ملتان (جنرل رپورٹر)ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سالانہ انتخابات مکمل ہو گئے۔ پولنگ کا عمل صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ شہر کے تاجروں اور صنعتکاروں میں غیر معمولی گہما گہمی رہی اور بڑی تعداد میں ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ ایسوسی ایٹ اور کارپوریٹ کلاس کی ہر کیٹیگری میں 24 ممبران منتخب کیے جانے کے لیے فرینڈز گروپ اور فاؤنڈرز گروپ کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ ستر سال بعد روایتی صنعت کار خاندانوں کی اجارہ داری ختم ہونے کے باعث ان انتخابات کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ بڑے سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کو بھی گلی گلی ووٹروں تک پہنچنا پڑا۔الیکشن کو شفاف، غیر جانبدار، منظم اور پرامن بنانے کے لیے سکیورٹی اور نگرانی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولنگ مقام پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی گئی، غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی تھی، اور ووٹرز و امیدواروں کو موبائل فون، کیمرہ یا ایسی کوئی چیز لے جانے کی اجازت نہیں تھی جس سے ووٹ کی رازداری متاثر ہو۔ داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی، سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور بیلٹ پیپر کی تصویر بنانے پر پابندی سمیت تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔چیمبر کے اراکین نے امید ظاہر کی کہ نئی قیادت تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل کے حل، کاروباری ماحول کی بہتری اور ملتان کی تجارتی و صنعتی ترقی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔مبصرین کے مطابق ان انتخابات کا اثر صرف چیمبر کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملتان کی مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوگا۔ نئی قیادت کو توانائی بحران، ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ، برآمدات میں کمی، چھوٹے تاجروں کے تحفظ اور صنعتی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ جیسے چیلنجز درپیش ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ حکومتی اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کرکے کاروباری برادری کے اعتماد کو بحال کرے گی۔







