سرکاری جہاز کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے، عوام کو جوابدہ ہوں یوٹیوبرز کو نہیں: مریم نواز

ملتان میں الیکٹرک بس سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی بیٹی کی گریجویشن میں شرکت کے لیے سرکاری طیارہ استعمال کرنے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز کے تمام اخراجات انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیے ہیں اور وہ عوام کو جوابدہ ہیں، کسی یوٹیوبر یا سوشل میڈیا شخصیت کو نہیں۔ موجودہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے تقریباً 2 کروڑ 75 لاکھ روپے ادا کیے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ سرکاری طیارے کے استعمال پر ان پر بہت زیادہ تنقید کی جارہی ہے، حالانکہ یہ طیارہ ان کا ذاتی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر کے استعمال کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو سرکاری طیارے کی سہولت حاصل ہے، لیکن تنقید صرف انہیں نشانہ بنا کر کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر طیارے میں سفر کرنے پر اتنی تنقید ہورہی ہے تو وہ چنگچی پر بیٹھ کر ملتان بھی آسکتی تھیں، تاہم ان کی بیٹی کی گریجویشن میں شرکت کے لیے استعمال کیے گئے طیارے کے اخراجات، جن میں متعلقہ دیگر چارجز بھی شامل ہیں، انہوں نے خود ادا کیے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ بننے سے قبل بیرون ملک سفر کے لیے کمرشل پروازیں استعمال کرتی تھیں، تاہم اب عوامی ذمہ داریوں کے باعث جہاں ضرورت پڑے گی طیارے کے ذریعے سفر کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ طیارے میں موجود ہوں تب بھی ان کا دفتر کام کرتا رہتا ہے۔
مریم نواز نے تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی تنقید کا جواب نہیں دیں گی اور ناقدین اپنا کام کرتے رہیں، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے بقول ان پر تنقید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کام کررہی ہیں اور پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔
انہوں نے پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم سمیت مختلف منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے، تاہم صوبے میں ہونے والی ترقی اور عوامی خدمت پر بات کم کی جاتی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ انہیں یہ دیکھنے کی خواہش ہے کہ دوسرے صوبوں میں بھی ترقیاتی کاموں کا اسی طرح ذکر کیا جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پنجاب کے دورے پر بھی بات کی اور اسے ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا سے آنے والے افراد پنجاب میں سڑک کنارے بیٹھے رہے اور انہیں عوام کی جانب سے پذیرائی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے انہیں قبول نہیں کیا۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں رہنے والے ہر شہری کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ رواں مالی سال کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں گرین بس سروس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر 3 ہزار الیکٹرک بسیں چلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے علاقوں میں بھی الیکٹرک بسیں چلائی جارہی ہیں جہاں لوگوں نے پہلے سرکاری ٹرانسپورٹ کی سہولت کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے طلبہ کو ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے، کینسر کے علاج کے لیے جدید مشینیں نصب کرنے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
مریم نواز نے کہا کہ انہیں سیاسی دباؤ اور مقدمات کے ذریعے خوفزدہ کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم وہ ان اقدامات سے خوفزدہ نہیں ہوئیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں