئرنگ 4 سالہ پروگرام میں زیر تعلیم بھی تھے۔قانونی اور اصولی طور جب کوئی سرکاری ملازم اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کے لئے ’’ سٹڈی لیو‘‘لازمی شرط ہے ، یا تو اسے ملازمت کرنی چاہیے یا پھر وہ تعلیم حاصل کرے لیکن رانا اکرام نے ایسا نہیں کیا ۔ ملتان سے رحیم یار خان کا فاصلہ تقریباً 250 تا 300 کلومیٹر یک طرفہ بنتا ہےجبکہ آمدورفت میں کم از کم پانچ تا چھ گھنٹے صرف ہوتے ہیں اور 9 سے 11 مضامین میں اگر 6 گھنٹے بھی کلاسز اٹینڈ کی جائیں تو یہ دورانیہ 12 گھنٹے سے زائد بنتا ہے ۔اس لئے یہ امر حیران کن ہے کہ ایک افسر بیک وقت ملتان میں سرکاری ڈیوٹی کیسے انجام دیتا رہا اور تقریباً 250 تا 300 کلومیٹر دور واقع تعلیمی ادارے میں بطور ریگولر سٹوڈنٹ باقاعدہ کلاسوں میں کس طرح شرکت کرتا رہا؟یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یا تو انہوں نے سرکاری ڈیوٹی انجام نہیں دی یا پھر کلاسز ا ٹینڈ نہیں کیں ، یہاں واسا ملتان کے افسران کی سنگین غفلت بھی واضح ہے کہ انہوں نے این او سی جاری کرتے وقت بی ایس سی انجینئرنگ کلاسوں کے اوقات،مقام، سفر کا وقت ، حاضری کی لازمی شرط ، سرکاری ڈیوٹی کے اوقات، تعطیلات،سٹڈی لیو یا دیگر مجاز رخصت،اور محکمانہ فرائض کا جائزہ بالکل نہیں لیا جو کہ ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ یہاں سیکرٹری ہاؤسنگ، اربن پلاننگ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، ڈی جی واسا پنجاب ، ایم ڈی واسا ملتان سمیت صوبائی و وفاقی تحقیقاتی اداروں کا بھی فرض اور ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سویڈش کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی رحیم یارخان سے براہ راست تصدیق کرائیں کہ رانا محمد اکرام کی 82 فیصد حاضری کس بنیاد پر لگائی گئی؟کیا رانا محمد اکرام نے ان کلاسوں یا امتحانات کے لیے محکمہ واسا سے سٹڈی لیو یا امتحانات کے لئے رخصت لی تھی یا نہیں ؟ اس لیے رانا محمد اکرام کا یہ معاملہ فوری کارروائی کا متقاضی ہے،سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب ، ڈی جی واسا پنجاب اور ایم ڈی واسا ملتان کو چاہیے کہ وہ ادارے کو دھوکے میں رکھ کر سال 2022 سے 30 جون 2026 تک بیک وقت سرکاری ملازمت اور رحیم یار خان سے بغیر سٹڈی لیو بی ایس سی سول انجینئرنگ کی ریگولر تعیلم حاصل کرنے پر رانا محمد اکرام کو فوری طور پر معطل کرکے معاملے کی تحقیقات کرائیں اور سرکاری فرائض میں غفلت یا ڈگری پروگرام میں شکوک و شبہات پر سویڈش کالج آف ٹیکنالوجی رحیم یارخان کو فوری طور پر ڈگری کینسل کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ اس حوالے سے روزنامہ “قوم “نے ایکسین گلگشت رانا محمد اکرام سے مؤقف جاننے کے لئے واٹس ایپ پر رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں