ملتان( نیوز رپورٹر) پراپرٹی ٹیکس کی بڑھتی شرح چیمبر آٖف سمال ٹریڈرز نے احتجاجی مظاہروں کی دھمکی دے دی۔ دفعہ 144کی پرواہ نہیں عوام اور تاجروں کے حق کے لیے نکلیں گے پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا بھی دیں گے ان خیالات کا اظہار چیمبرآف سمال ٹریڈرز ملتان شہرکے صدر ظفر اقبال صدیقی نے دیگر عہدیداران اور تاجر نمائندوں کے ہمراہ ملتان پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ تمام کیٹگریز اور پراپرٹیز کے لیے یکساں 0.03 فیصد شرح مقرر کی جائے کیونکہ حکومت کے سال 27/2026 کے لیے پراپرٹی ٹیکس کے نئے نظام اور غیر معمولی اضافے پر ملتان کی تاجر برادری سمیت پنجاب بھر میں شدید بے چینی کی لہر پائی جاتی ہے سال 27/2026 کے لیے پراپرٹی ٹیکس کے نیا نظام کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ہمارا مطالبہ ٹیکس سے فرار نہیں بلکہ منصفانہ قابل برداشت اور حقیقت پسندانہ نظام کا ہے اس موقع پر آل پاکستان انجمن تاجران پنجاب کے سینیئر وائس چیئرمین ممتاز علی بابر ضلعی صدر چیمبر آف سمال ٹریڈرز ملتان اور نومنتخب ایگزیکٹو ممبر ملتان چیمبر آف کامرس شیخ طاہر امجد،چیئرمین احتشام الحق،مہر محمد شاکر،ملک اسلم ڈوگر،رفیق چوہان،شیخ غلام مرتضی،قمر زمان خان وزیر،مہران قریشی،منور قریشی،آصف بلوچ،سعید اللہ شیخ،احتشام گل،عابد جوئیہ،شیخ طاہر،شیخ ندیم،اور دیگر شہر کی مختلف مارکیٹوں کے نمائندگان موجود تھے۔ ظفر اقبال صدیقی نے مزید کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ،بجلی گیس اور روز 12 اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے تاجر برادری کی کمر بھی توڑ کر رکھ دی ہے ماضی میں پراپرٹی پارٹی ٹیکس کا تعین زمینی حقائق کے مطابق کیا جاتا تھا لیکن اب ٹیکس کو ڈی سی ویلیو اور کیپیٹل ویلیو سے منسلک کر دیا گیا ہے اور پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق نظام کی طرف منتقل کیا گیا ہے ۔ضلع ملتان میں مختلف علاقوں اور لوکیشنز کے لیے الگ ویلیو مقرر کی گئی ہے تاہم متعدد علاقوں کے مقررہ ویلیو حقیقی مارکیٹ اور حالات سے ڈی سی ریٹس مطابقت نہیں رکھتی جس سے ٹیکس میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ایک سوال کا جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون میں قابل ٹیکس ویلیو کے سلیب 50 لاکھ سے ایک کروڑ،ایک کروڑ سے اڑھائی کروڑ اور اس سے زائد مقرر ہیں جبکہ پنجاب فنانس ایکٹ میں متعلقہ شرحیں 0.07 فی صد،0.08 فی صد اور 0.09 فی صد ہیں انہوں نے کہا کہ نئے فارمولے کے باعث متعدد پراپرٹیز کا ٹیکس کئی گنا بڑھ گیا ہے جبکہ نئی تعمیر،توسیع،تقسیمِ استعمال یا قبضے کی تبدیلی کی صورت میں بھی ٹیکس اچانک بڑھ سکتا ہے جس پر نظر ثانی ضروری ہے مزید تشویش یہ ہے کہ ڈی سی ویلو ایشن لسٹ میں ہر سال 10 فی صد اضافہ ہونے سے پراپرٹی ٹیکس بھی ہر سال دس فی صد بڑھے گا جبکہ ماضی میں ویلو ایشن عموماً پانچ سال بعد تبدیل ہوتی تھی اس مسلسل اضافے سے بھی عوام اور تاجر برادری پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ویلو ایشن کے عمل میں تاجروں،پراپرٹی مالکان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے اور دیگر مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ممتاز علی بابر نے کہا کہ ٹیکسیشن نظام میں اس قسم کے کالے قوانین منظور نہیں کہ جہاں گٹر،صفائی،واٹر سپلائی اور دیگر کے الگ الگ ٹیکسز نافذ کئے گئے اور ہر سال اضافہ بھی قبول نہیں دنیا کے کسی قانون میں ہر سال ٹیکس کی شرح میں اضافہ کے قوانین موجود نہیں شیخ طاہر امجد نے کہا کہ متنازعہ ٹیکس کے فیصلے تک حکومت پنجاب ٹیکس وصولی پرانے سلیب پر کرے اور جلد سے جلد شرح میں اضافہ واپس لے بصورت دیگر ہم احتجاج کریں گے پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے احتشام الحق نے کہا کہ مسئلہ کے حل تک عوام اور تاجر اس متنازعہ ٹیکس کی ادائیگی روک دے مسئلہ کے حل کے لیے میدان لگائیں گے مہر محمد شاکر نے کہا کہ ناحق ٹیکس ادا نہیں کریں گے احتجاج کے لیے دفعہ 144کو خاطر میں نہیں لائیں گے ۔







