اسلام آباد ہاتھ لگانے نہیں، ریلیف لینے آرہے ہیں، ایک ہی مطالبہ ہے لیوی ختم کرو: حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ 20 ستمبر سے ملک کے مختلف حصوں سے لوگ اسلام آباد کا رخ کرنا شروع کردیں گے، ہمارا مقصد کسی سے ٹکراؤ نہیں بلکہ عوام کے لیے ریلیف حاصل کرنا ہے، ہمارا بنیادی مطالبہ صرف یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کی جائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، لیکن حکومت عوام کو خاطر خواہ ریلیف دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے احتجاج کا مذاق اڑانے والے بھی اب حکومتی اقدامات پر سنجیدگی کا اظہار کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے سفید پوش طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ 20 ستمبر کو کراچی سے ٹرین مارچ شروع ہوگا جبکہ اسلام آباد کے مختلف اطراف سے بھی لوگ پہنچنا شروع ہوجائیں گے۔ ان کے بقول 23 اور 24 ستمبر کو جماعت اسلامی کے کارکن اسلام آباد پہنچیں گے اور ان کا مطالبہ لیوی کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی کو ہاتھ لگانے نہیں بلکہ عوام کے لیے ریلیف لینے آرہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عام پاکستانی کے مسائل بڑی سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ان کے مطابق حکومت، بڑی سیاسی جماعتوں، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے درمیان ایسا اتحاد موجود ہے جو عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ احتجاج کے حوالے سے حکومت کو اجازت کے لیے تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے متعدد مطالبات تسلیم کیے تھے، تاہم ان پر عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف کو بھی ناکافی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مناسب تیاری اور مکمل ورکنگ کے بغیر ریلیف پیکیج کا اعلان کیا، جبکہ عوام کو ان کا حق دینے کے بجائے ریلیف کو خیرات کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی احتجاج کے دوران راستے بند نہیں کرے گی اور 20 ستمبر کو اسلام آباد میں کوئی بڑا اجتماع نہیں ہوگا۔
ایم ڈی کیٹ کے طلبہ کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ طلبہ کا ٹیسٹ مقررہ طریقے سے ہو اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔
مکہ مکرمہ میں ڈرون حملے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہیں، اس لیے مکہ مکرمہ پر حملہ قابل مذمت ہے۔
سود اور ٹیکسوں کے معاملے پر امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جب آئی ایم ایف جاگیردار طبقے پر ٹیکس عائد کرنے کی بات کرتا ہے تو اس کا بوجھ غریب کسانوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق تنخواہ دار طبقے سے 700 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سود میں کمی سمیت 6 نکاتی تجاویز پیش کی تھیں۔ ان کے مطابق آئین میں سود کے خاتمے کی بات کرنے کے باوجود اسے جاری رکھنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ابتدائی مرحلے میں سود کی شرح میں 9 فیصد تک کمی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سود کی شرح میں ایک فیصد کمی کی جائے تو 594 ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے اور اس صورت میں پٹرولیم لیوی عائد کرنے کی ضرورت بھی کم ہوسکتی ہے۔
انہوں نے حکومت کے ریلیف پیکیج کو بھی ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام کی بڑی تعداد مستفید نہیں ہورہی۔ ان کے مطابق لیوی میں کمی کی جاتی تو اس کا فائدہ تمام صارفین کو براہ راست پہنچ سکتا تھا۔
پٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امریکا ایران جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ بھارت، بنگلا دیش اور چین نے ریفائنریوں سے معاملات طے کرکے اپنے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں حکومت نے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ لیوی وصول کی اور مشکل معاشی حالات میں بھی عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالا گیا۔
انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹیکس وصول کرنے والے ادارے نے ہدف سے 1300 ارب روپے کم ٹیکس جمع کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے اپنے اخراجات اور مراعات کم نہیں کیں جبکہ ڈیزل، جو معاشی سرگرمیوں کے لیے اہم ہے، اس پر بھی عوام کو مطلوبہ ریلیف نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند ہونے کے دوران حکومت نے اضافی آمدن حاصل کی اور عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اسی تناسب سے کمی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹی گاڑیاں زیادہ تر متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے، اس لیے پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ براہ راست عام شہری کے گھریلو بجٹ اور روزمرہ اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں