شادی خانہ ۔۔۔۔۔۔۔

رورل ڈاکٹر آرگنائزیشن کا زمانہ 1986ء سے لیکر 1990ء تک کا ہے۔ اپنے گزشتہ دو کالموں میں صحافی برادری سے تعلق اور پھر خاص طور پر غضنفر علی شاہی مرحوم اور مسیح اللہ جامپوری صاحب کے حوالے جو کچھ لکھا ہے یہ اسی دور سے تعلق رکھتا تھا۔ مسیح اللہ جامپوری صاحب ابھی بھی جوان ہیں اللہ تعالیٰ انہیں عمر خضر عطا فرمائے(آمین)۔ شاہی صاحب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں مگر ان کا ذکر آئندہ کالموں میں بھی آتا رہے گا۔
آج میں نے عنوان ذرا تبدیل کیا ہے۔ اس لیے کہ میری شادی اپریل 1987ء کو ہوئی تھی۔ آج اسی کے بارے میں لکھا ہے میں نے شادی کے آگے خانہ لکھ کر چھوڑ دیا ہے آپ خالی جگہ کو اپنے حساب سے پر کرسکتے ہیں میں بنیادی طور پر ضدی، آزاد خیال لاپرواہ طبیعت کا مالک ہوں جبکہ شادی بنیادی طور پر ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونا ہے۔ میرا ایک دوست کہا کرتا تھا کہ شادی وہ آخری کام ہے جس کے بعد آپ اپنے لیے زندہ نہیں ہوتے اور یہ زندگی کی آخری خوشی ہوتی ہے۔ اس لیے اس میں جتنی تاخیر ہو گی اتنا ہی آپ کیلئے اچھا ہے اور پنجابی کی کہاوت ہے آبا آبا کہندے سی بڑے سکھی رہندے سی۔ ابا ابا کوہایا تے سارا دکھ گوایا (ابا ابا کہتے تھے تو خوش رہتے تھے ابا ابا کہلوایا تو بڑا دکھ پایا) والدین کو اولاد کی شادی کی فکر ہونا لازمی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھ سکیں۔ میرے والدین بھی میری شادی کے بارے میں فکر مند تھے۔ جب میں دسویں جماعت میں تھا تو میری والدہ اپنی عزیزہ کی بیٹی سے میری شادی کرنا چاہتی تھیں اس وقت میری عمر 16 سال تھی، میں نے انکار کر دیا کیونکہ میرے والد صاحب کا خاندان تو ہندوستان والے مشرقی پنجاب میں تھا یہاں والدہ کے بھی چند رشتہ دار تھے ان کے خاندان کے اکثر افراد 1947ء کے فسادات میں شہید ہو گئے تھے۔ میرے والد صاحب نے کہا جیسے ظفر کی مرضی ویسے ہی ہو گا۔ میرے ننھیال والے میری والدہ سمیت ہم باپ بیٹے کے سخت خلاف ہو گئے۔ والد صاحب کے ساتھ میرا تعلق باپ بیٹے سے زیادہ دوستی کا تھا۔ 1982ء میں ہاؤس جاب کرنے کے بعد والد صاحب نے بھی شادی کے بارے میں کہنا شروع کر دیا میں نے کہا ٹھیک ہے اس وقت دوسری ذات برادی میں بھی شادی ہونے کا رواج شروع ہو تو چکا تھا مگر اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے جب میں نے والد سے صاحب سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ تم جہاں چاہو شادی کر لو مگر ایک بات کا خیال رکھنا کہ کسی دوسری برادری میں شادی کی تو تمہاری بہنوں کی شادی میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ با الفاظ دیگر میرے والد صاحب نے “کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے”
اس طرح برادری میں رشتہ ڈھونڈنے کی ذمہ داری مرحوم افتخار چھاوڑی نے اپنی بیوی کے ذمہ لگا دی۔
بھابھی صاحب نے جب بتایا کہ جہاں رشتہ ہو سکتا تو افتخار چھاوڑی ماں جی (افتخار کی والدہ کو میں بھی ماں جی کرتا تھا) ہنس پڑے کیونکہ وہ سارے رشتے گجر برادری سے تھے بھابھی صاحبہ کو بتایا ظفر تو آرائیں برادری سے ہے وہ پریشان ہو گئی کیونکہ جس طرح کا ہمارا دوستوں اور بھائیوں جیسا تھا وہ صرف برادری میں ہی ہو سکتا ہے۔ خیر اس کے بعد بھابھی صاحبہ نے آرائیں برادری میں رشتہ کی تلاش شروع کردی۔ بھابھی صاحبہ اس دور کے لحاظ سے سگھڑ ہونے کے ساتھ ساتھ یعنی بہت اچھا کھانا بنانے اور گھر کی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے نبھانے کے علاوہ ترقی پسند اور روشن خیال تھیں۔ میرا خیال تھا کہ وہ انہیں صفات کی حامل لڑکی کا رشتہ ڈھونڈے گی۔ ایک جگہ ان کی بات ہوئی تو انہوں نے مجھے کہا کہ بھائی آپ اپنے والدین بلا لیں تاکہ وہ ان سے مل لیں۔ والد اور والدہ صاحبہ نے ملنے کے بعد بتایا بہت شریف خاندان لڑکی پڑھی لکھی ہے وغیرہ وغیرہ۔ بحرحال 1983ء میں میری منگنی ہو گئی میں نے ایک بار اپنے والد صاحب سے کہا میرے تایا زاد بھائی بشیر مرحوم انڈیا سے آئے ہوئے تھے انہوں نے کہا ہے لڑکی کی عمر زیادہ لگتی ہے تو والد صاحب نے کہا تو کیا سمجھتا ہے کہ 16 جماعت بھی پڑھی ہو اور ہو بھی 16 سال کی یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے منگنی کو چار سال چلایا آخر کار شادی ہو ہی گئی۔ میں نے اپنی طبیعت کے بارے میں بتایا تھا میرا خاندانی پس منظر ہندوستان میں اس طرح تھا کہ سکھوں کے ساتھ زیادہ واسطہ رہنا تھا۔ جہاں مسلمان بھی کھلے ڈلے ماحول کے عادی تھے۔ منافقت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ زمیندارہ کرتے تھے کبھی رشوت یا دو نمبر کام نہیں کرتے تھے۔ میرے والد صاحب البتہ علاقہ بھر میں شریف آدمی کے طور پر جانے جاتے تھے میں زیادہ تفصیل نہیں لکھ سکتا۔ بنیادی بات دونوں خاندان کا مختلف کلچر سے تعلق رکھنا تھے کیونکہ ان کا تعلق ضلع جالندھر سے تھا جہاں زیادہ تر پڑھے لکھے، محنتی اور شریف لوگ ہوتے تھے۔ لڑائی جھگڑا سے پرہیز کرتے تھے جبکہ میرے بزرگ ضلع حصار سے ریاست مالیر کوئلہ میں تقریباً دو سو سال پہلے آباد ہو گیا اس کی تاریخ میں بھارت یاترا کے عنوان سے لکھ چکا ہوں۔ میرے گاؤں والوں سے میرے سسر نے پتہ کروایا تو والد صاحب کی وجہ سے سب نے رپورٹ دی کہ بڑا شریف خاندان جس میں بھی شامل تھا۔
بس جب بھابھی صاحبہ سے گلہ کرتا تو وہ ہمیشہ یہی کہتی کہ اس سے اچھی آپ کو بیوی نہیں مل سکتی تھی۔ بھابھی نسرین نے گزشتہ 35/40 سال میں جس طرح بڑی بہن بن کر میرے بچوں کی خوشیاں منائی ہیں اور میری بیوی کا ساتھ دیا ہے اس کا اجر اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔ شادی کو اب چھ ماہ بعد 40 سال ہونے والے ہیں اس کے باوجود ہم دونوں اپنی ڈگر پر چلتے رہے۔
میں اعتراف کرتا ہوں اس رشتہ کو نبھانے میں میری بیوی کا زیادہ کردار ہے اور اللہ تعالیٰ نے بہترین اولاد سے سرفراز کیا میرے دونوں بیٹے بظاہر اپنی ماں کے تابعدار لگتے ہیں مگر میرے پکے دوست ہیں میری مصروفیات اور خوشیوں پر بہت خوش ہوتے ہیں۔ بیٹیاں بھی میرے لیے بہت خوش قسمتی کا باعث ہیں۔ آخر میں مصطفیٰ زبیر مرحوم کے چند اشعار۔
تیرے غموں نے میرے ہر نشاط کو سمجھا،
میرا نشاط تیرے غم سے آشنا نہ ہوا۔
کہاں کہاں نہ میرے پاؤں لڑکھڑائے مگر،
تیرا ثبات عجب تھا کہ حادثہ نہ ہوا۔
تیرے دکھوں نے پکارا تو میں قریب نہ تھا،
میرے غموں نے صدا دی تو فاصلہ نہ ہوا۔
ہزار شمعوں کا بنتا رہا میں پروانہ،
کسی کا گھر تیرے دل میں میرے سوا نہ ہوا۔۔

شیئر کریں

:مزید خبریں