شکار گاہ چولستان، لاکھوں ایکڑ سرکاری رقبہ پر قبضہ، نواب خاندان کی اپیلیں عدالت پہنچ گئیں

یزمان (نمائندہ خصوصی) کھربوں روپے مالیت کی 3 لاکھ ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی موسومہ شکارگاہ چولستان تحصیل یزمان ضلع بہاولپور ہائی پروفائل لینڈ مافیا کیس، لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ بہاولپور میں جسٹس چوہدری سلطان محمود اور جسٹس تنویر احمد شیخ پر مشتمل ڈویژن بنچ یکم اکتوبر کو کھربوں روپے مالیت کی لاکھوں ایکڑ سرکاری زمین پر قابض نواب صلاح الدین عباسی وغیرہ کے فرنٹ مین اور سہولت کار اور شریک جرم صاحبزادہ محمد عثمان عباسی صاحبزادہ صفدر عباسی،صاحبزادہ پرویز انور عباسی صاحبزادہ یونس عباسی اور محمد اقبال خان لشاری وغیرہ کی انٹرا کورٹ اپیل اور رٹ پٹیشن وغیرہ کی سماعت کرینگے محمد اقبال خان لشاری وغیرہ نے جسٹس عاصم حفیظ کے حکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل نمبرICA.99/2024/BWP اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں بذریعہ C.P.L.A NO.2139-L/2024 یعنی دو اعلیٰ عدالتوں میں غیر قانونی طور پر چیلنج کیا ہوا ہے حالانکہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ کے فیصلہ کے مطابق شکارگاہ چولستان ضلع بہاولپور کی کھربوں روپے مالیت کی لاکھوں ایکڑ سرکاری اراضی سے سابق امیر آف بہاولپور کے ورثاء اور ان سے اسٹام پیپرز پر غیر قانونی طور پر سرکاری جائیداد خریدنے والوں کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ شکارگاہ کے رقبے کے مالک ہیں نبیل جاوید چیف لینڈ کمشنر پنجاب /سینئرممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب لاہور کی سربراہی میں پنجاب لینڈ کمیشن بورڈ آف ریونیو پنجاب کے اجلاس میں فیصلہ، اجلاس کے فیصلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ جات کی روشنی میں ڈپٹی سیکریٹری منسٹری آف سیفران اسلام آبادکے لیٹر کے جواب میں23جنوری2025 کے مطابق صاف طور پر وضاحت کردی گئی ہے کہ شکارگاہ کا رقبہ مارشل لاء ریگولیشن 1959 کی دفعہ64 کے تحت بطور (Resume land) حکومت پنجاب کی ملکیت ہے ڈپٹی سیکرٹری منسٹری آف سیفران اسلام آباد کے لیٹر کے جواب میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ جات پر عمل درآمد کرنا اور ان فیصلہ جات کو تسلیم کرنا پاکستان کی تمام اتھارٹیز پابند ہیں 3 لاکھ ایکٹرسے زائد شکارگاہ کی اراضی حکومت پنجاب کی ملکیت ہے نواب آف بہاول پورکے ورثاء شکارگاہ کے مالک نہ ہیں تفصیل کے مطابق پنجاب لینڈ کمیشن بورڈ آف ریونیو پنجاب لاہور کی میٹنگ منعقدہ کمیٹی روم 22جنوری 2025 بورڈ آف ریونیو پنجاب جوکہ سینئرممبرآف بورڈ ریونیو پنجاب کی زیرصدارت منعقد ہوا اجلاس میں کمشنر بہاولپور ڈویژن،لینڈ کمشنربہاول پور،ایم ڈی چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بہاول پور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور،ڈپٹی لینڈ کمشنر بہاول پور، ڈائریکٹر لیگل بورڈ آف ریونیو پنجاب، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو /لینڈ کمیشن بہاول پورشریک تھے میٹنگ میں ماتحت انتظامیہ اور دیگرکوحکم دیتے ہوئے فیصلہ کیاگیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ کے فیصلہ جات کے خلاف کوئی جوڈیشل اورانتظامی آفیسران فیصلہ نہیں دے سکتا،سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کے خلاف فیصلہ توہین عدالت کے زمرہ میں آتا ہے جس کے تحت تمام افسران سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کے پابند ہیں اوراس مدمیں سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کے تابع ورثا نواب آف بہاول پور صادق محمد عباسی شکارگاہ کے مالک نہ ہیں اورنہ ہی ان کوکسی قسم کے اس مد میں حکومت کی طرف سے کوئی ادائیگی کی جائیگی کیونکہ شکارگاہ چولستان حکومت پنجاب کی ملکیت ہے اورشکارگاہ سے نواب آف بہاول پرکے وارثان کا کوئی تعلق واسطہ نہ ہے حکومت پنجاب ہی شکارگاہ چولستان کی کسٹوڈین ہے۔اعلی سطحی ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے بہاولپور کی ڈوییزنل اور ضلعی انتظامیہ کو مورخہ 23جنوری 2025کو بورڈ آف ریونیو پنجاب کی طرف سے باقاعدہ احکامات بھی دے دیے گئے ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق امیر آف بہاولپور کے بعض وارثان یا انکے نمائندوں کی جانب سے بلا استحقاق شکارگاہ چولستان کی لاکھوں ایکڑ اراضی اسٹام پیپرز پر بیعنامہ جات تحریر کرکے فروخت کی جا چکی ہے ہے اگرچہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں ڈویژن بنچ کی جانب سے نواب صلاح الدین عباسی اور صاحبزادہ میاں عثمان عباسی وغیرہ کی جا نب سے دائر شدہ4عدد رٹ پٹیشن کے فیصلہ جات پر عمل کرتے ہوئے زرعی اصلاحات لاگو کردی جائیں تو سابق امیر آف بہاولپور کے 23وارثان صرف اور صرف 35/40ہزار ایکڑ کے مالک قرار پاتے ہیں لیکن عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ آف پاکستان کے5رکنی بنچ کے فیصلہ کے مطابق شکارگاہ سرکاری اراضی ہے سابق چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں ڈویژن بنچ سے پٹیشنرز نے 5رکنی بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کو مخفی رکھا تھا ذرائع کے مطابق برسراقتدار پارٹی ن لیگ اور پیپلز پارٹی زرداری گروپ کے علاوہ تحریک انصاف اور تمام سیاسی پارٹیوں سے وابستہ با اثر افراد اور مسلح قبضہ گروپوں نے بھی شکارگاہ کے سرکاری رقبے پر براہ راست یا وارثان سابق امیر آف بہاولپور سے بذریعہ اسٹام پیپرز اور منسوخ شدہ انتقالات کی بنیاد پر قبضہ کیا ہوا ہے اگرچہ عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے چیف لینڈ کمشنر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نبیل جاوید نے سابق امیر آف بہاولپور کے 23وارثان کے نام منتقل شدہ لاکھوں ایکڑ اراضی پر زرعی اصلاحات کے تحت بحق سرکار رقبہ منتقلی کی کاروائی کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں سابق امیر آف بہاولپور کے 23وارثان کے نام منتقل رقبہ میں آگے منتقل شدہ 20 وارثان کے نام منظور شدہ انتقالات وراثت اور متعلقہ وارثان کی جانب سے دیگر لوگوں کو فروخت شدہ یا رشوت میں دی گئی اراضی کے تمام انتقالات بھی خارج کردیئے گئے تھے سابق ڈپٹی لینڈ کمشنر بہاولپور نے زرعی اصلاحات کی کاروائی کا آغاز بھی کیانوٹس بھی جاری کئے گئے لیکن تاحال 23وارثان کے نام منتقل شدہ رقبے پر زرعی اصلاحات کے تحت عملی طور پر بحق سرکار رقبہ نہ تو واگزار کروایا گیا اور نہ ہی رقبہ بحق سرکار منتقلی کی کاروائی کی گئی ہے جسکی بنیادی وجہ بر سراقتدار پارٹی سے وابستہ طاقتور لوگ اور خصوصی طور پر نواب صلاح الدین عباسی اور صاحبزادہ میاں عثمان عباسی وغیرہ بتائے جاتے ہیں اس ہائی پروفائل لینڈ مافیا کا دعویٰ ہے کہ انہیں صدر آصف زرداری وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیراعظم میاں شہباز شریف وغیرہ کی پشت پناہی حاصل ہے قبل ازیں عدالت عالیہ ہائی کورٹ نے منسوخ شدہ انتقالات کی بحالی کیلئے دائر رٹ پٹیشنز کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے شکارگاہ چولستان کے رقبے پر زرعی اصلاحات کے تحت سابق امیر آف بہاولپور کے وارثان سے زائد رقبہ کی کٹوتی اور واگزار کروانے کے اقدام والے چیف لینڈ کمشنر پنجاب کے حکم کو عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں درست قرار دیا ہے معزز جج ہائی کورٹ جسٹس عاصم حفیظ نے منسوخ شدہ انتقالات بحال نہیں کئے تھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں