ملتان ( قوم انویسٹی گیشن سیل ) زکریا یونیورسٹی سلیکشن بورڈ، ڈاکٹر اسد رضا گردیزی کی بطور پروفیسر تعیناتی پر اعتراضات سامنے آگئے، گورنر پنجاب / چانسلر سے قانونی و انتظامی امور کی جانچ کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں 29 اور 30 ستمبر 2026 کو ہونے والے سلیکشن بورڈ کے اجلاس کے حوالے سے شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کے امیدوار ڈاکٹر سید اسد رضا گاردیزی کی بطور پروفیسر مکینیکل انجینئرنگ (BPS-21) ممکنہ تعیناتی کے خلاف گورنر پنجاب و چانسلر بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کو باقاعدہ نمائندگی/اپیل پیش کی گئی ہے۔ اپیل میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امیدوار کی اہلیت، تحقیقی دیانت، تجربے، نظم و ضبط اور بعض زیرِ غور یا رپورٹ شدہ معاملات کی مکمل جانچ کے بغیر تقرری کا فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ مجوزہ تقرری کو قانونی و انتظامی اعتبار سے قابلِ اعتراض قرار دیتے ہوئے اسے روکا جانا انتہائی ضروری ہے۔موجودہ سلیکشن کے حوالے سے دستیاب معلومات میں تین امیدواران میں مبینہ طور پر آخری پوزیشن اور ڈاکٹر اسد رضا گردیزی کے حوالے سے Negative Review Reports کا ذکر کیا گیا ہے۔ جبکہ بجٹ میں صرف ایک سیٹ موجود ہے۔ چونکہ پروفیسر BPS-21 یونیورسٹی کا اعلیٰ ترین تدریسی تعیناتی ہے، اس لیے سلیکشن کے دوران امیدوار کی اہلیت اور ریویو رپورٹس سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ کا شفاف جائزہ ضروری ہے۔اس ضمن میں سب سے اہم اعتراض ایک تحقیقی مقالے کی واپسی (retraction) سے متعلق اٹھایا گیا ہے۔ Energy Reports میں 2020ء میں شائع ہونے والے مقالے “A newly proposed method for Weibull parameters estimation and assessment of wind potential in Southern Punjab” کے مصنفین میں ڈاکٹر سید اسد رضا گردیزی کا نام شامل ہے۔ مذکورہ مقالہ بعد ازاں جرنل کی جانب سے واپس لیا گیا۔ دستیاب Retraction Notice کے مطابق شہرہ آفاق پبلیشر ELSEVIER کے ایڈیٹر اِن چیف نے از خود نوٹس لیتے ہوئے واپس لیا اور قارئین سے معذرت بھی کی۔ نوٹس میں کہا گیا کہ ایک پہلے شائع شدہ مقالے کے نمایاں حصے دہرائے گئے تھے؛ جرنل نے اسے سائنسی اشاعتی نظام کے غلط استعمال سے تعبیر کیا۔ اعتراض میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس معاملے کی روشنی میں یہ طے کیا جانا ضروری ہے کہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی یا کسی مجاز فورم نے اس اشاعت اور اس کی واپسی کے معاملے کی کوئی انکوائری کی یا نہیں، اور اگر کی گئی تو اس کے نتائج کیا تھے۔ تاہم جبکہ مشہور زمانہ پبلیشر ELSEVIER کی ویب سائٹ پر تمام ثبوت موجود ہیں تو اس صورت میں 21 اسکیل پر پروفیسر کی تعیناتی یونیورسٹی کے تعلیمی اور تدریسی نظام پہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس سلسلے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی Anti Plagiarism Policy کا ذکر بھی ضروری ہے جبکہ HEC کی ویب سائٹ پر Anti-Plagiarism Policy 2023 موجود ہے، جس میں تحقیقی دیانت، شکایات کے طریقۂ کار، انکوائری اور متعلقہ کارروائی کے لیے باقاعدہ فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں ادارے کی جانب سے ڈاکٹر اسد رضا گردیزی کے خلاف کاروائی عمل میں لانا ضروری تھا تا ہم “مٹی پاؤ” پالیسی پر عمل کرتے ہوئے یہ معاملہ دبا دیا گیا۔مزید برآں دو سال قبل حکومت پنجاب کی آڈٹ ٹیم نے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کا دورہ کیا تھا اور آڈٹ حکام کی جانب سے ڈاکٹر اسد رضا گردیزی کی مطلوبہ تجربہ اور اہلیت سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے جو کہ آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ روزنامہ قوم کو اس کے متعلق اہم دستاویزات موصول ہو چُکی ہیں۔ اس صورت میں یہ جنوبی پنجاب کے اہم تعلیمی ادارے پر لازم ہے کہ متعلقہ سروس ریکارڈ، تجربہ سرٹیفکیٹس، سکروٹنی شیٹس، سابقہ اشتہارات کے تحت جمع کرائی گئی دستاویزات اور آڈٹ ریکارڈ کی اصل فائل کی بنیاد پر جانچ کی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مقررہ تاریخ پر امیدوار تمام مطلوبہ شرائط پر پورا اترتا تھا یا نہیں۔کہانی ابھی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ایک اور کیس جس کے تحت امتحانی ریکارڈ اور جوابی کاپیوں میں ٹیمپرنگ سے متعلق ڈاکٹر اسد رضا گردیزی کے خلاف کنٹرولر امتحانات کی جانب سے کی جانب سے ایک انکوائری بھی التواء کا شکار ہے جس کے تحت امتحانی جوابی کاپیوں میں نمبروں کی مبینہ تبدیلی اور دوبارہ مارکنگ سے متعلق معاملہ یونیورسٹی کے علم میں آیا اور اس سلسلے میں سرکاری سطح پر انکوائری کا آغاز کیا گیا جس میں ڈاکٹر طارق محمود انصاری کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا جبکہ ڈاکٹر طارق محمود انصاری چار سال پہلے ریٹائر ہو چکے لیکن انکوائری رپورٹ ابھی تک جمع نہیں ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق جب امیدوار پرچہ حل کرنے کے بعد سپرٹنٹ کو جمع کرا دیتا ہے تو جوابی کاپی میں خالی صفحات پر سپریٹنڈنٹ امتحان واضح BLANK کی مہر لگا دیتا دیتا ہے۔ آرکیٹیکچرل انجینئرنگ کا ایک مضمون جس کے ممتحن ڈاکٹر اسد رضا گریزی تھے اس میں بعد اذاں BLANK کی مہر والے صفحے پر ایک طالبہ کو گھر بلا کر دوبارہ پرچہ حل کرایا گیا۔ جب شعبہ امتحانات میں اس کاپی کی جانچ پڑتال ہوئی تو BLANK کی مہر کے اوپر حل شدہ جوابات کے شواہد ملنے پر ڈاکٹر اسد رضا گریزی کے خلاف باقاعدہ انکوائری عمل میں لائی گئی جو کہ ابھی تک التوا کا شکار ہے۔ سرکاری قوانین کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم کے خلاف انکوائری زیر التوا ہو تو وہ کسی ترقی کا اہل نہیں ہوتا ایسی صورت میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کسی ایسے شخص کی ایک اہم عہدے پر ترقی کی مجاز کیسے ہو سکتی ہے یہ ایک اہم سوال ہے۔اسی طرح 16 اکتوبر 2022ء کے ایک سابقہ سلیکشن بورڈ اجلاس سے متعلق مبینہ بدانتظامی اور بعد ازاں شروع کیے گئے تادیبی معاملات کا حوالہ بھی موجود ہے۔ جس کے مطابق سلیکشن بورڈ میں کیس نہ رکھے جانے پر ڈاکٹر اسد رضا گردیزی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس وقت زبردستی یونیورسٹی کمیٹی روم میں داخل ہو گئے جب سلیکشن بورڈ کا اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کی صدارت میں جاری تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر اسد رضا گردیزی نے وائس چانسلر اور دیگر ممبران کو برا بھلا کہنے اور گالیاں دینے کے علاوہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ تاہم سیکیورٹی گارڈز کی مداخلت پر انہیں زبردستی کمیٹی روم سے باہر نکالا گیا۔ باہر نکلنے کے بعد بھی وہ لابی میں باہر سے آئے دیگر امیدواران کی موجودگی میں واویلا کرتے رہے جس سے یونیورسٹی کی جانب ساکھ شدید متاثر ہوئی۔ جس کے بعد بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر اسد رضا گردیزی کے خلاف PEEDA ACT کے تحت کاروائی کا اغاز کیا گیا۔ یہاں ایک اہم نقطہ ہے کہ کیا کوئی ایسا شخص جس کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کا اغاز کیا گیا ہو اسے گریڈ 21 کی اہم پوسٹ پر ڈبل گریڈ ترقی دے کر کیسے تعینات کیا جا سکتا ہے۔ مزید براں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کی جانب سے سنڈیکیٹ الیکشن کو ثبوتاز کرنے کے الزام میں دوسری بار ڈاکٹر اسد رضا گریزی کے خلاف PEEDA ACT کے تحت کاروائی کا اغاز کیا گیا۔ یہاں اس امر کی ضرورت ہے کہ مذکورہ تمام معاملات کو الگ الگ اور باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت جانچنا ضروری ہے اور کسی بھی الزام یا شکایت کو حتمی حقیقت تصور کرنے کے بجائے متعلقہ فورمز کے فیصلوں کو بنیاد بنایا جائے۔ ان کے مطابق BPS-21 کے پروفیسر کے عہدے پر تقرری محض معمول کی ترقی نہیں بلکہ یونیورسٹی کی علمی، تحقیقی اور انتظامی ساکھ سے متعلق اہم فیصلہ ہے۔سول سوسائٹی کی جانب سے گورنر پنجاب/ چانسلر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر گردیزی کی مجوزہ تقرری کو حتمی شکل دینے سے قبل ان کی اہلیت، تجربہ، ریسرچ ریکارڈ، Retract ہونے والے مقالے، مبینہ انکوائریوں، تادیبی کارروائیوں اور موجودہ سلیکشن کے ریویو رپورٹس سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ کی آزادانہ اور مکمل جانچ کرائی جائے اور اگر کسی الزام یا اعتراض کی باقاعدہ کارروائی کے بعد تصدیق ہوتی ہے تو HEC پالیسی، BZU کے قوانین، سروس رولز اور دیگر قابلِ اطلاق قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مجوزہ تقرری عوامی وسائل سے وابستہ مالی اثرات رکھتی ہے۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ اگر تقرری متعلقہ اعتراضات اور قانونی نکات کا مناسب جائزہ لیے بغیر کی جاتی ہے تو وہ مجاز فورمز پر اسے چیلنج کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔دوسری جانب ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر سید اسد رضا گاردیزی اس وقت بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ مکینیکل انجینئرنگ میں اسسٹنٹ پروفیسر (گریڈ 19) کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کی جانب سے واضح پالیسی ہے کہ کسی بھی فیکلٹی ممبر کو ڈبل پروموشن نہیں دی جائے گی۔ تاہم مجوزہ کیس میں ڈاکٹر اسد رضا گردیزی گریڈ 19 سے ڈائریکٹ گریڈ 21 میں تعیناتی کے خواہش مند ہیں۔ اب اگے کیا ہوتا ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔سوال یہ ہے کہ سلیکشن بورڈ کے آئندہ اجلاس میں یہ معاملہ کس طرح زیرِ غور آتا ہے اور متعلقہ اعتراضات و دستاویزات کا جائزہ کس حد تک لیا جاتا ہے، اس پر یونیورسٹی کے اساتذہ اور تعلیمی حلقوں کی توجہ مرکوز ہے۔ اس معاملے میں حتمی فیصلہ متعلقہ مجاز فورم کی جانب سے سرکاری ریکارڈ، قواعد و ضوابط اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔







