شاہ شمس پارک میں اوباش بے لگام، خواتین، بچیوں سے چھیڑ چھاڑ، فیملیز غیر محفوظ

ملتان(قوم ریسرچ سیل)شاہ شمس پارک میں اوباشوں کے “غول”، فیملیز غیر محفوظ، ہلڑبازی، بدتمیزی اور خواتین وبچیوں سے مبینہ چھیڑخانی کی شکایات، صورتحال تشویشناک، فیملیز کے تحفظ پر سوالات ، اوباشوں کونشان عبرت بنایاجائے،شہریوں نے وزیر اعلیٰ مریم نوازاورسی سی ڈی حکام سے سخت ایکشن کامطالبہ کردیا ۔بتایاگیاہے کہ اندرون شہر اور قریبی علاقوں سے اوباش عناصر کے “غول” کے” غول” پارک میں پہنچتے ہیں۔واکنگ ٹریک وجھولوں کے نزدیک خواتین اور بچیوں پر آوازیں کسنے اور انہیں زچ کرنے کی صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کردی ہے، متاثرہ فیملیز اور شہریوں کے مطابق شاہ شمس پارک میں ایسے نوجوانوں کے گروہ دکھائی دیتے ہیں جو مبینہ طور پر تفریح کے لیے آنے والی فیملیز ، خواتین اور بچیوں کو تنگ کرتے، آوازیں کستے اور ہلڑبازی کرتے ہیں، جس کے باعث فیملیز خودکو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور مختلف شہری صورتحال سے بچنے کے لیے پارک سے واپس چلے جاتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف ایک دو افراد تک محدود نہیں بلکہ مبینہ طور پر گروپوں کی شکل میں نوجوان پارک میں داخل ہوتے ہیں، جس کے باعث ایک عام فیملی کے لیے ان عناصر کا سامنا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مزید تشویشناک امر یہ بتایا گیا ہے کہ جب کبھی پولیس کا اہلکار پارک میں موجود ہو تو مبینہ طور پر یہ عناصر وقتی طور پر ادھر اُدھر ہوجاتے یا خاموشی اختیار کرلیتے ہیں، لیکن پولیس اہلکار کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی مبینہ ہلڑبازی اور بدتمیزی دوبارہ شروع ہوجاتی ہے۔شہریوں کے مطابق اس صورتحال کا مستقل حل صرف وردی میں ایک آدھ پولیس اہلکار کی عارضی موجودگی نہیں بلکہ مسلسل نگرانی، سادہ لباس اہلکاروں کی تعیناتی اور فوری قانونی کارروائی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ شاہ شمس پارک میں سادہ لباس پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ کسی خاتون یا فیملی کو شکایت کے لیے خود کسی گروہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔شہریوں نے سی سی ڈی، دولت گیٹ پولیس، محافظ اسکواڈ اور لیڈی پولیس کی مشترکہ ڈیوٹی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارک کے داخلی و خارجی راستوں، جھولوں کے علاقے اور فیملی ایریا کے گرد خصوصی نگرانی کی جائے۔ اس کے ساتھ سیف سٹی کیمروں کی مؤثر مانیٹرنگ، پارک کی مناسب روشنی اور پی ایچ اے سکیورٹی عملے کی فعال ڈیوٹی بھی یقینی بنائی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچیوں کو ہراساں کرنے یا بدتمیزی کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف شکایت اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق فوری کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ گرفتار یا مقدمہ درج ہونے کی صورت میں پولیس کی جانب سے قانونی کارروائی سے متعلق مناسب آگاہی بھی دی جائے تاکہ قانون کی خلاف ورزی کی حوصلہ شکنی ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارک میں سکیورٹی کے موجودہ انتظامات اور شام کے اوقات میں پولیس و سکیورٹی گشت کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ سیف سٹی کیمروں کی کوریج کہاں تک ہے، ان کی لائیو مانیٹرنگ کون کرتا ہے، پی ایچ اے کے سکیورٹی گارڈز کی تعداد اور ڈیوٹی کیا ہے اور ہنگامی صورتحال میں پولیس کو اطلاع دینے اور فوری رسپانس کا مؤثر نظام موجود ہے یا نہیں۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ملتان میں ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب پولیس کاآفس بھی شاہ شمس پارک کے نزدیک ہی واقع ہے۔ اس پارک میں روزانہ بڑی تعداد میں خاندانوں، خواتین اور بچوں کی آمد کا مرکز ہے، اس لیے یہاں معمول کی سکیورٹی کے بجائے شام کے حساس اوقات کے لیے خصوصی سکیورٹی پلان ناگزیر ہے۔شہریوں نے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب، سی پی او ملتان، کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر ملتان اور ڈی جی پی ایچ اے سے فوری نوٹس لینے، شاہ شمس پارک کا سکیورٹی آڈٹ کرانے، سادہ لباس پولیس اہلکاروں، لیڈی پولیس، سی سی ڈی، دولت گیٹ پولیس اور محافظ اسکواڈ کی مؤثر تعیناتی، کیمروں کی مانیٹرنگ اور پی ایچ اے سکیورٹی کو فعال بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شاہ شمس پارک میں آنے والی خواتین، بچوں اور فیملیز خود کو محفوظ سمجھ سکیں اور کسی بھی شرپسند عنصر کو قانون ہاتھ میں لینے کا موقع نہ ملے۔اس حوالے سے پولیس ترجمان سے موقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن ان کافون اٹینڈ نہیں ہوسکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں