سیشن جج خانیوال کا سول جج جہانیاں کے گھر چھاپہ، محبوس ماں بیٹی بازیاب، او ایس ڈی بنا دیا گیا

خانیوال (قوم نیوز) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خانیوال نے سول جج جہانیاں زین الرحمان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر 15 روز سے حبسِ بے جا میں رکھی گئی ماں بیٹی کو بازیاب کرا لیا۔ واقعہ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام نے سول جج جہانیاں کو او ایس ڈی بنا کر لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی جبکہ تھانہ جہانیاں کے ایس ایچ او راشد جٹ کو کلوز ٹو لائن کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سول جج جہانیاں زین الرحمان کے گھر مبینہ طور پر چوری کا واقعہ پیش آیا تھاجس کے بعد چوری کے شبہ میں ایک خاتون اور اس کی بیٹی کو حراست میں لیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں خواتین کو پولیس نے سول جج کی خالی رہائش گاہ میں مبینہ طور پر تقریباً 15 روز تک حبسِ بے جا میں رکھا۔ اس دوران خواتین پر مبینہ تشدد کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق خواتین کو مبینہ طور پر چوری کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے بعد معاملہ اعلیٰ عدلیہ کے ایک ضلعی افسر کے علم میں آیاجس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خانیوال نے خود کارروائی کرتے ہوئے سول جج کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران دونوں خواتین کو وہاں سے بازیاب کرایا گیا۔ واقعے کی نوعیت اور خواتین کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر زیرحراست رکھنے کے معاملے پر متعلقہ پولیس اہلکاروں اور دیگر ذمہ داران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیشن جج کی رپورٹ کے بعد زین الرحمان کو او ایس ڈی بنا کر لاہور بھیج دیا گیا ہےجبکہ تھانہ جہانیاں کے ایس ایچ او راشد جٹ کو کلوز ٹو لائن کردیا گیا۔ تاہم واقعے کے حوالے سے سرکاری طور پر مکمل تفصیلات اور حتمی الزامات تاحال سامنے نہیں آئے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق خواتین پر سول جج کے گھر سے مبینہ طور پر دس تولہ سونے کے زیورات چوری کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ذرائع نے کچھ مالِ مسروقہ برآمد ہونے کی بھی اطلاع دی ہے تاہم برآمدگی کی مقدار، نوعیت اور اس کے قانونی ریکارڈ سے متعلق باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔واقعے میں ایک طرف جج کے گھر مبینہ چوری اور دوسری جانب خواتین کو قانونی طریقہ کار کے بغیر طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے الزامات سامنے آنے کے باعث معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملزم کو حراست میں رکھنے کے لیے قانون میں مقررہ طریقہ کار اور عدالتی نگرانی بنیادی تقاضے ہیں اس لیے واقعے کے تمام پہلوؤں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہوں گی تاکہ ذمہ دار افراد کا تعین کیا جاسکے۔ذرائع کے مطابق معاملے کی مزید انکوائری اور متعلقہ افسران کے کردار کا تعین کیے جانے کا امکان ہے جبکہ خواتین کے خلاف چوری کے الزام اور ان کی مبینہ حراست سے متعلق قانونی کارروائی بھی سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم حتمی صورتحال متعلقہ حکام کی باضابطہ رپورٹ اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں