رورل ڈاکٹر آرگنائزیشن (قسط نمبر4)

غضنفر شاہی اور مسیح اللہ جامپوری صاحب سے اس دور میں اکثر ملاقات رہتی تھی۔ شاہی صاحب سے رات کو بھی کسی چائے خانے پر ملاقات ہو جاتی تھی۔ دونوں شخصیات نظریاتی پس منظر رکھتی تھیں اکثر بحث بھی ہو جا تی تھی۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت بھٹو صاحب اور بائیں بازو کے نظریاتی رہنمائوں کے درمیان شروع میں کشمکش شروع ہوگئی تھی۔ بھٹو صاحب کے دور حکومت میں، میں اور میرے دوست بھی بھٹو صاحب کے خلاف تھے۔ ذکر کر چکا ہوں بھٹو صاحب کے خلاف طالب علم دوستوں کے ساتھ بس میں جلوس نکال کر گئے تھے۔ شاہی صاحب اور مسیح اللہ صاحب بھی بھٹو صاحب کے دور حکومت میں بائیں بازو کے رہنمائوں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں پر افسوس کرتے تھے۔ جے اے رحیم ،معراج محمد خان اور رانا مختیار کے ساتھ بھی بڑی زیادتی ہوئی بعد میں مصطفیٰ کھر کے ساتھیوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ بھی کسی طور پر درست نہیں تھا۔ اختلاف رائے کو برداشت کرنا چاہئے تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارے بائیں بازو کے رہنما خاص طور پر جے رحیم صاحب بھٹو صاحب پر حد سے زیادہ تنقید کرتے تھے بلکہ بھٹو صاحب کی بے عزتی بھی کر دیتے تھے۔ ایک حد تک بھٹو صاحب برداشت کرتے رہے مگر پھر جاگیر دار بھٹو یا یوں کہہ لیں جاگیردار ممبران اسمبلی کی سازش اور خوشامد نے بھٹو صاحب کو اس حرکت پر مجبور کردیا ۔ اسی طرح معراج محمد خان جنہیں بھٹو صاحب نے اپنا جانشین نمبر1 قرار دیا تھا ان کی ایک آنکھ بھی تشدد کی وجہ سے ضائع ہوگئی مگر جب ضیاء الحق نے بھٹو کے خلاف معراج محمد خان کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ معراج محمد خان جو کہ این ایس ایف (NSF) کے پاکستان کے رہنما تھے اور ایوب خان کے خلاف تحریک کراچی میں انہوں نے ہی شروع کی تھی۔ شاہی صاحب اور جام پوری صاحب سے میں نے سوال کیا کہ سارا الزام بھٹو پر دیا جاسکتاہے ۔ کیا ہمارے بائیں بازو کے انقلابی رہنما اس وقت کے حالات کے مطابق کوئی درمیانی راستہ نہیں نکال سکتے تھے۔ جس طرح شیخ رشید ، شیخ رفیق اور رانا حنیف نے نکالا تھا۔ اس لڑائی کا فائدہ کس کو ہوا۔ رجعت پسند قوتیں پیپلزپارٹی میں مضبوط ہو گئیں اور بھٹو صاحب کی گرفت بھی کمزور ہونا شروع ہوگئی جس سے اسٹیبلشمنٹ اور مخالف جماعتوں نے فائدہ اٹھایا۔ مذکورہ رہنمائوں کے پیپلزپارٹی چھوڑ جانے کے بعد جاگیردار ممبران اسمبلی اور وہ روائتی جاگیردار سیاستدان جو 1977ء کے انتخابات میں بھٹو صاحب کے عام کارکن سے شکست کھا گئے تھے انہیں بھٹو صاحب تک رسائی ملنا شروع ہوگئی۔ مسیح اللہ جامپوری صاحب نے بتایا اور میں نے ان کے کسی کالم میں پڑھا تھا کہ بائیں بازو کے جو وزیر تھے وہ بھی کسی نظریاتی کارکن کے کام نہیں کرتے تھے بلکہ جاگیر دار ممبران نظریاتی کارکنوں کی حیثیت سمجھتے تھے۔ وہ کام کر دیتے تھے یہ بھی المیہ تھا کہ اکثر لبرل ترقی پسند حضرات معاشرتی اقدار اور روایات کی پاسداری نہیں کرتے تھے۔ میں نے افتخار چھاوڑی مرحوم اور ڈاکٹر میاں رشید کو ان اخلاقی اقدار کی پاسداری کرتے دیکھا ہے۔ انہی حالات کا نتیجہ تھا کہ بھٹو صاحب کو اپنی مقبولیت پہ یقین نہیں رہا تھا اور انہوں نے 1977ء کے انتخابات میں زیادہ تر ٹکٹ جاگیر داروں کو دیئے کیونکہ انکا اپنا بھی ووٹ بینک تھا۔ 1977ء کے امیدواروں میں 90 فیصد سے زیادہ ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے جنہوں نے1970میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔ 1977ء کے الیکشن میں بلامقابلہ الیکشن میں کامیابی کی خواہش نے مخالف قوتوں کو جواز فراہم کیا کہ وہ حکومت مخالف تحریک چلا سکیں ۔ حالانکہ اگر یہ کام نہ کیا جاتا تو بھی پیپلزپارٹی کامیاب ہوجاتی۔ بھٹو صاحب دوبارہ الیکشن پر راضی ہوگئے تھے مگر ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا کر بھٹو حکومت کو ختم کر دیا اور 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کیا مگر اسے معلوم تھا کہ بھٹو صاحب الیکشن جیت جائیں گے۔ انہوں نے انتخابات سے پہلے احتساب کا نعرہ لگا کر جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا اور پیپلزپارٹی کے جاگیرداروں کی اکثریت اندرون خانہ ضیاء الحق سے جا ملی اور بائیں بازئوں کے ناراض کارکن بھی شروع میں خوشیاں مناتے نظر آئے۔ پھر بھی جو نظریاتی کارکن رہ گئے تھے انہوں نے کوڑے کھائے۔ شاہی قلعہ اور قید بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ خود سوزی کی اور نعرے لگاتے ہوئے پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔اس نقطہ پر شاہی صاحب ہنستے ہوئے مجھ سے متفق ہو جاتے تھے۔ بائیں بازو کے رہنمائوں اور بھٹو صاحب کی اس لڑائی سے انقلاب اور غریبوں ، کسانوں اور مزدوروں کی منزل بہت دور ہوگئی۔ 22 سرمایہ دار خاندانوں کی بجائے 22 سو سرمایہ دار اور انگریزوں کی پیداوار جاگیر دار پھر اسی قوم پر مسلط ہوگئے۔ پیپلزپارٹی میں موقع پرست اور مفاد پرستوں کی اکثریت ہوگئی لیکن غریبوں کے دلوں میں اب بھی بھٹو کا نظریہ زندہ ہے۔ پیپلزپارٹی پاور پالیٹکس کرنے لگی۔ بی بی بینظیر بھٹو کی شہادت تک پیپلزپارٹی کا نظریاتی بھرم قائم رہا مگر میں نے پہلے کسی کالم میں تفصیل سے لکھا تھا مزدوروں اور کسانوں کی بھلائی کے جو تھوڑے بہت کام ہوئے ہیں وہ پیپلزپارٹی کے دور میں ہی ہوئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں