رورل ڈاکٹر آرگنائزیشن RDO (قسط نمبر1)

1986ء میں میری ضلع ملتان واپسی ہوئی تو پہلی پوسٹنگ بنیادی مرکز صحت ملاں فقیر میں ہوئی۔ اس وقت میری طرح زیادہ تر ڈاکٹرز ہفتہ میں دو تین بار ہی ڈیوٹی پر جاتے تھے کیونکہ اس دور میں ڈاکٹر کی ماہوار تنخواہ تقریباً 33 سو روپے ہوتی تھی اور ڈاکٹرز اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے یا تو پرائیوٹ پریکٹس کرتے تھے یا کسی پرائیوٹ ہسپتال میں پارٹ ٹائم جاب کرتے تھے۔ دیہی علاقوں کے ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کا ماتحت عملہ بھی اکثر ڈاکٹروں کی حاضری پر زیادہ خوش نہیں ہوتا تھا کیونکہ ڈسپنسر اور ایل ایچ وی وغیرہ نے ہسپتال میں رہتے ہوئے اوپر کی کمائی کے اچھے خاصے ذرائع پیدا کر رکھے ہوتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ وہ عام طور پر مقامی ہی ہوتے تھے اس لیے ان کے روابط بہت مضبوط ہوتے تھے اس دور میں محکمہ صحت میں ادارہ جاتی کرپشن بھی عروج پر تھی کیونکہ صوبے بھر کے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات پہنچانے کیلئے صوبہ پنجاب میں مقامی لوگوں سے مفت زمین حاصل کرکے جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہزاروں دیہی مراکز صحت اور بنیادی مذاکر صحت تعمیر کرائے گئے تھے کہ افغان جنگ کی وجہ سے امریکی ڈالروں کی بھرمار تھی مگر تب بھی ان مراکز صحت میں کمیشن کا دور دورہ تھا اور ساتھ ہی اس دور میں ڈائریکٹر ہیلتھ پنجاب اور ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک میڈیکل سٹور سے کاروبار کا آغاز کرنے والے ایک شخص نے اس وقت کے ایک اہم ترین ادارے کے سربراہ کے نائب آفیسر کے داماد کے ساتھ مل کر ان ہسپتالوں میں دوائیوں ای سی جی اور ایکسرے پلانٹس کی سپلائی میں خوب کمائی کی تھی۔ یہ دونوں شخصیات دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں اس لیے نام لکھنا مناسب نہیں لیکن اس دور کے ڈاکٹر صاحبان ان دونوں ناموں سے خوب واقف ہیں۔ نیا دور بھی پاکستانی قوم مافیا، ادارہ جاتی کرپشن اور فیفا گروپوں کے ظہور سے روشناس ہوئی جو کہ اسلامی نفاذ کیلئے برسر اقتدار آئے تھے۔
لیجئے میں پھر بھٹک گیا۔ اس وقت ملتان کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جو کہ اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں، نے اپنے ہیڈ کلرک کے ذریعہ مختلف ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر صاحبان کو پیغام پہنچایا کہ آپ تقریباً 33 سو روپے تنخواہ وصول کرتے ہیں اور پورے مہینہ میں بمشکل دس دن ڈیوٹی پر جاتے ہیں لہٰذا اگر آپ سب نے نوکری جاری رکھنی ہے تو اپنی اپنی تنخواہ کا تیسرا حصہ یعنی 11 سو روپے ماہوار DHO صاحب کو ادا کرنا پڑے گا۔ ان حالات میں ضلع ملتان کے ڈاکٹر حضرات کا اجلاس ہوا جس میں میری یاداشت کے مطابق ڈاکٹر بشیر قمر، ڈاکٹر حبیب الرحمن، ڈاکٹر ریاض ملک، ڈاکٹر خواجہ غیاث، ڈاکٹر عباس نقوی، ڈاکٹر رانا ارشد، ڈاکٹر نجیب ملک، ڈاکٹر سلیم شیخ، ڈاکٹر نوید انجم، ڈاکٹر عبیداللہ، ڈاکٹر علیم بھٹی، ڈاکٹر چوہدری لیاقت، ڈاکٹر ریاض مسعود قریشی، ڈاکٹر سرور رشید، ڈاکٹر شفقت ، ڈاکٹر محمد اقبال، ڈاکٹر لیاقت ترین، سلیم باٹی، محمد اقبال، ڈاکٹر شاہد بخاری اور ڈاکٹر ناصر خاکوانی تھے۔ یہ اجلاس جن ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے منعقد ہوا وہ بھی چھوٹے عہدے کے انتظامی افسر تھے۔ میں دانستہ ان کا نام نہیں لکھ رہا مگر وہ سمجھ جائیں گے۔
ایک لحاظ سے آپ انہیں پیٹرن انچیف سمجھ لیں، میں نے تو چند ایک ڈاکٹر صاحبان کے، جو میرے ایف ایس سی کے کلاس فیلوز تھے یا ہاؤس جاب کے دوران جن سے ملاقات ہوئی بس انہیں ہی جانتا تھا۔ اسی اجلاس میں ایک باڈی تشکیل دی گئی جس کا مجھے چیئرمین نامزد کیا گیا میرے ساتھ ڈاکٹر حبیب الرحمن، ڈاکٹر بشیر قمر، ڈاکٹر ریاض ملک اور چند دوسرے دوست تھے اور طے پایا کہ DHO صاحب کے ساتھ اس بھتہ خوری کے بارے بات کر کے یہ بھتہ کم کروایا جائے۔ بنیادی مرکز صحت یعنی بی ایچ یو کے دو سو روپے، اور دیہی مرکز صحت یعنی آر ایچ یو کے تین روپے اور THQ یعنی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے پانچ سو ماہوار کی روایات تو موجود تھیں مگر بھتہ خوری کا یہ جو نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے، کو تبدیل کروانے کے لیے DHO یعنی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے ساتھ ملاقات کا وقت طے پا گیا۔
میں انہیں RHC ساہوکا ضلع وہاڑی میں اپنی پوسٹنگ کے دوران مل چکا تھا۔ ملاقات سے پہلے ایک واقعہ ہوا۔ ایک ڈاکٹر صاحب جو کہ دس بارہ مربع زمین کے مالک تھے اور دور میں ان کے پاس بڑی گاڑی بھی ہوتی تھی۔ وہ جب DHO صاحب سے ملنے گئے تو DHO صاحب نے ان کی بڑی عزت کی تھی حالانکہ وہ بڑے قد آور تھے۔
ان حالات میں جب ہماری ملاقات ہوئی مذکورہ ڈاکٹر صاحب تھوڑی دیر بعد پہنچے تو میں نے کہا کہ DHO صاحب یہ اپنے ہسپتال میں ڈیوٹی کرکے آئے ہیں۔ DHO صاحب سے جو میری گفتگو ہوئی وہ میں نہیں لکھنا چاہتا کیونکہ یہ خود ستائشی کے زمرے میں آتی ہے، بس اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں بھتہ نہ دینے کا ہمارا مطالبہ مان لیا گیا اور ساتھ ہی ہفتہ میں تین دن ڈیوٹی پر جانے پر بھی اتفاق ہو گیا اور DHO صاحب کے دورہ کی صورت میں ہمیں پیشگی اطلاع بھی دی جانے لگی۔
رورل ڈاکٹر آرگنائزیشن RDO کی یہ پہلی کامیابی تھی پھر ماہانہ اجلاس ہونا طے پایا۔ اجلاس میں چندہ اکٹھا کرکے کھانا دیا جاتا تھا۔ جس ڈاکٹر صاحب کو DHO نے بے عزت کیا تھا میری جب اس سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ صاحب جائیداد ہیں تو پھر آپ نے اتنی بے عزتی کیسے برداشت کر لی آپ کو تو اسے میز کرسی سے اٹھا کہ نیچے پھینک دینا چاہئے تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بزرگوں کا احترام کرتے ہیں۔ پھر بعد میں مجھے خیال آیا کہ ہمارے جاگیردار اور گدی نشین انگریزوں کی عطا کردہ جائیدادوں کی وجہ سے صرف غریبوں پر ہی اپنا رعب جما سکتے ہیں۔ طاقتوروں اور انتظامی آفیسروں کی خدمت گزاری تو ان کے جینز کا لازمی جز بن کر ان کے خون میں رچ بس چکی ہے اور آج بھی اسی طرح ہے۔ (جاری ہے)

شیئر کریں

:مزید خبریں