ملتان (سٹاف رپورٹر) زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ کلینیکل سائیکالوجی میں ایم فل کے طلبہ کے نقل کیے جانے کے حوالے سے روزنامہ قوم میں ہفتے کے روز شائع ہونے والی خبر پر چیئرپرسن شعبہ ہذا محترمہ پروفیسر ڈاکٹر ارم اعوان نے سخت احتجاج کیا اور خبر کو حقائق کے منافی قرار دیا جس پر سورس کی طرف سے ایم فل کے طلبہ کی نقل کرتے ہوئے ویڈیو بھی روزنامہ قوم کو فراہم کر دی گئی۔ ہفتے کی شام اسی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر مرید کی طرف سے کلینیکل سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ کے ایسے افیشل واٹس ایپ گروپ میں کہ جس میں خواتین پروفیسر بھی شامل ہیں، انتہائی فحش مواد اپ لوڈ کر دیا گیا جس پر خاتون پروفیسر ڈاکٹر ثروت نے تحریری طور پر سخت احتجاج کیا تو تقریباً نصف گھنٹے بعد اس پوسٹ کو ہٹا دیا گیا، روزنامہ قوم میں نقل کے حوالے سے خبر شائع ہونے پر چیئر پرسن ڈاکٹر ارم اعوان شدید خفا تھیں تو انہیں مطمئن کرنے کے لیے ان کا موقف بھی اگلے روز کی اشاعت میں شامل کر لیا گیا۔ بطور چیف ایڈیٹر روزنامہ قوم میں نے ڈاکٹر صاحبہ کو بتایا کہ میری خبر 100 فیصد درست تھی مگر میں نے ایک استاد کا احترام کرتے ہوئے آپ کی وضاحت شائع کر دی کہ آپ بھی مستقبل کے ایسے ڈاکٹر تیار کرتی ہیں جو انسانی نفسیات کا علاج کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کا ڈیپارٹمنٹ حساس ترین ڈیپارٹمنٹ ہے۔ غیر اخلاقی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اب میں چیئر پرسن صاحبہ سے چند سوال پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں جو انہیں لکھ کر بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔
1: آپ یہ فرما دیں کہ آپ نے روزنامہ قوم کی خبر پر کیا انکوائری شروع کرائی کیونکہ آپ نے بتایا تھا کہ آپ کے پاس کسی نے تحریری شکایت نہیں کی لہٰذا اب تحریری شکایت روزنامہ قوم کی خبر کی شکل میں آپ کے سامنے ہے تو اس پر آپ کا موقف درکار ہے؟
2:، ڈاکٹر مرید کی طرف سے کلینیکل سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر حضرات کے واٹس ایپ گروپ میں فحش مواد اپلوڈ کیا گیا اس پر آپ نے اب تک کیا کاروائی کی؟
3: کیا ڈاکٹر مرید کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کاروائی نہیں بنتی۔ یونیورسٹی کی چار مختلف کمیٹیوں کی سربراہ ہیں اپ اس سلسلے میں کیا کاروائی کر رہی ہے اور کیا ایکشن لے رہی ہیں؟
4: بطور چیئر پرسن آپ ایف آئی اے یا صاحب یا نیشنل سائبر کرائم کنٹرول ایجنسی کو باضابطہ درخواست دے کر اس کی جانچ پڑتال کروا سکتی ہیں اور باقاعدہ کاروائی کروا سکتی ہیں کیونکہ یہ ایسی یونیورسٹی میں واقع ہوا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں طالبان بھی تعلیم حاصل کرتی ہیں جہاں سینکڑوں خواتین اساتذہ بھی موجود ہے؟
5:کیا یہ فوجداری نوعیت کا مقدمہ نہیں بنتا اور ایسی صورت میں جب کو ایک خاتون پروفیسر کی گواہی اور اخبار کی خبر بھی میسر ا چکی ہو جس خبر پر اخبار کی انتظامیہ قائم ہے؟
6: اپ کا شعبہ تو حساس نوعیت کا شعبہ اس لیے بھی ہے کہ یہاں 80 سے 90 فیصد طالبات زیر تعلیم ہیں؟
7:کیا اپ نے ڈاکٹر مرید کے خلاف تادیبی کاروائی کے لیے وائس چانسلر صاحب کو کسی قسم کام واٹس ایپ میسج یا ای میل کی ہے اور اگر کی ہے تو وائس چانسلر صاحب کا رد عمل کیا ہے؟
8: کیا اس پر بھی اساتذہ کی تنظیمیں مٹی ڈال دیں گی اور اپنے ایک ساتھی کی غلاظت پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک مرتبہ پھر اخلاقیات اور تدریسی حرمت کا قتل عام کر دیں گی؟







