ملتان چیمبرمیں فرینڈز آف ملتان کا کلین سویپ: نیا اعتماد، نئی ذمہ داری

ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات الحمدللہ مکمل ہو چکے ہیں جس میں فرینڈز آف ملتان نے کارپوریٹ اور ایسوسی ایٹ کلاس کی تمام 24 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ تاجر برادری نے جس طرح فرینڈز آف ملتان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاجر برادری کا یہ بڑھتا ہوا اعتماد فرینڈز آف ملتان پر ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے اور ان کا اصل امتحان بھی اب کامیابی کے بعد شروع ہوگا۔
فرینڈز آف ملتان پر تاجر برادری کے اعتماد کی سب سے بڑی وجہ ان کا گراس روٹ لیول پر لوگوں سے ملنا جلنا اور رابطہ ہے۔ فرینڈز آف ملتان کی اکثریت کا سفر ٹریڈ یونین سے شروع ہوا جبکہ دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو فاؤنڈرز گروپ اپنے دور اقتدار میں تاجر برادری سے قطع تعلق رہا اور اس نے چیمبر کو بھی بیوروکریٹک انداز میں چلایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب تاجروں کے حقیقی نمائندوں کو موقع ملا تو انہوں نے کلین سویپ کی صورت میں نتیجہ دیا۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ فرینڈز آف ملتان کی جانب سے ستارۂ صدارت کس کے سر پر سجے گا۔ اس حوالے سے ندیم احمد شیخ، شیخ فضل الٰہی، حسین محمد فضل اور ڈاکٹر محمد شفیق خان پتافی کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس کامیابی میں جہاں فرینڈز گروپ کے سرپرست فیصل مختار اور چوہدری ذوالفقار انجم کا کردار نمایاں ہےوہاں شیخ فیصل سعید کی کاوشوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اب جبکہ فرینڈز آف ملتان کو تاجر برادری کا بھرپور مینڈیٹ ملا ہے، ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس اعتماد کو عملی کاموں میں بدلیں۔ کامیابی صرف عہدوں پر قبضہ نہیں بلکہ تاجر برادری کے مسائل کا حل، چیمبر کی شفافیت اور صنعت و تجارت کے فروغ کا نام ہے۔ انہیں چاہیے کہ انتخابی منشور کے مطابق ٹھوس اقدامات کریں، ہر فیصلہ مشاورت سے کریں اور عہدوں کی تقسیم میں میرٹ کو مقدم رکھیں۔ اگر وہ تاجروں سے رابطہ جاری رکھیں گے تو اعتماد برقرار رہے گا ورنہ یہ کامیابی بھی وقتی ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری اہم ذمہ داری یہ ہے کہ چیمبر کو بیوروکریٹک انداز سے نکال کر تاجر دوست ادارہ بنایا جائے۔ ٹیکس، بجلی، گیس، سڑکوں، ٹرانسپورٹ، سیکیورٹی، برآمدات، ایس ایم ایز، ڈیجیٹلائزیشن اور نوجوان و خواتین تاجروں کے مسائل پر ٹھوس ایجنڈا تشکیل دینا ہوگا۔ چیمبر کو حکومت اور تاجروں کے درمیان مؤثر پل بننا چاہیے، نہ کہ صرف قراردادوں اور تقریروں کا مرکز۔ صنعتی اسٹیٹس، نمائشیں، تجارتی وفود، تربیتی ورکشاپس اور پالیسی سازی میں تاجروں کی شمولیت سے ہی حقیقی ترقی ممکن ہے۔
تیسری اہم ذمہ داری تنظیمی اتحاد اور احتساب ہے۔ فرینڈز آف ملتان کو اپوزیشن یا مختلف گروپوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا، کیونکہ چیمبر سب تاجروں کی مشترکہ میراث ہے۔ ہر ماہ یا سہ ماہی کارکردگی رپورٹ، مقررہ ٹائم لائنز اور کھلی نشستیں اعتماد کو مزید مضبوط کریں گی۔ سرپرست فیصل مختار، چوہدری ذوالفقار انجم اور شیخ فیصل سعید کی رہنمائی میں ٹیم کو اندرونی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا چاہیے۔
اگر فرینڈز آف ملتان نے تاجر برادری کے اس اعتماد کو خدمت، شفافیت اور کارکردگی میں بدل دیا تو یہ کلین سویپ ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ لیکن اگر توقعات پر پورا نہ اترے تو تاجر برادری احتساب کا حق بھی رکھتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کامیابی کو ذمہ داری سمجھا جائے اور ہر فیصلہ تاجر برادری کے مفاد میں کیا جائے۔ فرینڈز آف ملتان کو اب ثابت کرنا ہے کہ وہ صرف انتخابات جیتنے والے گروپ نہیں، بلکہ تاجروں کے حقیقی مسائل حل کرنے والی ٹیم ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں