ملتان(نمائندہ خصوصی )پنجاب پولیس میں محکمانہ احتساب کے عمل کے تحت گزشتہ 12 روز کے دوران مختلف رینکس سے تعلق رکھنے والے 588 افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں 178 اہلکاروں کی معطلی اور 53 کی ملازمت سے برطرفی کے فیصلے شامل ہیں جبکہ دیگر معاملات میں مختلف نوعیت کی محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔ تاہم ہر کیس کی نوعیت اور حتمی حیثیت متعلقہ محکمانہ ریکارڈ اور انکوائری کے نتائج سے ہی واضح ہوگی۔دستیاب معلومات کے مطابق کارروائی مختلف اضلاع میں کی گئی جن میں ملتان میں 30 ،لاہور میں 56، رحیم یار خان میں 37، ننکانہ صاحب میں 27 اور بھکر میں 25 افسران و اہلکار شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار پولیس ذرائع کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر اضلاع کی تفصیلات بھی محکمانہ ریکارڈ کے مطابق الگ الگ سامنے آسکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق کارروائی کی زد میں مختلف رینکس کے افسران و اہلکار آئے ہیں۔ ان میں 30 ڈی ایس پیز، 38 انسپکٹرز، 154 سب انسپکٹرز، 123 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 52 ہیڈ کانسٹیبلز، 147 کانسٹیبلز اور 44 ٹریفک پولیس اہلکار شامل بتائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکاروں کے معاملات میں محکمانہ قواعد کے تحت کارروائی کی گئی یا انکوائریز شروع کی گئیں- پولیس ذرائع کے مطابق 334معاملات میں کمانڈ کی سطح پر نشاندہی، 185 میں خفیہ رپورٹس جبکہ 69 کیسز میں شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کو کارروائی کی بنیاد بنایا گیا۔ بعض معاملات میں پولیس اہلکاروں کے طرزِ عمل، اختیارات کے استعمال اور دیگر محکمانہ امور سے متعلق شکایات یا رپورٹس سامنے آنے کا بتایا گیا ہے۔ ان معاملات میں عائد کسی بھی الزام کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک متعلقہ محکمانہ انکوائری مکمل نہ ہوجائے اور مجاز اتھارٹی کی جانب سے فیصلہ نہ کردیا جائے۔ذرائع کے مطابق بعض کیسز میں رشوت ستانی، غیر قانونی سہولت کاری، تفتیشی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دیگر شکایات کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق اس مرحلے پر سامنے نہیں آئی، جبکہ متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی حتمی نوعیت سرکاری ریکارڈ اور محکمانہ فیصلوں سے ہی متعین ہوگی- پنجاب پولیس کی جانب سے تھانوں اور لائسنسنگ دفاتر میں نگرانی اور انٹیگریٹی چیکس کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات بھی دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق زیادہ شکایات یا کارروائی والے اضلاع میں نگرانی بڑھانے کے ساتھ ساتھ زیر التوا محکمانہ انکوائریز کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔محکمانہ احتساب کے اس عمل میں معطلی یا انکوائری کو کسی افسر یا اہلکار کے خلاف الزام ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ سروس قوانین کے تحت متعلقہ اہلکار کو اپنا موقف پیش کرنے اور کارروائی کے دوران مقررہ قانونی و محکمانہ طریقہ کار اختیار کیے جانے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح ملازمت سے برطرفی کے فیصلے کی صورت میں بھی متعلقہ سروس رولز اور دستیاب قانونی چارہ جوئی کے طریقہ کار کا اطلاق ہوتا ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمانہ احتساب کا مقصد پولیس فورس میں نظم و ضبط، جواب دہی اور شکایات کے ازالے کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔ حالیہ کارروائی سے متعلق سامنے آنے والے اعداد و شمار کی مکمل تصدیق اور ہر کیس کی تفصیلی نوعیت متعلقہ سرکاری ریکارڈ، محکمانہ احکامات اور انکوائری رپورٹس کی دستیابی کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔







