ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی فحش ویڈیوز وائرل، ملبہ پولیس پر ڈال دیا، ماموں جج کی سہولتکاری جاری

ملتان (کرائم سیل رپورٹ) پولیس کے تمام تر حفاظتی اقدامات اور پردہ پوشی کے باوجود ملتان کے ماہر امراض جلد ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی مختلف خواتین کے ساتھ انتہائی قابل اعتراض اور فحش ویڈیوز شہر بھر میں پھیل چکی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے شیئر کر رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ آئس کے کثرت سے استعمال اور نشے کے انجکشنوں کی وجہ سے ڈاکٹر احسن اظہر منیر ہوش میں نہیں رہتا تھا اور اپنے قریبی دوستوں کو بعض اوقات مدہوشی میں خود ہی اپنی ویڈیوز شیئر کر دیتا تھا مگر اس کے والدین اور خاندان کے لوگ اس کا ملبہ ویمن پولیس سٹیشن پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے اس کے موبائل کو قبضہ میں لینے کے بعد اسے فرانزک کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیباٹری لاہور بھجوایا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹراحسن اظہر منیر گزشتہ 10 سال سے مختلف قسم کے نشے کا عادی تھا اور وہ چرس سے شروع ہو کر ترقی کرتا آئس اور پھر انجکشنز کی طرف چلا گیا اور اس 10 سال کے عرصے میں اس کا والدین نے چھ مرتبہ تین تین ماہ کے لیے مختلف ر ی ہیبلیٹیشن سنٹرز میں داخل کروا کر علاج کروایا مگر وہ تین مہینے کاٹ کر واپس آنے کے بعد ایک ہی ہفتے کے اندر اندر دوبارہ نشے کی لت میں مبتلا ہو جاتا اور پھر اس کی یہ بھی غلیظ عادت تھی کہ وہ مختلف لڑکیوں کو بھی اپنی فحش ویڈیوز از خود شیئر کرتا تھا کیونکہ انجکشن لگانے کے بعد وہ ہوش میں ہی نہیں رہتا تھا اور جس وقت پولیس نے اسے گرفتار کیا اس وقت بھی اس کے ہاتھ میں جگہ جگہ سرنجیں لگانے کے نشانات موجود تھے جب کہ گرفتاری کے وقت بھی وہ نشے میں تھا۔ تمام صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ بعض لوگوں نے شہر میں پھیلائی گئی ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی فحش ویڈیوز میں اس کی ساتھی لڑکیوں کی شناخت کر لی ہے اور ملتان پولیس اسی بات سے انتہائی محتاط تھی حتیٰ کہ سی پی او ملتان صادق ڈوگر نے تفتیشی ٹیم کو اس حد تک سخت ہدایات جاری کی تھیں کہ کہ اگر ان ویڈیوز میں سے کسی لڑکی کی پہچان ہو گئی تو اس کے پاس موت کو گلے لگانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا لہٰذاسیکریسی کو انتہائی اولیت دی جائے مگر روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل کو ملنے والی معلومات کے مطابق جتنی بھی ویڈیوز مارکیٹ میں مختلف موبائلز پر شیئر ہو رہی ہیں وہ سب کی سب ڈاکٹر احسن اظہر وحید ہی کی طرف سے اپنے قریبی دوستوں اور بعض لڑکیوں کو بھجوائی گئی تھیں۔ بدکاری کے ملزم ڈاکٹر احسن اظہر وحید کے ماموں جو کہ ایڈیشنل سیشن جج ہیں، ابھی تک انہیں مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں حتیٰ کہ ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں اس کے لیے تین وقت کا کھانا گھر سے جاتا ہے اور اسے جیل کے ہسپتال میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ نشے کی عادت کی وجہ سے وہ اپنا نقصان نہ کر لے۔ اس لیے ڈاکٹر اسے خواب آور ادویات دے رہے ہیں کیونکہ ہوش میں وہ اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے اور جیل میں بھی اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے منتیں کرنے لگ جاتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں