ملتان ( قوم انویسٹی گیشن سیل ) واسا ملتان میں 2 اہم ترین عہدوں پر براجمان ایکسین گلگشت و ڈپٹی ڈائریکٹر ڈسپوزل نارتھ ڈویژن رانا محمد اکرام کی سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے بغیر سٹڈی لیو تعلیم بارے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں، واسا حکام کیساتھ دھوکا دہی کرکے سر سید کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور روڈ ملتان کا
این او سی حاصل کرکے بغیر سٹڈی لیو ’’ یو کے کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بہاولپور‘‘سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرلی، محکمہ کی جانب پوچھے گئے سوالات آج تک جواب طلب ہیں ۔ روزنامہ’’ قوم‘‘کی تحقیقات کے مطابق رانا محمد اکرام نے 2 دسمبر 2013 کو ڈپٹی ڈائریکٹر ممتاز آباد سب ڈویژن واسا ملتان کو درخواست دے کر بی ٹیک آنرز سول کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک این او سی طلب کیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ’’ سر سید کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور روڈ ملتان‘‘میں شام چار بجے سے رات آٹھ بجے تک تعلیم حاصل کریں گے اور اس تعلیم سے ان کی سرکاری ڈیوٹی متاثر نہیں ہوگی۔ جس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن واسا نے خط نمبر 6343/ ایڈمن واسا بتاریخ 28 دسمبر 2013 کے ذریعے ان کو این او سی جاری کر دیا تاہم بعد ازاں جو بی ٹیک آنرز کی ڈگری ریکارڈ میں سامنے آئی وہ سر سید کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور روڈ ملتان کے بجائے یو کے کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور ( اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ) کی تھی، رانا محمد اکرام نے یو کے کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور سے رول نمبر 971 ، دو سالہ پروگرام کے تحت 739 نمبر لیکر بی ٹیک آنرز کی ڈگری لی ، امتحانات نومبر 2016 جبکہ ڈگری جاری ہونے کی تاریخ 6 مئی 2017 درج ہے، تاہم مذکورہ ڈگری پر واسا حکام کی طرف سے یہ پوچھنا تک گوارا نہ کیا گیا کہ انہوں نے تعلیم کے حصول کے لیے این او سی حاصل کرتے وقت تو کالج کو ملتان میں بہاولپور روڈ پر ظاہر کیا تھا لیکن ڈگری اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے کیوں کی گئی اور یہ سوال بھی حل طلب ہے کہ آیا مذکورہ کالج میں شام چار بجے سے رات آٹھ بجے تک کی کلاسز ہوتی تھیں اور رانا محمد اکرام کس وقت ملتان سے روانہ ہوتے اور واپس آتے تھے، یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا رانا محمد اکرام بہاول پور میں کلاسز اٹینڈ کرنے یا امتحانات دینے جاتے بھی تھے یا حاضری سمیت سب کچھ’’ مینج‘‘ کیا گیا تھا؟ قانونی ماہرین کے مطابق ایک سرکاری ملازم جو کہ 24/7 کی ملازمت پر موجود ہو وہ بغیر سٹڈی لیو بی ٹیک آنرز کی ڈگری کیسے حاصل کر سکتا ہے، اصول کے مطابق یا تو رانا محمد اکرام کو سٹڈی لیو لے کر ڈگری حاصل کرنی چاہیے تھی یا وہ صرف ملازمت جاری رکھتے، ہر دو صورتوں میں ان کو ایک کا انتخاب کرنا تھا لیکن واسا حکام کی ملی بھگت کے باعث انہوں نے ملتان سے 100 کلومیٹر دور بہاولپور سے نہ صرف ڈگری حاصل کی بلکہ سرکاری عہدے کا استعمال کرکے قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچاتے رہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ روزنامہ ’’قوم ‘‘نے جب یو کے کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور سے رانا محمد اکرام کی تعلیم، حاضری اور ان کی کلاسز ٹائمنگ کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو یہ معلوم ہوا کہ یو کے کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور گزشتہ سات،آٹھ سال سے بند ہوچکا ہے اور اس کا اس وقت وجود ہی نہیں ہے۔







