رورل ڈاکٹر آرگنائزیشن RDO ( دوسری قسط)

رورل ڈاکٹرز آرگنائزیشن، آر ڈی او کے پلیٹ فارم سے مختلف مواقع پر پریس کانفرنسز یا پریس ریلیز کے حوالہ سے ملتان کی صحافتی برادری سے میرے تعلقات کا آغاز ہوا تو مرحوم غضنفر شاہی، مرحوم ریحان برنی، مرحوم خان رضوانی، سلیم ناز صاحب، مسیح اللہ جام پوری، شوکت اشفاق، ظفر اللہ خان، مرحوم شیخ امین جیسی شخصیات سے تعارف ہوا پھر غضنفر شاہی مرحوم، شوکت اشفاق صاحب، مسیح اللہ جامپوری صاحب سے دوستانہ تعلقات ابھی تک قائم ہیں۔ رہا میاں میاں غفار صاحب کا معاملہ تو وہ میرے نزدیک دوست کے علاوہ بھائی اور استاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہی کی وجہ سے اج میں روداد زندگی یہ عنوان سے کالموں کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہوں۔ جس طرح انہوں نے مجبور کر کے اور مسلسل پیچھا کر کے خالد مسعود خان کو کالم نگار بنایا تھا اس طرح انہوں نے مجھے بھی مسلسل تحریک دی کہ آپ اچھی گفتگو کرتے ہیں اوپر سے اپ کی یادداشت بھی کمال کی ہے تو آپ کالم لکھا کریں۔
دوسرے اصحاب میں شکیل انجم صاحب ، ظفر آہیر صاحب، شاہد بھٹہ صاحب، کاشف اکبر صاحب، توقیر شاہ مرحوم سے بھی ملاقاتیں رہیں۔ جمشید رضوانی صاحب سے بھی تعلق رہا۔ ہو سکتا ہے کچھ نام بھول گیاہوں۔ پچھلے چالیس سالوں میں جس طرح میڈیکل کے شعبہ سمیت دوسرے شعبے زوال کا شکار ہیں۔ اور اقتدار کی جگہ کمرشل ازم لے لی ہے اسی طرح کی صورتحال صحافت کا بھی ہے مگر ابھی کچھ ہیں ’’جہاں میں اچھے میں‘‘ میاں غفار صاحب، شوکت اشفاق صاحب مسیح اللہ جام پوری صاحب سلیمی صاحب آج بھی صحافتی اخلاقیات اور اقدار کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے۔
میں نے 1986 میں ایک پریس کانفرنس میں جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ آر ڈی او کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا تھا اس کی بنیادی وجہ تو ڈاکٹر حضرات کی ملازمتوں کے حوالے سے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی قلیل تعداد کامیابی ہمکنار کی جاتی تھی جس کی میں نے تفصیل بھی بیان کی تھی۔ بعد میں 1989ء میں ایڈھاک ڈاکٹرز کی تحریک کے نتیجہ میں ایڈہاک ڈاکٹر کو تو مستقل کر دیا گیا جن میں یہ کالم نگار بھی شامل تھا۔ ملتان میں ڈاکٹر ملک نسیم صاحب نے اس میں فعال کردار ادا کیا تھا۔ جنوبی پنجاب کے مطالبہ پر میرے رشتہ داروں نے بھی اعتراض کیا کہ ہم تو پنجابی بولتے ہیں ہم جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبہ کی کیوں حمایت کریں میں نے جواب دیا تھا کہ ایک تو صوبہ انتظامی یونٹ ہوتا جس طرح تحصیل ضلع اور کمشنری ہوتی ہے دوسری بات یہ ہے یہاں کے سید، آرائیں، قریشی گجر قومیں کہتی ہیں کہ ہم ایران ، فلسطین، عرب اور ایشیا سے آئے ہیں تو پھر انہیں اپنی مادری اور آبائی زبانیں بولنی چاہئیں۔ اکثریت نے تو علاقائی زبانیں اپنا لیں جیسے پنجاب میں رہنے والے ہمارے آباؤ اجداد پنجابی بولتے تھے۔ اسی طرح اگر یہاں کی زبان ملتانی ہے (جسے آپ سرائیکی کہتے ہیں) تو پھر ہمیں بھی بولنی چاہئے۔ 1947ء کی ہجرت بہت بڑی تعداد میں ہوئی تقریباً ایک کروڑ مہاجرین یہاں سے ہندوستان اور ہندوستان سے پاکستان آئے تھے۔ اس کی وجہ زبان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ نئے صوبوں بارے میں پھر کبھی اپنا نقطہ نظر بیان کروں گا۔ میرا اس وقت مقصد یہ تھا کہ جنوبی پنجاب میں رہنے والوں مسائل ایک ہیں اور یہاں کے وسائل لاہور اور مرکزی پنجاب میں استعمال کئے جا رہے۔ جنوبی پنجاب کے وسائل یہاں استعمال نہ ہونے کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے لوگ احساس محرومی کا شکار ہیں اور یہ محرومی کا احساس دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ابھی تک ایسا ہی ہو رہا ہے اور جنوبی پنجاب کے کوئی بھی زبان بولنے والے اسی احساس محرومی کا شکار ہیں۔ اس وقت میں نے سرائیکی زبان کے دانشوروں سے عرض کیا تھا کہ ظاہری طور سرائیکی زبان ہی ترقی کرے گی کیونکہ یہ خواجہ فرید اور اسی زمین کے مٹی کی خوشبو سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں دوسری زبانوں کے لوگ ایک ہی وقت میں آئے ہیں۔ آہستہ آہستہ اس علاقے کے رنگ میں رنگ جائیں گے میں نے کہا پٹھان جو کہ پشتو بولتے اور کچھ آغا فیملی کے حضرات جو کہ فارسی بولتے تھے دو سو سال پہلے آئے تھے ان کے گھروں میں اس وقت بھی پرانے بزرگ پشتو اور فارسی بولنے والے موجود ہیں۔ میں چالیس سال پہلے کی بات کر رہا ہوں۔ انہیں بھی کچھ وقت لگے گا ان دنوں تاج محمد لنگاہ مرحوم سرائیکی صوبہ کی تحریک کے روح رواں تھے میں نے اپنے دوستوں سے کہا تھا ریڈیو ملتان سے سرائیکی زبان اور ادب کی بھی خدمت کی جاتی ہے جو کہ ہونی چاہئے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کی قرار داد بھی پنجاب اسمبلی سے منظور ہوئی مگر اسے بھی بہاولپور صوبہ علیحدہ بنانے کے نام اور کبھی جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام پر ایک سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال کیا اور یہاں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی بنیاد رکھ کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔ اگر بہاولپور علیحدہ صوبہ بنانا ہے تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ اصل مسئلہ وسائل اور اختیارات کا ہے جو کہ تخت لاہور چھوڑنے کو تیار نہیں ہے گزشتہ 40 سال سے جنوبی پنجاب کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں